اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
10 سال بعد…
دنیا اب بدل چکی تھی، مگر جنم دن پر گمشدگیاں بند نہ ہوئیں۔ ہر سال، کچھ بچے اچانک غائب ہو جاتے۔ والدین دیواروں پر "G" کا نشان دیکھتے، اور آئینے میں وہی سرخ آنکھیں… مگر پولیس کچھ نہ کر پاتی۔
لیکن ایک دن… ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کا نام تھا "نائلہ"
نائلہ عام بچوں جیسی نہیں تھی۔ وہ پیدا ہوتے ہی عجیب نظروں سے لوگوں کو گھورتی، اور صرف ایک لفظ بولتی:
"جی..."
نائلہ کے ماں باپ نے اس کے رویے کو نظر انداز کیا۔ مگر جب وہ 10 سال کی ہوئی، ہر جنم دن پر ایک خواب دیکھتی:
> "ایک جلتا ہوا گھر، ایک سایہ، ایک لڑکی گڑیا بن کر قید ہوتی، اور ایک عورت چیخ کر کہتی —
'نائلہ! تُو میری بیٹی ہے!'"
نائلہ نے اپنی ماں سے سوال کیا:
"میری اصل ماں کون تھی؟"
کئی دباؤ کے بعد اس کی ماں نے بتایا:
> "تمہیں ہم نے یتیم خانے سے گود لیا تھا۔ تمہارے ساتھ ایک پرانی، بند گڑیا تھی۔ جس پر لکھا تھا:
'میری بیٹی کو بچانا، ورنہ وہ بھی میری طرح ہو جائے گی… — جی'"
نائلہ اب سمجھ گئی کہ وہ صرف ایک بچی نہیں، بلکہ گڑیا کی روحانی اولاد تھی — "سائے کی بیٹی"۔
---
اب ایک فیصلہ ہونا تھا:
کیا نائلہ اپنے اندر چھپی طاقت کو جگا کر اس لعنت کو ختم کرے؟
یا وہ خود اگلی گڑیا بن جائے؟
نائلہ نے خوابوں کی رہنمائی میں ایک پرانا کمرہ دریافت کیا — جہاں جی کا آخری وجود موجود تھا:
ایک آئینہ۔
آئینے میں جی کی ادھ جلی شکل ظاہر ہوئی:
"نائلہ، میری بیٹی… آؤ میرے پاس… تم ہی میری وارث ہو۔ دنیا نے مجھے قید کیا، تم مجھے آزاد کرو گی!"
نائلہ نے آنکھیں بند کیں، اور گہری سانس لی۔ جب آنکھیں کھولیں، اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔
اس نے کہا:
"نہیں، میں تمہاری وارث نہیں — میں تمہارا انجام ہوں!"
نائلہ نے اپنی ہتھیلی پر خون کے چند قطرے گرائے، اور آئینہ ٹوٹنے لگا۔ ہر قید شدہ روح چیختی ہوئی آزاد ہو گئی۔ آسمان کڑکنے لگا۔ اور جی… پہلی بار خاموش ہو گئی۔
---
خاتمہ…؟
نائلہ اب گاؤں کی پہاڑیوں میں رہتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ گڑیا کی زبان جانتی ہے، سائے اس کی بات مانتے ہیں، اور اگر کوئی بچہ جنم دن پر روتا ہے…
تو نائلہ خود آ کر اس کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔
"جنم دن کا تحفہ… قبول ہے؟"
Comments
Post a Comment