اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
زارا کے لاپتہ ہونے کے ایک سال بعد، اس کے گاؤں میں عجیب واقعات ہونے لگے۔ لوگ راتوں کو گڑگڑاہٹ، چیخیں، اور بچوں کی ہنسی سنتے، حالانکہ آس پاس کوئی بچہ نہ ہوتا۔ بعض گھروں میں سرخ آنکھوں والی گڑیا اچانک نمودار ہو جاتی، پھر اچانک غائب ہو جاتی۔
زارا کی چھوٹی بہن، ماہم، اب پندرہ سال کی ہو چکی تھی۔ اس کے دل میں ہر وقت ایک عجیب سا بوجھ رہتا، جیسے کوئی اسے ہر وقت گھور رہا ہو۔ وہ اکثر زارا کے کمرے میں جا کر بیٹھتی، اور سوچتی کہ آخر وہ کہاں چلی گئی۔
ایک دن ماہم کو زارا کی الماری کے اندر ایک پرانا نوٹ ملا:
> "اگر تم یہ پڑھ رہی ہو، تو میری چیخ تم تک پہنچی ہے۔ وہ گڑیا صرف کھلونا نہیں، وہ ایک روح ہے۔ مجھے بچا لو… اس سے پہلے کہ وہ تمہیں لے جائے…"
ماہم کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اسی رات، اسے اپنے کمرے میں وہی گڑیا نظر آئی — جس کی آنکھیں اب پہلے سے بھی زیادہ سرخ تھیں۔ گڑیا نے دھیرے سے سر گھمایا اور کہا:
"جنم دن مبارک ہو، ماہم..."
ماہم پیچھے ہٹی، لیکن گڑیا نے فضا میں تیرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ لمحہ بھر میں، ماہم بے ہوش ہو گئی۔
جب وہ جاگی، تو وہ کسی پرانے، اندھیرے گھر میں تھی۔ در و دیوار پر خون سے لکھے جملے تھے:
> "ہم سب وہی ہیں جو کبھی تحفے میں دیے گئے..."
یہاں ہر کمرہ ایک الگ کہانی سناتا تھا: ایک بچہ، ایک تحفہ، اور پھر غائب ہو جانا۔ ماہم کو زارا کی آواز سنائی دی:
"ماہم! مت آنا اندر، وہ تمہیں قابو میں لے لے گی!"
لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔
گڑیا نے اپنا اصلی روپ دکھایا — ایک سیاہ سایہ، جس کی آنکھوں میں سرخی، اور چہرے پر لاشوں کی صورتیں تھیں۔ اس نے ماہم کی طرف بڑھتے ہوئے کہا:
"اب تم میری ہو... اور اگلا جنم دن تمہارا ہوگا!"
اچانک، دروازہ زور سے کھلا، اور ایک بوڑھی عورت اندر آئی۔ وہ زارا کی خالہ تھی — جس نے پہلی بار وہ باکس دیا تھا۔
اس نے کہا:
"بس بہت ہو گیا۔ میں نے یہ سلسلہ شروع کیا، اب مجھے ہی ختم کرنا ہوگا!"
اس نے مقدس پانی اور پرانی دعائیں پڑھ کر گڑیا پر پھینکیں۔ گڑیا کی چیخ آسمان کو چیرتی محسوس ہوئی۔ سایہ جھلس گیا، اور پورا گھر جلنے لگا۔
زارا اور ماہم دونوں ہوش میں آ گئیں، مگر خالہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی۔ ان دونوں نے اس جلے ہوئے باکس کو ایک دریا میں پھینک دیا۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
دو سال بعد… ایک اور لڑکی کی سالگرہ پر، اسے ایک پرانا لکڑی کا باکس تحفے میں ملا۔ جیسے ہی اس نے اسے کھولا…
گڑیا نے پھر آنکھ کھولی۔
Comments
Post a Comment