اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
لاہور کے پوش علاقے میں ایک پرائیویٹ اسکول تھا جہاں حال ہی میں ایک نئی استاد، مس انعم، تعینات ہوئی تھیں۔ وہ نوجوان، مہذب اور غیر معمولی طور پر خوبصورت تھیں۔ مگر ان کی بھوری آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو بچوں کو پریشان کرتا تھا — جیسے وہ سیدھا انسان کے اندر جھانکتی ہوں۔
پہلے ہفتے میں ہی کچھ عجیب واقعات پیش آنے لگے۔
ایک بچہ، احمد، کلاس سے غائب ہو گیا۔ اس نے آخری بار اپنی ڈائری میں لکھا تھا:
> "آج مس انعم نے مجھ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا، اور مجھے ایسا لگا جیسے میں کہیں کھو گیا ہوں۔ میں کچھ بھول گیا ہوں۔ وہ آنکھیں… عجیب ہیں۔"
پولیس آئی، تفتیش ہوئی، مگر اسکول میں کسی کو کچھ پتہ نہ چلا۔ سی سی ٹی وی بھی اُس لمحے بند تھا۔
مس انعم نے بس اتنا کہا:
"شاید وہ بھاگ گیا ہو۔ آجکل کے بچے بہت ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔"
کسی نے سوال نہیں اٹھایا، کیونکہ مس انعم بہت باوقار تھیں۔ مگر بچوں میں خوف پھیلنے لگا۔ وہ اب ان کی آنکھوں میں دیکھنے سے کتراتے تھے۔
ثبوت کی تلاش
ایک دن، نمرہ نامی لڑکی نے اسکول کی لائبریری میں ایک پرانی تصویر دیکھی جس پر لکھا تھا:
"1982 – مس انعم کا پہلا بیچ"
نمرہ حیران رہ گئی۔ تصویر میں وہی خاتون تھیں — وہی چہرہ، وہی بھوری آنکھیں — مگر یہ تصویر چالیس سال پرانی تھی!
وہ فوراً یہ تصویر لے کر اپنی بڑی بہن، زہرہ، کے پاس گئی جو ایک صحافی تھی۔
زہرہ نے اس راز کی کھوج شروع کی، اور شہر کے پرانے اسکولوں کا ریکارڈ کھنگالنا شروع کیا۔ کئی پرانے اسکولوں میں ایسی ہی عورت کا ذکر ملا — "بھوری آنکھوں والی عورت جو بچوں کے غائب ہونے کے بعد خود ہی لاپتہ ہو جاتی تھی"۔
اصل راز
زہرہ اور نمرہ نے اسکول میں ایک خفیہ مائیک اور کیمرہ چھپا کر ریکارڈنگ شروع کی۔
چند دن بعد، ایک ویڈیو میں صاف نظر آیا: مس انعم، احمد کی سیٹ پر بیٹھی، اس کی کتابوں کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں آہستہ آہستہ چمکنے لگیں۔ کمرے میں روشنی مدھم ہو گئی، اور اچانک ایک دھواں سا اٹھا — احمد کا بیگ، کتابیں، اور جوتے وہیں رہ گئے… مگر وہ خود غائب ہو گیا۔
یہ کوئی انسانی حرکت نہ تھی۔
زہرہ فوراً ویڈیو لے کر ماہر نفسیات اور روحانی ماہرین کے پاس گئی۔ ایک بزرگ نے کہا:
> "یہ عورت انسان نہیں… یہ 'آنکھوں کی آسیب' ہے — ایک ایسا سایہ جو بھوری آنکھوں کے ذریعے ذہن میں داخل ہو کر انسان کی یادداشت اور وجود کو چوس لیتا ہے۔ یہ بچوں کو نشانہ بناتی ہے، کیونکہ ان کا دماغ ابھی ناپختہ ہوتا ہے۔"
مقابلہ
زہرہ اور نمرہ نے ایک منصوبہ بنایا۔
انہوں نے اسکول میں ایک آئینہ دار کمرہ بنایا، جہاں ہر دیوار پر شیشہ لگا دیا۔ وہ جانتے تھے کہ روحیں اکثر آئینے میں اپنا عکس دیکھنے سے ڈرتی ہیں۔
اس دن، جب مس انعم بچوں کو پڑھا رہی تھیں، اچانک اسکول کی بجلی بند ہوئی۔ بچوں کو بہانے سے باہر نکالا گیا، اور مس انعم کو "ایک اہم میٹنگ" کے بہانے شیشے والے کمرے میں بلایا گیا۔
جیسے ہی وہ اندر آئیں، اور دروازہ بند ہوا، چاروں طرف سے روشنی آن ہوئی۔
ہر آئینے میں ان کا چہرہ الگ الگ زاویے سے دکھائی دے رہا تھا… اور ان کی آنکھیں جلنے لگیں۔
انہوں نے چلانا شروع کر دیا:
"تم جانتے نہیں، میں کون ہوں! میں صدیوں سے زندہ ہوں…!"
کمرہ لرزنے لگا، مگر زہرہ نے سورۃ یٰسین کی تلاوت اسپیکر پر چلا دی۔ چند لمحوں بعد ایک زوردار چیخ سنائی دی، اور آئینے ٹوٹ گئے۔
جب دروازہ کھولا گیا… کمرے میں مس انعم نہیں تھیں۔
اختتام
اس دن کے بعد، کوئی بچہ اسکول سے غائب نہیں ہوا۔ مگر مس انعم کی یادیں بچوں کے خوابوں میں اب بھی آتی تھیں۔
نمرہ نے اپنی ڈائری میں آخر میں لکھا:
> "ان کی بھوری آنکھوں میں جھانکنے والا بچتا نہیں… میں خوش نصیب ہوں کہ صرف دیکھا… کھوئی نہیں۔"
Comments
Post a Comment