اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کراچی کے ایک پرانے علاقے صدر میں ایک خستہ حال حویلی واقع تھی، جس کا نام تھا "ریشم منزل"۔ یہ حویلی کئی سالوں سے بند پڑی تھی، یہاں کبھی روشنی نہیں ہوتی تھی، لیکن مقامی لوگ اب بھی اس کے بارے میں سرگوشیوں میں بات کرتے تھے۔
کہا جاتا تھا کہ اس حویلی میں ایک قیمتی پینٹنگ تھی — ایک خالی فریم — جسے دیکھنے کے بعد کوئی بھی شخص ایک ہفتے کے اندر لاپتہ ہو جاتا تھا۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اس فریم میں اصل میں کیا تھا، یا کیوں وہ خالی تھا۔ سب صرف ایک بات جانتے تھے: وہ فریم بدقسمتی لاتا ہے۔
عائشہ ایک نوجوان آرٹ اسٹوڈنٹ تھی، جو پراسرار فنون اور پرانی کہانیوں میں دلچسپی رکھتی تھی۔ جب اس نے "خالی فریم" کے بارے میں سنا، تو اس کے تجسس نے اُسے مجبور کر دیا کہ وہ اس راز کی تہہ تک پہنچے۔
ایک شام وہ اپنے کیمرہ، نوٹ بک، اور فلیش لائٹ کے ساتھ ریشم منزل پہنچی۔ حویلی کا دروازہ زنگ آلود تھا، لیکن کھلا ہوا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو ہر طرف دھول، مکڑیوں کے جالے اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
لیکن ایک چیز صاف تھی — ایک دیوار پر ایک سنہرا فریم لگا ہوا تھا… مکمل خالی۔
عائشہ نے فریم کی تصویر لی، مگر کیمرے کی اسکرین پر کچھ عجیب نظر آیا — فریم خالی نہیں تھا، بلکہ اس میں ایک پرانی تصویر تھی، ایک خاتون کی جو رو رہی تھی۔
وہ حیران ہوئی۔ اس نے دوبارہ فریم کی طرف دیکھا — کچھ نہیں۔ صرف خالی دیوار۔
کیمرے میں — وہی خاتون۔ اور اب وہ آہستہ آہستہ کیمرے کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
عائشہ نے فوراً نوٹ بک نکالی اور لکھنا شروع کیا:
> "یہ فریم شاید عام آنکھوں سے نظر نہ آنے والی تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ کوئی روح ہے؟"
اتنے میں ایک عجیب سی سرگوشی گونجی:
"تم نے دیکھ لیا… اب وقت کم ہے…"
عائشہ ڈری نہیں — وہ جانتی تھی یہ راز خطرناک ہے، لیکن اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی۔
اگلے دن وہ شہر کے پرانے ریکارڈز کی لائبریری گئی۔ کئی گھنٹے تحقیق کے بعد، اسے ایک اخبار کی پرانی کٹنگ ملی جس میں لکھا تھا:
> "1921 میں، ریشم منزل کے مالک کی بیٹی 'مہرالنساء' پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی۔ آخری بار اُسے گھر کے فریم والے کمرے میں دیکھا گیا تھا۔"
ساتھ میں ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر تھی — وہی چہرہ جو عائشہ نے فریم میں دیکھا تھا۔
عائشہ اگلی رات دوبارہ حویلی میں گئی۔ اس بار اس نے فریم کے پاس جا کر آہستہ سے کہا:
"مہرالنساء… کیا تم یہاں ہو؟"
دیوار پر موجود خالی فریم اچانک چمکنے لگا۔ عائشہ کے اردگرد فضا سرد ہونے لگی، اور ایک مدھم آواز آئی:
"میری تصویر چرا لی گئی… میری روح قید ہے…"
پھر عائشہ کو ایک پرانی لکڑی کی دراز دکھائی دی جو فریم کے نیچے موجود تھی۔ اس نے کھولا تو اندر ایک چھوٹی آئینہ نما شیشہ پینٹنگ تھی — جس میں ایک مکمل اور خوش چہرہ عورت مسکرا رہی تھی۔
پینٹنگ کے پیچھے ایک نوٹ تھا:
> "جس نے میری اصل تصویر چُرائی، اُس نے مجھے خالی کر دیا۔ مجھے واپس رکھ دو، تاکہ میں آزاد ہو سکوں۔"
عائشہ نے وہ پینٹنگ فریم میں لگا دی۔ اچانک فریم روشن ہو گیا، کمرہ ایک لمحے کے لیے جگمگا اٹھا، اور پھر ہر چیز خاموش ہو گئی۔
فریم اب خالی نہیں تھا — اس میں ایک خوبصورت مسکراتی عورت کی تصویر تھی۔
اسی لمحے حویلی کے دروازے پر تالا خود بخود لگ گیا۔ اور ایک آخری سرگوشی سنائی دی:
"شکریہ… اب میں آزاد ہوں…"
عائشہ نے پلٹ کر دیکھا — فریم کے سامنے ایک پرچھائی کھڑی تھی، جو آہستہ آہستہ روشنی میں تحلیل ہو گئی۔
اختتام
ریشم منزل اب بند تو ہے، مگر اس کے اندر کوئی قید نہیں۔
عائشہ نے اس راز کو تو حل کر لیا…
مگر ایک سوال اب بھی باقی ہے:
"پینٹنگ آخر کس نے چرائی تھی؟"
Comments
Post a Comment