Posts

Showing posts from September, 2024

اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

اک چراغ جلتا ہے

Image
اک چراغ جلتا ہے   کل پھیکے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی  گاڑی کھڑی تھی۔۔۔! سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔!  جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔! میں جانتا تھا پھیکا پہلی  فرصت میں آ کر  مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔!  وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔!  حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔! صاحب جی کئی سال  پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی جو  پٹھی پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔! جس کا اِکو اِک پُتر تھا  وقار۔۔۔! میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو  کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!  اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی وقار اور میں پنجویں  جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔! سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ  میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔! صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا  تھا۔۔۔! ماسٹر جی ڈانٹ کر کار بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم  کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔! اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔! میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا  اور اچارکھولا۔۔۔! صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک  لگتی ہے ن...

دنیا کا واحد گناہ جہالت ہے!

Image
"دنیا کا واحد گناہ جہالت ہے!" ‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..  "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.." شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے..  بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا..  شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.  مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے. شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..  عورت نے جواب دیا..  "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی...

معاشرہ

Image
 معاشرہ وہ ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا ، آج صبح  جب سبزی لے کر وہ گھر جا رہا تھا تو ایک اور  سبزی والے سے دام پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ تو  سبزی مہنگے داموں خرید رہا ہے۔خیر گھر پہنچا  سبزی نکالی تو پتا چلا کہ دوکاندار نے آدھی سبزی  تو گلی سڑی ڈال دی ہے۔وہ سخت غصے کے عالم  میں تیار ہو کر دفتر پہنچا ، تو ایک ٹھکیدار اپنا کوئی  بل ٹھیک کروانے کے لیئے آ گیا ، وہ شخص سبزی والے  کی وجہ سے پہلے ہی غصے میں بیٹھا تھا ٹھیکدار سے  بولا تمھارا بل ٹھیک نہیں ہو سکتا۔   ٹھیکدار نے رشوت کی پیشکش کی تو وہ سوچنے  لگا کہ اگر سبزی والا دو نمبری کر سکتا ہے تو میں  کیوں نہیں۔ چناچہ اُس نے پیسے لیئے اور بل ٹھیک کر دیا۔  وہ ٹھکیدار رشوت دے کر اپنے آفس پہنچا وہ اِن  دنوں اپنے ایک کلائنٹ کا گھر تعمیر کر رہا تھا اُس  نے کلائنٹ کو کال کی اور کہا کہ سیمنٹ اور سریا  کم پڑ گیا ہے مزید پیسے کی ضرورت ہے، حالانکہ  سیمنٹ اور سریا پہلے ہی مناسب مقدار میں  موجود تھا۔ اُس کا کلائنٹ جو ایک ڈاکٹر تھا وہ  سمجھ گیا کہ ٹھکید...

دلہن کے خواب

Image
اکلاپا شادی کے دن جوں جوں قریب آرہے تھے  پیا ملن کی خوشی اس کے نکھار میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔۔ آنے والے سہانے دنوں کے رنگین سپنوں میں کھوئی وہ گھر بھر میں چہکتی پھرتی، پاوں زمین پر ٹکتے نہ تھے چلتی تو یوں لگتا جیسے ہواوں میں اڑنے لگی ہو۔۔۔ یہ پیا ملن کی خوشی بھی کتنی خوبصورت ہوتی ہے ۔ایک نئی زندگی کا سہانا سفر اپنے من پسند ہمسفر کے ساتھ طئے کرنے کی سوچ ہی اسے سرشار کئے دے رہی تھی۔ آخر کار بابل انگنا سے وداع کی گھڑی بھی آن پہنچی۔ آج اس کے سپنوں کا راجکمار اسے لینے آ گیا تھا۔ کلاہ باندھے، اس کے عروسی لباس کے ہم رنگ شیروانی میں ملبوس دلہا جب سٹیج پر آیا تو ہم جولیوں نے اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھا۔ لجائی شرمائی دلہن کو اپنے راجکمار کے پہلو میں بٹھایا گیا۔ تو خوشی اور حیا کے امتزاج سے اس کے سرخ گال مزید سرخ ہو گئے۔ رسومات کی ادائیگی کے بعد دلہن کو قرآن  اور والدین و بزرگوں کی دعاوں کے سائے میں رخصت کر دیا گیا۔ اپنے سجے سنورے کمرے میں اسے اجنبیت کا کوئی احساس نہیں ہوا اور ہوتا بھی کیوں کہ یہ اب اس کا گھر تھا۔۔جسے اس نے اپنے ہمسفر کے ساتھ سجانا سنوارنا تھا۔ دونوں نے قدم قدم پہ ...

دُکھوں اور پریشانیوں کا علاج

Image
دُکھوں اور پریشانیوں کا علاج دُکھوں اور پریشانیوں کا علاج ایک درویش کے پاس ایک نوجوان  آیا اور سوال کیا کہ بابا  جی میں اپنی زندگی سے بہت پریشان ہوں براہ مہربانی  مجھے اس پریشانی سے نکلنے کا طریقہ بتائیں درویش نے  اس نوجوان کا سوال سن کر  اس سےکہا بیٹا  پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو  اور اسے پیو  نوجوان نے ایسا ہی کیا پانی میں نمک ڈال کر  پیا تو درویش نے  اس نوجوان سے پوچھا اس پانی کا ذائقہ  کیسا لگا  ؟ نوجوان تھوكتے ہوئے بولا اس پانی کا بہت ہی خراب  ذائقہ ہے ایک دم کھارا درویش مسکراتے ہوئے بولا ایک بار پھر اپنے  ہاتھ میں ایک مٹھی نمک لو اور میرے پیچھے پیچھے آؤ  دونوں  آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے اور تھوڑی دور جا کر صاف پانی سے  بنی ایک جھیل کے سامنے رک گئے اور بولے چلو اب اس نمک کو پانی  میں ڈال دو  درویش نے نوجوان کو جھیل میں نمک ڈالنے کی ہدایت  دی تو نوجوان نے ایسا ہی کیا جس کے بعد درویش فرمانے لگے کہ  اب اس جھیل کا پانی پیو نوجوان پانی پینے لگا ایک بار پھر درویش  نے...