اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
مقام: مری کی برف پوش وادی
کردار: 17 سالہ لڑکی "آمنہ"، اور ایک پراسرار بچہ "ایلان"
آمنہ ایک حساس دل رکھنے والی طالبہ تھی جو اپنی خالہ کے گھر چھٹیاں گزارنے مری آئی تھی۔ سردیوں کے دن تھے، ہر طرف برف کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ مگر ایک چیز اسے بے چین کرتی تھی — خالہ کا کہنا:
"اس وادی میں ایک بچہ کبھی کبھی نظر آتا ہے، نیلی آنکھوں والا، جو کبھی بوڑھوں کی طرح بات کرتا ہے، کبھی کسی آسیب کی طرح غائب ہو جاتا ہے…"
آمنہ نے اسے سنا، مسکرائی، اور دل میں کہا:
"یہ سب تو قصے کہانیاں ہیں۔"
پہلی جھلک
ایک شام آمنہ اپنے کیمرے کے ساتھ پہاڑوں میں جا رہی تھی کہ برف کے بیچوں بیچ ایک بچہ دکھائی دیا — سفید کوٹ پہنے، سنہرے بال، اور… شدید نیلی آنکھیں۔
وہ پتھر پر بیٹھا تھا، اور ایک پرانی طرز کی لکڑی کی کشتی بنا رہا تھا۔
آمنہ نے حیرت سے پوچھا:
"تم یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟"
بچے نے نظر اٹھائی، مسکرا کر کہا:
"تم نے مجھے دیکھا…؟ بہت عرصے بعد کسی نے مجھے دیکھا۔"
اس کی آواز عمر رسیدہ تھی، جیسے کسی بوڑھے کی۔ آمنہ چونک گئی۔
"تمہاری عمر کیا ہے؟"
اس نے صرف اتنا کہا:
"میں وقت سے باہر ہوں۔ میں وہ ہوں جسے ایک وعدے نے قید کر رکھا ہے۔"
پھر وہ دھیرے سے اٹھا، اور دھند میں غائب ہو گیا۔
تحقیقات کا آغاز
آمنہ نے خالہ سے دوبارہ سوال کیے۔ خالہ نے جھجکتے ہوئے بتایا:
"یہ وادی کبھی بادشاہوں کی شکارگاہ تھی۔ ایک جادوگر نے بادشاہ کے بیٹے کو اغوا کیا اور اس پر نیلی آنکھوں کا طلسم ڈالا — وہ جہاں جاتا، دکھائی صرف انہیں دیتا جن کے دل میں خالص سچائی ہو۔ اور وہ تب تک آزاد نہیں ہو سکتا، جب تک کوئی اُس کی مکمل کہانی نہ جانے، اور سچ کو دنیا کے سامنے نہ لائے۔"
آمنہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بچے — یا شاید روح — کا سچ جان کر رہے گی۔
پرانی لائبریری، پرانا راز
شہر کی ایک چھوٹی سی پرانی لائبریری میں آمنہ کو ایک ڈائری ملی۔ جلد پھٹی ہوئی تھی، اور اس پر لکھا تھا:
"ایلان — نیلی آنکھوں کا قیدی"
ڈائری میں انکشاف ہوا کہ ایلان واقعی بادشاہ کا بیٹا تھا، جسے اس کے چچا نے سازش کے تحت جادوگر کے حوالے کر دیا تھا۔ جادوگر نے اس کی روح کو قید کر دیا، جسم کو وقت سے باہر بھیج دیا۔ اب وہ صرف تب نظر آ سکتا تھا، جب کوئی اس کی بے گناہی پر یقین کرے۔
آخری ملاقات
آمنہ ایک رات برف میں اکیلی نکل گئی۔ وہ وہی جگہ پہنچی جہاں پہلی بار ایلان ملا تھا۔
"ایلان! میں نے تمہاری کہانی پڑھ لی ہے! میں یقین کرتی ہوں تم بے قصور ہو!"
دھند گہری ہوئی… پھر وہی بچہ نمودار ہوا۔
"تم نے وعدہ پورا کیا… اب مجھے رخصت ہونا ہے۔ مگر میرے جاتے جاتے… تمہیں ایک تحفہ دوں گا۔"
اگلے لمحے آمنہ بے ہوش ہو گئی۔
جب آنکھ کھلی، وہ اسپتال میں تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سکہ تھا — بادشاہ کا نشان کندہ — اور ایک ورق پر لکھا تھا:
> "کبھی کبھی سچ دکھائی نہیں دیتا، صرف محسوس ہوتا ہے۔
شکریہ، کہ تم نے مجھے دیکھا۔
ایلان۔"
---
اختتام
آمنہ نے بعد میں اس راز پر ایک کتاب لکھی:
"نیلی آنکھوں والا لڑکا — ایک سچی کہانی"
لوگوں نے مذاق اڑایا، کچھ نے سراہا…
مگر آمنہ جانتی تھی: وہ جھوٹ نہیں تھا۔
کیونکہ سچ ہمیشہ آنکھوں میں ہوتا ہے — خاص کر نیلی آنکھوں میں۔
Comments
Post a Comment