اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ایک چھوٹے سے گاؤں "نورپور" میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس کا نام بی بی عارفہ تھا۔ وہ نہایت نیک دل، سادہ، اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنے والی خاتون تھیں۔ بی بی عارفہ کے شوہر کا انتقال کئی سال پہلے ہو چکا تھا، ان کے کوئی بچے نہ تھے، مگر وہ پورے گاؤں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتی تھیں۔
ہر صبح وہ نمازِ فجر کے بعد اپنے چھوٹے سے صحن میں ایک تازہ تندوری روٹی رکھ دیتی تھیں اور آہستہ سے کہتیں:
**"جو بھی بھوکا ہے، لے جائے۔"**
یہ عمل برسوں سے جاری تھا۔ روٹی لینے والا کون ہوتا تھا؟ یہ بی بی عارفہ کبھی نہ جان سکیں۔ وہ بس نیت کی صفائی پر یقین رکھتی تھیں۔
اسی گاؤں میں ایک اور شخص رہتا تھا، نام تھا سلیم۔ وہ درمیانی عمر کا مرد تھا، کاروبار میں ناکامی کے بعد تلخ مزاج بن چکا تھا۔ اُس کے دل میں لوگوں کے لیے نفرت، بدگمانی، اور شک بھرا ہوا تھا۔ اسے بی بی عارفہ کا یہ روزانہ روٹی رکھنا بالکل بے وقوفی لگتا تھا۔
ایک دن وہ بی بی عارفہ کے پاس آیا اور طنزیہ لہجے میں بولا:
**"اماں، یہ کیا روزانہ تماشا لگا رکھا ہے؟ کون ہے جو آ کر تمھاری روٹی اٹھاتا ہے؟ اللہ کے نام پر دینا چھوڑو، یہ سب فریب ہے!"**
بی بی عارفہ نے مسکرا کر کہا:
**"بیٹا، اگر نیت صاف ہو تو نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔"**
سلیم غصے سے پلٹا اور دل میں سوچا، **"ایک دن میں ثابت کر کے رہوں گا کہ یہ سب جھوٹ ہے!"**
دن گزرتے گئے، سلیم کی حالت مزید خراب ہوتی گئی۔ اس کے کاروبار بند ہو چکے تھے، قرضے چڑھ چکے تھے، اور لوگ اس سے دور ہونے لگے تھے۔ جسمانی کمزوری بھی بڑھنے لگی، وہ بیمار رہنے لگا۔
ایک دن وہ اپنے بستر پر بے بس پڑا تھا۔ کئی دن سے کچھ کھایا نہ تھا۔ جسم تھرتھرا رہا تھا، مگر زبان سے الفاظ نہ نکل رہے تھے۔
اسی دوران اس کے دل میں خیال آیا:
**"شاید وہی روٹی آج میری جان بچا دے..."**
بہت مشکل سے وہ اُٹھا، کپکپاتے قدموں سے بی بی عارفہ کے گھر کی طرف چل دیا۔
وہ جیسے ہی بی بی عارفہ کے دروازے پر پہنچا، دیکھا کہ وہی روٹی صحن میں رکھی ہے۔ اُسے دیکھتے ہی بی بی عارفہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر کہا:
**"بیٹا! تمھاری حالت تو بہت خراب ہے، آؤ، بیٹھو، کھاؤ۔"**
سلیم نے کانپتے ہاتھوں سے روٹی اُٹھائی، آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ وہ روٹی کھانے لگا جیسے اسے زندگی واپس مل رہی ہو۔ چند لقموں کے بعد اس کی سانسیں بحال ہونے لگیں۔
بی بی عارفہ نے کہا:
**"دیکھا؟ اللہ کا دیا کبھی ضائع نہیں جاتا۔ یہ روٹی کسی ایک کی نہیں، سب کی ہے۔"**
سلیم نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ اس کے دل میں کئی سالوں سے جمع نفرت جیسے پانی میں دھل گئی۔ اُس دن کے بعد وہ روز بی بی عارفہ کے گھر آتا، صفائی کرتا، لکڑیاں لاتا، پانی بھرتا۔
رفتہ رفتہ اس نے گاؤں کے دوسرے ضرورت مند لوگوں کی خدمت شروع کر دی۔ وہ اب روزانہ خود روٹیاں تیار کر کے بی بی عارفہ کے ساتھ باہر رکھتا۔
کچھ ماہ بعد سلیم مکمل صحت یاب ہو چکا تھا۔ اللہ نے اس کی نیت میں برکت دی۔ اسے ایک چھوٹا روزگار ملا، جو دن بہ دن ترقی کرتا گیا۔ اب وہ ایک کامیاب، نیک دل، اور ہر دل عزیز انسان بن چکا تھا۔
ایک دن بی بی عارفہ نے اس سے کہا:
**"بیٹا، یہ سب تمھاری محنت اور خلوص کا صلہ ہے۔ مگر یاد رکھو، اس سب کی بنیاد وہ ایک روٹی تھی، جو اللہ کے نام پر رکھی گئی تھی۔"**
سلیم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے بی بی عارفہ کے قدم چوم لیے۔
اخلاقی سبق:
* نیکی کا صلہ ضرور ملتا ہے، چاہے دیر سے ہی کیوں نہ ہو۔
* خلوص نیت سے کیا گیا عمل کبھی ضائع نہیں جاتا۔
* دلوں کو بدلنے کے لیے بس ایک موقع کافی ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment