اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
گاؤں "برکھا پور" اپنی خاموش فضا، قدیم روایات اور صوفیانہ قصوں کے لیے مشہور تھا۔ یہاں لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ لیکن ایک بات سب کو معلوم تھی — مغرب کے بعد "پرانے کنویں" کے پاس سے کوئی نہیں گزرتا۔ وہ کنواں برسوں سے بند تھا، اس کے گرد جھاڑیاں اگ آئی تھیں، لیکن گاؤں والوں کا ماننا تھا کہ وہاں "سرخ دوپٹے والی عورت" کی روح بھٹکتی ہے۔
کہا جاتا تھا کہ جس نے بھی اس عورت کو دیکھا، یا اس کے سرخ دوپٹے کو چھوا، وہ یا تو پاگل ہو گیا، یا پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
"ندا" ایک نوجوان لڑکی تھی جو شہر سے تعلیم مکمل کر کے اپنے نانا نانی کے پاس گاؤں آئی تھی۔ وہ پڑھی لکھی، باشعور اور سائنسی ذہن کی مالک تھی۔ جب اس نے سرخ دوپٹے والی عورت کی کہانی سنی تو ہنسی میں اڑا دیا۔
"یہ سب توہم پرستی ہے، ان کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں!" ندا نے کہا۔
لیکن نانی نے سنجیدگی سے جواب دیا، "ندا بیٹا، کچھ باتیں کتابوں میں نہیں ملتیں، وہ صرف تجربے سے سمجھی جاتی ہیں۔"
ایک رات، بجلی چلی گئی۔ پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوب گیا۔ ندا، جو موبائل پر کتاب پڑھ رہی تھی، بور ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ باہر تھوڑی سی ٹہلائی جائے۔ چاندنی رات تھی، اور اس کی ہمت نے اسے گاؤں کی آخری حدود تک پہنچا دیا — پرانے کنویں تک۔
وہیں ایک سرخ رنگ کچھ جھاڑیوں میں چمکتا دکھائی دیا۔ ندا کو تجسس ہوا۔ وہ آگے بڑھی۔ وہ ایک پرانا، مگر چمکتا ہوا دوپٹہ تھا، جو کنویں کے سرے پر اڑ رہا تھا۔
ندا نے ہنستے ہوئے کہا، "یہی ہے وہ بدنام دوپٹہ؟"
جیسے ہی اس نے دوپٹے کو ہاتھ لگایا، ایک زوردار چیخ فضاء میں گونجی۔ زمین ہلنے لگی۔ ندا پیچھے ہٹی، لیکن دوپٹہ اس کے ہاتھ میں آ چکا تھا، اور... اب وہ ہل نہیں پا رہی تھی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
ندا ایک ویران حویلی میں کھڑی تھی۔ دیواریں خون سے رنگی ہوئی تھیں، چھت سے الٹی لٹکی ہوئی لاشیں جھول رہی تھیں۔ وہ حیران و پریشان ہو کر چلنے لگی۔ اچانک اس کے سامنے ایک عورت آ گئی — سفید چہرہ، کالی آنکھیں، اور سرخ دوپٹہ۔
"تو نے میرے دوپٹے کو چھوا، اب تو میرا قرض ہے۔" وہ عورت بولی۔
ندا نے کانپتے ہوئے پوچھا، "تم کون ہو؟"
"میں ریشماں ہوں، جسے 50 سال پہلے اس کنویں میں پھینک دیا گیا تھا۔ میرا گناہ صرف اتنا تھا کہ میں گاؤں کے زمیندار کی بیٹی سے محبت کرنے لگی تھی۔ مجھے بدکردار کہا گیا۔ میرے بال کاٹے گئے، جسم پر کوڑے برسائے گئے، اور کنویں میں زندہ دفن کر دیا گیا۔"
ندا نے کہا، "میں تمھاری مدد کر سکتی ہوں۔"
ریشماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "تم صرف تب میری مدد کر سکتی ہو، جب تم میرے انصاف کا وعدہ کرو۔"
ندا نے اثبات میں سر ہلایا۔
ندا اچانک ہوش میں آ گئی۔ وہ پھر کنویں کے پاس تھی، ہاتھ میں دوپٹہ تھامے۔ وہ بھاگ کر نانی کے پاس گئی اور ساری بات بتائی۔ نانی کا چہرہ زرد ہو گیا۔
"تم نے اسے جگا دیا ہے... اب تمہیں اسے انصاف دینا ہوگا۔ ورنہ وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی۔"
ندا نے گاؤں کے بڑوں کو جمع کیا، زمیندار کی اولاد کو سامنے لایا اور ان سب کے سامنے ریشماں کے ساتھ ہوئے ظلم کی حقیقت بیان کی۔ کچھ پرانے بزرگوں نے آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو لیے سچائی کی تصدیق کی۔
زمیندار کے پوتے نے سب کے سامنے معافی مانگی، اور پرانے کنویں پر ریشماں کے نام کی یادگار بنائی گئی۔
ندا نے دوپٹہ اس یادگار پر رکھ دیا۔
اگلی رات، ندا کو خواب میں ریشماں ملی۔ اس نے مسکرا کر کہا،
"میرا قرض ادا ہو گیا... اب میں آزاد ہوں۔ شکریہ!"
ندا کی آنکھ کھلی، تو اس نے دیکھا... سرخ دوپٹہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو چکا تھا۔
Comments
Post a Comment