اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
20 سال قبل..
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام تھا گلزارا — جسے سب "جی" کہہ کر بلاتے تھے۔ جی نہایت معصوم اور پیاری تھی، لیکن اس کے ماں باپ عامل تھے۔ وہ لوگ روحوں اور سایوں کو قابو میں لانے کے کام کرتے تھے۔ ایک دن، جی کھیلتے کھیلتے اپنے ماں باپ کی عبادت گاہ میں داخل ہو گئی، جہاں ایک خطرناک عمل جاری تھا — ایک سیاہ روح کو گڑیا میں قید کیا جا رہا تھا۔
روح نے معصوم جی کو دیکھ کر کہا:
"تو ہی میری نئی جسمانی قید بنے گی۔ تمہارے ذریعے میں ہمیشہ زندہ رہوں گی..."
اُس دن کے بعد جی نے ہنسنا چھوڑ دیا۔ کچھ مہینے بعد، پورے گاؤں میں ایک ایک کر کے بچے غائب ہونے لگے۔ جب کسی نے تحقیق کی، تو پتہ چلا کہ گلزارا خود اب ایک انسان نہیں رہی۔ وہ اب گڑیا اور روح کا ملاپ بن چکی تھی — ایک لعنت۔
بچوں کی سالگرہ پر وہ ایک تحفے کی شکل میں آتی، ان کی روح اپنے اندر جذب کرتی، اور اگلے جسم کی تلاش میں نکل جاتی۔
اور یہ ہی گڑیا بعد میں زارا کو تحفے میں ملی۔
---
موجودہ وقت میں…
ماہم اور زارا اب شہر میں رہتی تھیں، مگر خوابوں میں بار بار ایک ہی بات سنائی دیتی:
"جی واپس آ رہی ہے…"
اسی دوران، شہر میں ایک نئی لڑکی کا جنم دن آیا — عائلہ۔ اسے ایک پرانا، خاک آلود لکڑی کا باکس گفٹ میں ملا۔ جیسے ہی اس نے کھولا، گڑیا اندر بیٹھی تھی — مسکراتی ہوئی، جیسے برسوں سے کسی کا انتظار کر رہی ہو۔
عائلہ کو اگلی رات نیند میں چلنے کی عادت پڑ گئی۔ وہ دیواروں پر "G" لکھتی، آئینے سے باتیں کرتی، اور خود سے کہتی:
"میرا اصل جنم دن اب آنے والا ہے..."
زارا اور ماہم نے جب یہ خبریں سنیں، تو سمجھ گئیں:
جی واپس آ گئی ہے۔
انہوں نے تحقیق شروع کی، اور ایک قدیم کتاب ملی جس میں لکھا تھا:
> "صرف وہی گڑیا کو روک سکتا ہے جو پہلی بار اس کے سامنے آیا ہو — یعنی جی کے ماں باپ کا خون۔"
زارا اور ماہم اب ایک آخری جنگ کے لیے تیار ہوئیں۔ انہوں نے عائلہ کو بچانے، اور جی کی روح کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
رات کے 12 بجے، گڑیا نے عائلہ کو مکمل طور پر اپنے قابو میں لے لیا۔ لیکن جیسے ہی زارا نے مقدس نشان گڑیا پر لگایا، جی کی چیخ نکلی:
"یہ سب میری غلطی نہیں تھی… مجھے قید کیا گیا تھا… مجھے بچایا نہیں گیا..."
ماہم چیخی:
"تو تم نے بدلہ لیا؟ بچوں سے؟"
جی نے کہا:
"مجھے بچوں کی مسکراہٹیں یاد تھیں… اسی لیے میں ان کی روحیں اپنے ساتھ رکھتی تھی… تا کہ وہ کبھی بوڑھے نہ ہوں، کبھی نہ مریں…"
زارا نے دعا مکمل کی، اور آخری لفظ ادا کیا۔ گڑیا ٹوٹ گئی۔ عائلہ بے ہوش ہو گئی، اور جی کی چیخ فضا میں تحلیل ہو گئی۔
اب ہر چیز ختم ہو چکی تھی… یا شاید نہیں۔
---
آخری منظر…
ایک بچہ اپنے پرانے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔ اچانک اسے ایک ٹوٹی ہوئی گڑیا ملی۔ وہ اس پر ہاتھ پھیرتا ہے، اور گڑیا آہستہ سے اپنی آنکھ کھولتی ہے…
"ہیپی برتھ ڈے..."
Comments
Post a Comment