اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
رات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ پرانے حویلی نما اسکول کی گھنٹیاں بند ہو چکی تھیں، اور ایک ایک کر کے تمام بچے جا چکے تھے۔ صرف ایک بچی باقی تھی — آمنہ۔ وہ اپنی ڈرائنگ مکمل کرنے میں مصروف تھی۔ آمنہ ایک خاموش، تنہا رہنے والی بچی تھی جسے اکثر استاد نظر انداز کر دیتے تھے۔ اسکول کے پیچھے جنگل میں موجود پرانی لائبریری کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور تھیں، لیکن آمنہ نے ان کہانیوں کو ہمیشہ بچوں کی بنائی ہوئی باتیں سمجھا۔
مگر اُس دن کچھ مختلف تھا۔
جب آمنہ نے اپنی ڈرائنگ مکمل کر لی اور بستہ اٹھایا تو اسکول کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ چوکیدار کا کہیں پتا نہیں تھا۔ وہ گھبرا گئی، مگر اچانک اُسے ایک آواز سنائی دی — "ادھر آؤ..." آواز بہت دھیمی، مگر واضح تھی۔ آمنہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو اسکول کی پچھلی طرف واقع پرانی لائبریری کا دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔
آمنہ جیسے کسی بے اختیار قوت کے زیرِ اثر وہاں چل پڑی۔ لائبریری میں داخل ہوتے ہی سرد ہوا کی ایک لہر اس کے جسم میں اتر گئی۔ اندر مکمل اندھیرا تھا، لیکن ایک کونے سے ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی۔ وہ آگے بڑھی تو دیکھا ایک بہت پرانی میز پر ایک سرخ رنگ کی کتاب رکھی ہوئی ہے۔ کتاب کے اوپر سنہری حرفوں میں لکھا تھا:
"جو ایک بار پڑھ لے، وہ کبھی واپس نہ جائے۔"
آمنہ نے ہاتھ بڑھا کر کتاب کھولی تو جیسے کمرہ زندہ ہو گیا۔ دیواروں پر سائے رقص کرنے لگے۔ اچانک کتاب کے اندر سے ایک سایہ نکلا — لمبا، سیاہ، آنکھوں کے بغیر، صرف ایک دھواں سا وجود۔
سایہ بولا، "تم نے مجھے جگایا ہے۔ اب تم میری ہو۔"
آمنہ پیچھے ہٹنے لگی، لیکن دروازہ بند ہو چکا تھا۔ سایہ آہستہ آہستہ اُس کے قریب آیا اور بولا، "میرا نام کوئی نہیں جانتا۔ میں صدیوں سے قید ہوں، اور اب تم میری جگہ لو گی۔"
آمنہ نے چیخنے کی کوشش کی، مگر آواز جیسے اس کے گلے میں ہی دفن ہو گئی۔ اچانک کتاب کے صفحے از خود پلٹنے لگے، اور آخری صفحے پر اُس کی تصویر نمودار ہو گئی — وہی ڈرائنگ جو اُس نے اسکول میں بنائی تھی، اب اس کتاب کا حصہ بن چکی تھی۔
سایہ آمنہ کے اندر اتر گیا۔
۔۔۔۔
اگلی صبح، اسکول میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا، سوائے اس کے کہ آمنہ غائب تھی۔ استادوں نے سمجھا وہ بیمار ہوگی۔ مگر اگلے دن جب ایک اور بچہ، علی، اسکول میں دیر تک رکا، تو وہ بھی غائب ہو گیا۔ اور پھر ہر ہفتے ایک بچہ غائب ہونے لگا۔
لائبریری کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا، مگر رات کو وہاں سے سسکیاں سنائی دیتیں، اور کبھی کبھی ہنسی — ایسی ہنسی جو انسان کی روح تک کو چیر دے۔
ایک دن اسکول میں ایک نئی بچی، نور، داخل ہوئی۔ وہ مختلف تھی — بہت ذہین، بہت جری۔ اُس نے ان سب بچوں کی گمشدگی کے بارے میں سُن رکھا تھا۔ ایک دن وہ جان بوجھ کر دیر تک اسکول میں رکی۔ جیسے ہی اندھیرا چھایا، وہ لائبریری کی طرف بڑھی۔
دروازہ خود بخود کھلا۔ نور اندر داخل ہوئی، کتاب ویسے ہی میز پر رکھی تھی۔ مگر جیسے ہی اُس نے ہاتھ بڑھایا، سایہ نمودار ہوا۔ لیکن اس بار سایہ رک گیا۔ اُس نے کہا، "تم وہ نہیں جسے میں چاہتا ہوں۔ تمہیں یہاں نہیں ہونا چاہیے۔"
نور نے کہا، "تم نے ان سب بچوں کو کہاں چھپایا؟"
سایہ ہنسا، "میں نے کسی کو نہیں چھپایا۔ وہ خود میرے اندر چھپ گئے۔"
نور نے ایک جھٹکے سے کتاب اٹھائی اور پلٹ کر بھاگی۔ سایہ پیچھے آیا، مگر نور نے اسکول کے مرکزی ہال میں آکر کتاب کو آگ لگا دی۔ چیخوں کی ایک قافلہ فضا میں بلند ہوا۔ سایہ جھلسنے لگا، اور بچوں کی تصویریں ایک ایک کر کے کتاب سے نکلتی گئیں۔
آگ کے شعلوں میں آمنہ کی شبیہ آخری بار نظر آئی۔ وہ رو رہی تھی، "شکریہ... مجھے آزاد کر دیا..."
۔۔۔۔۔
نور نے وہ اسکول ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا، مگر کبھی کبھار جب رات زیادہ سناٹا لاتی، وہ دروازے کے باہر وہی آواز سنتی — "ادھر آؤ..."
Comments
Post a Comment