اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
گاؤں "چندیارہ" اپنے سادہ لوح لوگوں اور ہرے بھرے کھیتوں کے لیے مشہور تھا، مگر اس کے بیچوں بیچ ایک پرانا، گہرا کنواں تھا جسے "کالا کنواں" کہا جاتا تھا۔ کہتے تھے، اس کنویں سے کسی زمانے میں پانی نکالا جاتا تھا، مگر پچھلے بیس برسوں سے یہ بند پڑا تھا۔ پرانے لوگ کہتے تھے کہ وہاں کوئی سایہ رہتا ہے۔ کوئی اس کے پاس جائے تو واپس نہیں آتا۔
مگر آج کل کے نوجوان ان باتوں پر ہنستے تھے۔ خاص طور پر ارسلان، جو شہر سے تعلیم حاصل کر کے حال ہی میں گاؤں لوٹا تھا۔ اُس نے سچ ماننے سے انکار کر دیا اور دوستوں کو چیلنج دیا کہ وہ رات کے بارہ بجے کالے کنویں پر جائے گا اور ویڈیو بھی بنائے گا۔
رات کا وقت، آسمان پر کالے بادل، ہواؤں میں سنسناہٹ۔ ارسلان نے ہاتھ میں ٹارچ اور موبائل لیا، اور خاموشی سے گھر سے نکل گیا۔ دوستوں کو یقین تھا کہ وہ صرف ڈراوا دے رہا ہے، مگر ارسلان سنجیدہ تھا۔
کنواں گاؤں کے پرلے کنارے ایک ویران کھیت میں تھا۔ وہاں تک پہنچتے پہنچتے، ارسلان کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے پیچھے چل رہا ہو، مگر پیچھے مڑ کر دیکھا تو کچھ نہیں۔ دل کی دھڑکن تھوڑی تیز ہوئی، مگر وہ ہنسا، "ارسلان، ڈر مت، یہ سب دماغ کا وہم ہے۔"
کنویں کے قریب پہنچ کر اس نے ٹارچ روشن کی۔ کنواں سیاہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جیسے کوئی گہری کھائی ہو۔ ارسلان نے موبائل نکالا اور ویڈیو بنانا شروع کی:
"یہ ہے کالا کنواں، جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہاں بھوت رہتے ہیں۔ مگر آج میں ثابت کروں گا کہ سب جھوٹ ہے۔"
اچانک، ایک ٹھنڈی سانس کی آواز آئی، جیسے کسی نے پیچھے سے پھونک ماری ہو۔ ارسلان نے چونک کر پیچھے دیکھا، مگر کچھ نہیں تھا۔ مگر جب وہ واپس کنویں کی طرف مڑا، تو کنویں کا ڈھکن کھلا ہوا تھا، حالانکہ وہ تو بند تھا!
ٹارچ کی روشنی کنویں میں ڈالی تو نیچے کچھ ہلتا نظر آیا۔ ایک سایہ، جو آہستہ آہستہ اوپر آ رہا تھا۔ ارسلان کی سانس رکنے لگی، ہاتھ کانپنے لگے، مگر وہ ہلا نہیں۔ سایہ واضح ہوتا گیا—لمبے بال، خون سے بھرا چہرہ، آنکھیں سرخ جیسے انگارے، اور بدن سے ٹپکتا کالا پانی!
"کون ہو تم؟" ارسلان کی آواز بمشکل نکلی۔
سایہ بولنے کے بجائے کنویں سے باہر نکل آیا اور ہوا میں تیرنے لگا۔ ارسلان نے چیخ ماری اور بھاگنے لگا، مگر زمین جیسے اس کے قدموں سے چپک گئی۔ سایہ اس کے بالکل سامنے آ گیا، اور کہنے لگا:
"تم نے ہماری نیند خراب کی ہے، اب تم کبھی نہیں جا سکو گے..."
اگلی صبح، ارسلان کے گھر والوں نے دیکھا کہ وہ بستر پر نہیں تھا۔ گاؤں میں تلاش ہوئی، مگر وہ کہیں نہ ملا۔ اس کے موبائل کی ویڈیو ملی، جو کنویں کے قریب گری ہوئی تھی۔ ویڈیو میں آخری منظر تھا:
کنویں کے کنارے کھڑا ارسلان، پیچھے ایک سایہ، اور پھر اچانک کیمرہ گرنے کی آواز، اور چیخ…
گاؤں میں ایک بار پھر کالے کنویں کی دہشت پھیل گئی۔ لوگ کہتے ہیں، رات کے وقت کنویں سے کسی کے رونے اور ہنسنے کی آوازیں آتی ہیں۔ کچھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ارسلان کو کنویں کے کنارے بیٹھے دیکھا، مگر اس کی آنکھیں خالی تھیں، جیسے روح نکل چکی ہو۔
بوڑھا مجاور، جو مسجد کے ساتھ رہتا تھا، کہتا ہے:
"یہ کنواں دراصل ایک پرانا قبرستان ہے، جہاں ایک عورت کو زندہ دفن کیا گیا تھا۔ اس کی روح اب تک بھٹک رہی ہے، اور جو بھی اس کی نیند میں خلل ڈالتا ہے، وہ اسے اپنے ساتھ نیچے لے جاتی ہے..."
آج بھی، اگر کوئی کالا کنواں دیکھے، تو وہاں ایک سایہ نظر آتا ہے۔ کچھ کہتے ہیں وہ ارسلان کی روح ہے، جو اب دوسروں کو نیچے بلاتی ہے، تاکہ وہ اکیلا نہ رہے۔
گاؤں میں یہ اصول بن چکا ہے:
"جو کالا کنواں دیکھے، خاموشی سے گزر جائے۔ آواز نہ دے، نہ چیلنج کرے، ورنہ واپس نہیں آئے گا۔"
Comments
Post a Comment