اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
رات کی تاریکی پورے محلے پر چھائی ہوئی تھی، مگر ایک کمرہ ایسا تھا جہاں اب بھی ہلکی روشنی جل رہی تھی۔ وہ کمرہ زینب بی بی کا تھا، ایک بیوہ، جس کی آنکھوں میں نیند تو کب کی روٹھ چکی تھی، مگر لبوں پر خاموش دعائیں مسلسل جاری تھیں۔
زینب بی بی کے شوہر رشید کا انتقال اُس وقت ہوا تھا جب ان کا بیٹا ایان صرف دو سال کا تھا۔ رشید ایک چھوٹے سے کارخانے میں مزدور تھا، اور اس کی تنخواہ ہی زینب کی دنیا تھی۔ جب رشید ایک دن کام پر گیا اور واپس نہ آیا، تو زینب کو نہ صرف شوہر کی لاش بلکہ پورے جہان کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔
ایان اُس وقت اتنا چھوٹا تھا کہ باپ کا مطلب بھی نہ جانتا تھا۔ ماں نے آنسوؤں کو روٹی کی شکل میں گوندھ کر اسے کھلایا، اور اپنی نیند قربان کر کے اس کے لیے راتوں کو جاگی۔
زینب بی بی نے سلائی سیکھ لی، گھروں میں کام کیا، محلے کی خواتین کے کپڑے سیے، اور بچوں کو قرآن پڑھایا — بس ایک ہی مقصد تھا:
"میرا ایان کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔"
محلے والے زینب کی تعریف کرتے نہ تھکتے، لیکن زینب خود کو ہمیشہ اللہ کی بندی ہی کہتی۔
---
وقت گزرتا گیا۔ ایان اسکول جانے لگا۔ زینب بی بی نے فیس کے لیے اپنی شادی کا جوڑا بیچ دیا، وہ جو رشید نے خود لا کر دیا تھا۔ کبھی بیٹے کو نیا جوتا دلوانے کے لیے خود پرانے چپل پہن لیتی، اور کبھی بیمار ہونے پر دوائی چھوڑ کر بیٹے کی کتابیں خرید لیتی۔
ایان سمجھدار تھا، وہ ماں کے قدموں میں جنت دیکھتا تھا۔ اکثر اس کے دوست مذاق اڑاتے:
"تیرے ابا نہیں ہیں؟"
اور وہ جواب دیتا:
"مجھے ابا کی ضرورت نہیں، میری ماں سب کچھ ہے۔"
زینب بی بی نے ایان کو کالج میں داخل کرایا، سلائی کے ساتھ ساتھ راتوں کو کپڑوں پر کڑھائی بھی کرنے لگی۔ جسم کمزور ہوتا گیا، مگر حوصلہ مضبوط رہا۔
---
ایان نے ایم بی اے مکمل کیا اور ایک نجی کمپنی میں ملازمت حاصل کر لی۔ زینب بی بی نے خوشی سے سجدہ شکر ادا کیا۔ پہلی تنخواہ پر ایان نے ماں کے لیے چپل، دو جوڑے اور کچھ زیور خریدا۔ وہ دن ماں کے لیے عید جیسا تھا۔
مگر جیسے جیسے ایان کامیاب ہوتا گیا، وہ بدلا بدلا سا نظر آنے لگا۔ اس کی باتوں میں تلخی آنے لگی، اور وقت کی کمی ماں کے لیے بڑھنے لگی۔
ایک دن ایان نے ماں سے کہا:
"امی، آپ ہمیشہ گھر میں ہی رہتی ہیں، باہر کے لوگوں سے میل جول نہیں ہے، نئی باتیں نہیں سمجھتیں۔"
ماں نے جواب دیا:
"بیٹا، میں تو تمہیں پالنے میں مصروف رہی، زمانے کی باتیں کہاں سمجھتی؟"
ایان خاموش ہو گیا، لیکن اُس کی نظروں میں وہ پرانی چمک باقی نہ رہی۔
---
ایک دن ایان نے بتایا:
"امی، میں آمنہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، وہ میرے آفس میں کام کرتی ہے، پڑھی لکھی ہے، سمجھدار ہے۔"
زینب بی بی نے کچھ دیر سوچا، اور پھر کہا:
"بیٹا، اگر وہ تمہیں خوش رکھے، تو مجھے بھی خوشی ہوگی۔"
شادی سادگی سے ہوئی، مگر دلوں میں فاصلے بڑھنے لگے۔
آمنہ ایک خوش مزاج مگر حد سے زیادہ خودمختار عورت تھی۔ اسے زینب کی سادگی، کم گوئی، اور پرانے خیالات پر اعتراض تھا۔
ابتداء میں وہ خاموش رہی، مگر آہستہ آہستہ ایان کے ذہن میں زہر گھولنے لگی:
"تمہاری ماں تو ہر وقت ٹوکتی ہے، وہ ہماری زندگی میں دخل دیتی ہے۔"
ایان جو بچپن میں ماں کے پاؤں دبانے والا بیٹا تھا، اب آمنہ کے الفاظ سے متاثر ہونے لگا۔
---
ایک دن آمنہ اور زینب بی بی کے درمیان معمولی بات پر تکرار ہوئی۔ بات اتنی بڑھی کہ ایان کو بیچ میں آنا پڑا۔
آمنہ نے آنسو بہائے، اور کہا:
"یا تو آپ کی ماں یہاں رہیں گی یا میں!"
ایان نے سر جھکایا، اور کچھ لمحوں بعد زینب بی بی کی طرف دیکھا، جیسے وہ کوئی بوجھ ہو۔
"امی، شاید آپ کو کچھ دن کے لیے خالہ کے گھر چلے جانا چاہیے..."
زینب بی بی کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئے، صرف خاموشی چھا گئی۔ وہ کمرے میں گئی، ایک چھوٹے سے تھیلے میں اپنا دوپٹہ، دوا، اور رشید کی تصویر رکھی، اور چپ چاپ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
محلے کے لوگ حیران تھے:
"یہ وہ زینب ہے، جس نے ایان کو سونے کے چمچ سے کھلایا؟ آج وہی بیٹا اس کی پرورش بھول گیا؟"
---
زینب بی بی نے خالہ کے گھر پناہ لی، مگر دل میں صرف ایک دعا باقی رہی:
"اے رب! میرے بیٹے کو ہمیشہ سلامت رکھنا، وہ جو کچھ بھی کرے، میں اسے معاف کرتی ہوں۔"
ایان کو کچھ دنوں تک سکون رہا، مگر پھر عجیب بے چینی نے اس کے دل میں گھر کر لیا۔ ماں کی خاموشی، اس کا سادہ بستر، وہ پرانا درزی مشین، سب یاد آنے لگا۔
ایک رات، آمنہ نے کہا:
"تم ہر وقت کیوں خاموش رہتے ہو؟"
ایان نے بس اتنا کہا:
"شاید ماں کی دعائیں خاموش ہو گئی ہیں، اس لیے دل بھی سُن ہو گیا ہے..."
ایان نے کئی دن تک ماں کو نہ فون کیا، نہ حال پوچھا۔ خالہ بی بی نے کئی بار کہا:
"بیٹا، جا کے ماں کو منا لے۔ ماں ناراض نہیں ہوتیں، صرف خاموش ہو جاتی ہیں۔"
مگر آمنہ کا رویہ سخت تھا:
"اگر وہ آئیں گی، تو میں چلی جاؤں گی۔"
ایان اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔ اس کا دل اسے ہر لمحہ ملامت کر رہا تھا۔ آفس میں بیٹھ کر جب وہ ماں کے ساتھ گزرے دن یاد کرتا، تو آنکھیں بھیگ جاتیں۔
ایک دن ایان نے فیصلہ کیا کہ وہ ماں کو لینے جائے گا — چاہے کچھ بھی ہو۔
---
ایان شام کو خالہ کے گھر پہنچا۔ دروازہ کھولا تو خالہ کی آنکھوں میں حیرت اور دکھ دونوں تھے۔ وہ بولیں:
"تم بہت دیر کر چکے ہو، بیٹا۔ تمہاری ماں بیمار تھیں، کل رات خاموشی سے چلی گئیں۔ نہ شکایت کی، نہ کسی کو تکلیف دی۔ بس تمہارے نام کی تسبیح ہاتھ میں تھی، اور چہرے پر ایک ہلکی مسکراہٹ۔"
ایان کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ وہ چیخا، رونے لگا، دیوار سے سر ٹکرایا، مگر اب کچھ باقی نہ تھا۔
ماں جا چکی تھی۔
اس نے قبرستان جا کر ماں کی قبر پر بیٹھ کر کہا:
"امی، مجھے معاف کر دو۔ میں وہ بیٹا نہ بن سکا جس کی تمہیں ضرورت تھی۔"
مگر اب وہاں صرف خاموش مٹی تھی — جو جواب نہیں دیتی۔
---
ایان واپس گھر آیا تو وہ چمکتا دمکتا گھر اُسے قبر جیسا لگا۔ آمنہ کمرے میں بیٹھی تھی، مگر ایان کی نگاہوں میں اب اس کے لیے کچھ نہ رہا۔ اس نے آمنہ سے صرف ایک جملہ کہا:
"جس عورت نے مجھے تم تک پہنچایا، آج وہ نہیں رہی — اور اس میں تمہارا کردار بھی ہے۔"
آمنہ شرمندہ ہوئی، مگر دیر ہو چکی تھی۔
ایان نے ماں کا وہ پرانا درزی مشین نکالا، اس کا دوپٹہ، اس کی سلائی کی قینچی — اور روتے روتے سو گیا۔
---
ایان نے اپنی نوکری چھوڑ دی، اور اپنی زندگی ماں کے نام وقف کر دی۔ اس نے ایک یتیم خانہ کھولا، جس کا نام رکھا:
"زینب کا سایہ"
وہ وہاں ان بچوں کو رکھتا جن کی مائیں نہیں رہیں، اور ان ماں جیسی خواتین کو بھی جو بڑھاپے میں تنہا تھیں۔
ایان روز ان بچوں کو کھانا کھلاتا، ان کے کپڑے دھوتا، اور ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا:
"ماں، آج میں تمہاری کمی ان بچوں میں پوری کرنے آیا ہوں۔"
وہ ہر سال ماں کے عرس پر قرآن خوانی کراتا، اور قبر پر جا کر بیٹھتا۔
---
ایان کی آنکھوں میں اب کوئی خواب نہیں تھا، صرف ایک ملال تھا — کہ وہ کیوں نہ سمجھے کہ ماں کا سایہ نعمت ہے، جو ایک بار چھن جائے تو واپس نہیں آتا۔
اس کی آنکھوں میں صرف ایک دعا رہ گئی تھی:
"اے رب، مجھے میری ماں کے قدموں میں تھوڑی سی مٹی بھی دے دے، میں اس میں جنت ڈھونڈ لوں گا۔"
ماں کبھی بوجھ نہیں ہوتی، وہ سایہ ہوتی ہے — چھاؤں دینے والی۔
بیوی کی عزت لازم ہے، مگر ماں کی محبت بے مثال ہے۔
اگر کسی کے چہرے پر تمہارے بچپن کی نیندیں اور بھوکیں لکھی ہوں، تو وہ صرف ماں ہو سکتی ہے۔
ماں کا دل کبھی ناراض نہیں ہوتا، بس خاموش ہو جاتا ہے۔
جو شخص اپنی ماں کی قدر نہیں کرتا، وہ دنیا کی ہر دولت کے باوجود مفلس ہے
Comments
Post a Comment