اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
صنف: قتل، نفسیاتی تھرلر، اسرار
❖ کردار:
ڈاکٹر ثمرین – ماہرِ نفسیات، جو قاتلوں کے ذہن پڑھتی ہے
انسپکٹر وقار – تفتیشی افسر، سخت مگر منصف
زریاب – مشتبہ شخص، جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ "مردہ آنکھوں" سے قتل ہوتا دیکھتا ہے
نامعلوم قاتل – جس کا چہرہ کوئی نہیں پہچانتا، مگر آنکھیں… وہ ہمیشہ کھلی رہتی ہیں
---
❖ آغاز:
لاہور میں پچھلے تین ہفتوں میں تین بےگناہ افراد قتل ہو چکے تھے۔ تینوں کا ایک ہی انداز میں قتل ہوا:
آنکھیں کھلی ہوئی
چہرے پر خوف جما ہوا
اور ہاتھ میں ایک پرچی:
> "تمہیں مردہ آنکھوں نے دیکھ لیا۔ اب تم مردہ ہو۔"
میڈیا نے اسے نام دیا: "مردہ آنکھوں کا قاتل"
---
❖ پہلا موڑ
ڈاکٹر ثمرین کو انسپکٹر وقار نے تفتیش میں شامل کیا۔
ایک رات انہیں ایک عجیب کیس ملا — زریاب نامی نوجوان نے خود پولیس کو فون کر کے کہا:
"میں نے قتل ہوتے دیکھا ہے… مگر قاتل کو نہیں۔ صرف اس کی آنکھیں۔ مردہ آنکھیں۔"
وہ ہسپتال میں زیر علاج تھا، ذہنی مریض مانا جاتا تھا، مگر اس کا کہنا تھا:
"وہ آنکھیں میری نیند میں آتی ہیں، اور اگلا قتل دکھاتی ہیں۔ میں جانتا ہوں اگلا قتل کب ہو گا…"
---
❖ دوسرا قتل (پیش گوئی)
زریاب نے ڈاکٹر ثمرین کو ایک اسکیچ دیا — ایک چہرہ، اور ایک گلی کا نام:
"میو باغ گلی نمبر 4"
اور وقت: رات 2:13 بجے
وقار نے مذاق میں کہا:
"یہ خواب کی باتیں ہیں، ڈاکٹر صاحبہ۔"
لیکن اگلی صبح واقعی اسی جگہ سے ایک عورت کی لاش ملی — آنکھیں کھلی ہوئی، اور ہاتھ میں وہی پرچی۔
ڈاکٹر ثمرین حیران تھی۔
زریاب خواب میں کیسے دیکھ سکتا ہے قتل؟
---
❖ "مردہ آنکھیں" کیا ہیں؟
زریاب نے بتایا کہ جب وہ 10 سال کا تھا، اس نے اپنے باپ کو اپنی ماں کو مار ڈالتے دیکھا — اس کے بعد اسے نیند میں صرف آنکھیں نظر آتی تھیں — جن میں زندگی نہ تھی، بس نفرت۔
"وہ آنکھیں مجھے بتاتی ہیں کہ کون مرے گا، اور کیسے۔ میں چاہ کر بھی بچا نہیں سکتا۔"
ڈاکٹر ثمرین سوچ میں پڑ گئی۔
یہ "مردہ آنکھیں" محض علامت ہیں یا کوئی نفسیاتی علامت؟
یا واقعی… قاتل کی شناخت کا ذریعہ؟
---
❖ آخری سراغ
ثمرین نے زریاب کے اسکیچز پر تحقیق کی، تو معلوم ہوا کہ ہر قتل سے پہلے وہ بالکل درست جگہ اور چہرے کی خاکہ نگاری کرتا تھا۔
ایک خاکہ میں کچھ عجیب تھا — قاتل کے ہاتھ پر ایک ٹیٹو۔
انسپکٹر وقار نے پرانے ریکارڈ دیکھے — اور ایک پرانے پولیس کانسٹیبل کا ریکارڈ ملا:
"شفیق" — جو ذہنی توازن کھونے کے بعد لاپتا ہو گیا تھا، اس کے ہاتھ پر بھی وہی ٹیٹو تھا۔
---
❖ سامنا "مردہ آنکھوں" سے
آخرکار، ایک رات زریاب پھر چیخ کر اٹھا:
"اب وہ مجھے مارنے آ رہا ہے… میری آنکھوں سے! اب میں آخری ہوں!"
ڈاکٹر ثمرین اور وقار فوری زریاب کے فلیٹ پہنچے — دروازہ اندر سے بند تھا۔
دروازہ توڑا گیا۔
زریاب فرش پر گرا پڑا تھا — زندہ، مگر کانپتا ہوا۔
سامنے دیوار پر خون سے لکھا تھا:
> "اب تم نے مردہ آنکھوں کو دیکھ لیا۔ تم بھی مردہ ہو، اندر سے۔"
کمرے کی کھڑکی سے ایک سایہ بھاگتا نظر آیا — مگر چہرہ نہیں دکھا…
صرف آنکھیں — خالی، بےرنگ، اور سرد۔
---
❖ اختتام (غیر متوقع)
پولیس آج تک قاتل کو نہ پکڑ سکی۔
زریاب پاگل خانے میں بند ہے، ہر رات چیختا ہے:
"میں نہیں دیکھنا چاہتا وہ آنکھیں!"
ڈاکٹر ثمرین نے قاتل کا اسکیچ بنوایا — اور اس خاکے میں آنکھیں بالکل اپنی جیسی دیکھیں۔
ایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے خود سے کہا:
"کیا یہ سب میرے اندر تو نہیں؟"
کیونکہ مردہ آنکھیں…
ہمیشہ کہیں نہ کہیں چھپی ہوتی ہیں —
شاید آپ کے بھی اندر۔
---
❖ اختتامیہ پیغام:
قاتل کبھی صرف باہر نہیں ہوتا…
کبھی کبھی وہ خاموشی سے اندر جاگتا ہے۔
اور جب وہ آنکھیں کھولتا ہے — آپ کی آنکھیں —
تو سوال یہ ہوتا ہے…
کیا آپ بھی قاتل بن چکے ہیں؟
Comments
Post a Comment