اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ کہانی ہے شاذیہ کی، جو ایک نوجوان ماہرِ نباتات (botanist) تھی۔ وہ نئی نئی پودوں کی اقسام پر تحقیق کرتی تھی اور اکثر تنہا جنگلوں میں سفر کرتی۔ اسے پرانے درختوں سے خاص دلچسپی تھی۔
ایک دن اُسے شمالی پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک "بولنے والے درخت" کی خبر ملی — لوگ کہتے تھے کہ رات کو وہ درخت سرگوشیاں کرتا ہے… اور جو اُسے سن لے، وہ پاگل ہو جاتا ہے یا گم ہو جاتا ہے۔
شاذیہ، اپنے کیمرے اور سائنسی آلات کے ساتھ، اُس گاؤں پہنچی۔ گاؤں کے لوگ سخت منع کرنے لگے:
> "بی بی، وہ درخت جن کا سایہ بھی لعنت ہوتا ہے… وہاں جانا موت کو آواز دینا ہے!"
مگر شاذیہ نے سب باتوں کو نظر انداز کیا۔
اگلی صبح وہ جنگل میں داخل ہوئی۔ جنگل خاموش تھا، ہوا رکی ہوئی، پرندے غائب، اور سبزیاں سیاہی مائل۔
کچھ میل اندر چلنے کے بعد… اُسے وہ درخت دکھائی دیا۔
درخت پر کوئی پتے نہیں تھے — صرف سوکھے سیاہ تنے اور ٹوٹتی ہوئی شاخیں۔ مگر سب سے عجیب بات:
درخت کے تنوں پر جیسے چہرے بنے ہوئے تھے — چیختے، روتے، سسکتے ہوئے چہرے۔
شاذیہ جیسے ہی قریب پہنچی، اُسے ہلکی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں:
> "مدد کرو… واپس مت جاؤ… ہم قید ہیں…"
پہلے تو اُس نے سمجھا شاید کوئی جانور ہے، مگر آوازیں درخت کے اندر سے آ رہی تھیں۔
اُس نے کیمرہ آن کیا — اور جیسے ہی اس نے ریکارڈنگ شروع کی…
درخت کی جڑیں آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگیں۔
شاذیہ کو لگا کہ اُس کے اردگرد کا ماحول بدلنے لگا ہے۔ دن کی روشنی اچانک کم ہو گئی۔ درخت کا سایہ لمبا ہو کر اُس کے پیروں تک آ گیا۔
پھر اچانک… زمین ہلی… اور وہ نیچے گر گئی — سیدھی ایک کھائی میں۔
کھائی اندھیرے سے بھری ہوئی تھی، اور نیچے موجود تھیں — سینکڑوں پرانی انسانی ہڈیاں۔
درخت کی آواز آئی:
> "یہ وہ لوگ ہیں… جنہوں نے میری آواز سنی… اور واپس جانا چاہا…"
شاذیہ نے نکلنے کی کوشش کی، مگر مٹی اُس کے ہاتھوں سے پھسلنے لگی۔ تب اچانک، ایک چمکتا ہوا پتا نیچے گرا۔
پتے پر ایک پیغام لکھا تھا:
شاذیہ کے پاس کچھ نہیں تھا — سوائے اپنے نوٹ بک، کیمرہ اور ایک چھوٹے خنجر کے جو وہ پودوں کی کٹائی کے لیے لائی تھی۔
درخت کی سرگوشی تیز ہوتی جا رہی تھی:
> "یا تو خود کو دو… یا اپنی آنکھیں… یا اپنی یادیں…"
شاذیہ نے فیصلہ کیا — اُس نے اپنے نوٹ بک کے تمام صفحات پھاڑ دیے، جس میں اُس کی برسوں کی تحقیق، خواب اور زندگی کا ریکارڈ تھا۔
اور جیسے ہی وہ صفحات درخت کی جڑوں پر گرے — زمین ہلنا بند ہو گئی، روشنی واپس آ گئی… اور شاذیہ واپس جنگل کے کنارے پر آ گئی۔
شاذیہ واپس شہر آئی۔ وہ محفوظ تھی… مگر کچھ عجیب تھا۔
وہ اپنا نام، اپنا پتہ، اپنی تحقیق — سب بھول چکی تھی۔
بس ایک چیز اُسے یاد رہی:
> "ایک درخت تھا… جو بولتا تھا… اور کچھ مانگتا تھا…"
لوگ کہتے ہیں وہ آج بھی خاموش سی رہتی ہے، درختوں کی تصویریں بناتی ہے…
اور کبھی کبھار سرگوشی میں کہتی ہے:
"تم سن رہے ہو…؟ وہ پھر سے بولنے لگا ہے…"
Comments
Post a Comment