اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
رات کی خاموشی میں اسٹیشن کی پرانی سیٹیاں اب بھی ویسے ہی سنائی دیتی تھیں جیسے برسوں پہلے۔ لیکن آج کی رات کچھ مختلف تھی۔ احمد اپنی زندگی کے سب سے عجیب لمحے کا سامنا کرنے والا تھا، اور اسے خود بھی خبر نہ تھی۔
احمد ایک صحافی تھا، سچ کی تلاش میں ہر حد پار کر جانے والا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں سب کچھ منطقی اور قابلِ وضاحت ہوتا ہے، جب تک کہ وہ ملی۔
پہلی ملاقات اسٹیشن پر ہوئی۔ وہ تنہا پلیٹ فارم پر بیٹھی تھی، سرد رات میں بغیر کوٹ کے۔ آنکھیں... وہ خاکستری آنکھیں، جیسے دھند میں چھپے کوئی سوال۔ احمد نے اُس سے پوچھا، "آپ کو سردی نہیں لگ رہی؟"
اس نے پلٹ کر دیکھا، جیسے اس کی آواز سے کوئی نیند سے جاگا ہو۔ "سردی جسم کو لگتی ہے، روح کو نہیں۔"
احمد کو اس کا انداز عجیب مگر دلکش لگا۔ اس نے کہا، "میں احمد ہوں، اور تم؟"
"نام رکھنا ضروری ہے؟" وہ مسکرائی۔
"کبھی کبھی ہوتا ہے، خاص طور پر جب دل پہ اثر ہو جائے۔"
وہ ہنس پڑی۔ "پھر مجھے 'روشنی' کہہ لو۔"
روشنی کے ساتھ احمد کی ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔ وہ کبھی اسٹیشن پر، کبھی پرانی لائبریری میں، اور کبھی اچانک احمد کے فلیٹ کے باہر نمودار ہو جاتی۔ اس کی باتوں میں عجیب سی گہرائی ہوتی، جیسے وہ وقت کے پرے سے بات کر رہی ہو۔
ایک دن احمد نے پوچھا، "تم کہاں رہتی ہو؟"
"میں وقت کے دریا میں تیرتی ہوں۔ ٹھہرنے کی اجازت نہیں مجھے۔"
"کیا مطلب؟"
"میں ماضی دیکھ سکتی ہوں۔ اور کبھی کبھار، مستقبل بھی۔ مگر میری سزا یہ ہے کہ میں کہیں نہیں رک سکتی۔"
احمد کو لگا جیسے وہ کوئی افسانوی کردار ہو، مگر اس کی موجودگی، اس کی آنکھیں — سب حقیقت تھی۔
٭٭٭
ایک دن روشنی بہت خاموش تھی۔ احمد نے پوچھا، "کیا تم نے میرے بارے میں کچھ دیکھا ہے؟"
وہ نظریں چراتی رہی۔ پھر آہستہ بولی، "میں نے دیکھا ہے... تم بہت اداس ہو۔ تم کھو دیتے ہو کسی کو جو تمہارے لیے سب کچھ ہوتا ہے۔"
"کیا میں اُسے بچا نہیں سکتا؟"
"نہیں۔ کچھ تقدیریں لکھی جا چکی ہوتی ہیں، احمد۔ مگر ایک راستہ ہے، اگر تم قربانی دو۔"
"کیا قربانی؟"
"محبت کی سب سے بڑی قیمت — تم اُسے ہمیشہ کے لیے بھلا دو گے، اور وہ تمہیں کبھی نہیں پہچانے گی۔ مگر وہ زندہ رہے گی۔"
احمد تذبذب کا شکار ہو گیا۔ "اگر وہ مجھے یاد ہی نہ رکھے تو... کیا فائدہ؟"
روشنی نے اس کی طرف دیکھا۔ "یہی تو اصل محبت ہے۔ اپنے حصے کی آگ خود جھیل لینا، اور دوسرے کو بچا لینا۔"
٭٭٭
اگلی صبح، احمد نیند سے جاگا تو سب کچھ بدلا ہوا تھا۔ اسٹیشن وہی تھا، فلیٹ بھی، مگر روشنی کا کوئی نشان نہ تھا۔ تصاویر میں بھی وہ کہیں نہیں تھی۔ نوٹس بُک، میسیجز — سب خالی۔ جیسے وہ کبھی وجود ہی نہ رکھتی ہو۔
احمد پاگل ہونے لگا۔ لوگوں سے پوچھا، سب نے کہا، "کون روشنی؟ تم تو ہمیشہ اکیلے رہے ہو۔"
مہینے گزر گئے۔
ایک دن وہ اسٹیشن پر گیا۔ ایک لڑکی وہاں بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں خاکستری تھیں، اور وہ احمد کو دیکھ کر مسکرائی۔ مگر اس میں پہچان کا شائبہ نہ تھا۔
"ہیلو، کیا آپ بھی ٹرین کا انتظار کر رہے ہیں؟" اُس نے پوچھا۔
احمد نے سر ہلایا۔ "ہاں، شاید ایک ایسا سفر جس میں ماضی نہیں، صرف خاموشی ہو۔"
"آپ عجیب بات کرتے ہیں،" وہ ہنسی، اور احمد کی دنیا ایک لمحے کو روشن ہو گئی۔
٭٭٭
Comments
Post a Comment