اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
احمد اور کاشف، دونوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پرانی کھڑکی جسے "اندھی کھڑکی" کہا جاتا تھا، بند ہو چکی تھی… لیکن اب وہ صرف ایک کھڑکی نہیں رہی تھی۔ وہ ایک دروازہ بن چکی تھی — ایک ایسے جہان کا راستہ، جہاں وقت، جسم، اور روح سب قید ہو چکے ہیں۔
علیزہ، احمد کی چھوٹی بہن، ہر رات خواب میں احمد کی چیخیں سنتی۔
> "علیزہ! کھڑکی بند نہیں ہوئی… میں قید ہوں! وہ مجھے چھوڑے گی نہیں…"
ایک دن علیزہ نے فیصلہ کیا کہ وہ گاؤں جا کر نانی کا پرانا گھر دیکھے گی۔ اسے کچھ جوابات چاہیئے تھے۔
وہ گھر ابھی بھی ویسا ہی تھا — سنسان، بوسیدہ، اور خاموش… مگر جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، گھڑی نے رات کے 12 بجائے۔
دروازہ خود بند ہو گیا۔
اوپر سے ایک سرسراہٹ آئی۔ علیزہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسی کمرے میں پہنچی۔ کھڑکی بند تھی، مگر اس کے شیشے پر اندر سے "WELCOME BACK" خون سے لکھا تھا۔
علیزہ نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے کھڑکی کو چھوا… اور اچانک شیشہ پگھلنے لگا — جیسے آئینہ بن گیا ہو۔
شیشے میں علیزہ نے احمد کو دیکھا —
نیم برہنہ، زخمی، اور آنکھوں میں خالی پن۔
"واپس چلی جاؤ، علیزہ… یا وہ تمہیں بھی لے جائے گی!"
علیزہ پیچھے ہٹی، لیکن تب ہی کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا — وہی عورت، لمبے بال، سرخ آنکھیں، جس کے ہاتھ میں ایک پرانی خونی گڑیا تھی۔
"میں تمہاری خالہ ہوں…"
علیزہ حیران ہو گئی۔
عورت نے بتایا:
> "یہ کھڑکی اصل میں قبر ہے — ہر پچھلی نسل کا اندھیرا اس میں قید ہے۔ تمہارے نانا نے ایک بار اسے کھولا تھا، اور پہلی بار ایک سایہ باہر آیا تھا۔ وہ سایہ کبھی واپس نہ گیا… اس نے مجھے، تمہاری ماں کو، اور اب تمہارے بھائی کو چھینا…"
> "لیکن تم فرق ہو، علیزہ۔ تم وہ ہو جو اسے بند کر سکتی ہو۔"
علیزہ کو ایک پرانا آئینی تعویذ دیا گیا، اور کہا گیا:
> "اگر تم نے سائے کو آئینے میں قید کر لیا… تو کھڑکی ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ پہلے تمہیں دیکھ لے… تو تم بھی ان ہی میں شامل ہو جاؤ گی۔"
علیزہ کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی، تعویذ ہاتھ میں۔
آئینہ دوبارہ پگھلا… سایہ اب واضح ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں کئی چہرے تھے: احمد، کاشف، نانی، اور… وہ عورت۔
سایہ آگے بڑھا۔ علیزہ نے تعویذ اٹھایا…
سایہ چیخا: "نہیں! تم میری ہو!"
ایک زور دار چیخ، روشنی، اور شیشہ چٹخنے کی آواز…
Comments
Post a Comment