اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
شہر لاہور کی ایک پرانی گلی میں واقع ایک چھوٹا سا کمرہ جہاں زاہد اپنی بیوی سلمیٰ اور دس سالہ بیٹی نیہا کے ساتھ رہتا تھا۔ زاہد ایک درزی تھا، جو دن رات سلائی میں لگا رہتا تاکہ اپنی بیٹی کو پڑھا سکے۔ وہ چاہتا تھا کہ نیہا اُس کی طرح سلائی مشین کے پیچھے نہ بیٹھے، بلکہ ڈاکٹر بنے۔
نیہا ایک ذہین بچی تھی۔ ہر سال اپنی جماعت میں اول آتی، مگر گھر کی مالی حالت اکثر اُس کی راہ میں دیوار بننے لگتی۔
ایک دن اسکول سے واپسی پر نیہا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ سلمیٰ نے پریشان ہو کر پوچھا:
"کیا ہوا بیٹا؟"
نیہا نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا:
"امی، کل اسکول میں فیس نہ دینے پر میرا نام لسٹ سے نکال دیا گیا۔ میں اب اسکول نہیں جا سکتی۔"
یہ سن کر سلمیٰ کا دل ٹوٹ گیا۔ زاہد رات کو جب گھر آیا تو اُس نے سب سنا، مگر کچھ کہنے کے بجائے چپ چاپ اپنی مشین کے پاس جا بیٹھا۔ رات کے اندھیرے میں صرف مشین کی آواز تھی جو بول رہی تھی۔ صبح تک وہ مسلسل کام کرتا رہا۔
اگلے دن، زاہد نے سلمیٰ کو پانچ ہزار روپے دیے اور کہا:
"یہ نیہا کی فیس کے لیے ہیں۔ اُسے اسکول واپس لے جاؤ۔"
سلمیٰ نے حیرت سے پوچھا:
"اتنے پیسے کہاں سے آئے؟"
زاہد نے مسکرا کر کہا:
"بس، ایک رات جاگنے کی قیمت ہے۔"
نیہا اسکول واپس چلی گئی، اور پھر محنت سے پڑھنے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے ماں باپ نے کتنی قربانی دی ہے۔ سال گزر گئے۔ زاہد کی بینائی دھیرے دھیرے کمزور ہونے لگی، مگر اس نے کام کرنا نہیں چھوڑا۔
ایک دن ڈاک کا خط آیا۔ نیہا کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا تھا، اور اُسے اسکالرشپ بھی مل گئی تھی۔ وہ دوڑتی ہوئی باپ کے گلے لگ گئی:
"ابو، آپ کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے!"
زاہد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر وہ بینائی کی دھند میں بھی بیٹی کے چہرے کی خوشی دیکھ سکتا تھا۔ وقت گزرتا گیا، نیہا ڈاکٹر بن گئی۔ اُس نے اسپتال میں نوکری شروع کی اور جلد ہی شہر بھر میں اس کی شہرت ہونے لگی۔
اب وہ دن بھی آ گیا جب نیہا نے ایک چھوٹا سا کلینک کھولا، جس کا نام رکھا:
**"چراغ تلے اُجالا"** – تاکہ وہ کبھی نہ بھولے کہ روشنی اکثر اندھیرے میں بھی چھپی ہوتی ہے۔
کلینک کے افتتاح کے دن نیہا نے اپنے ماں باپ کے قدموں میں بیٹھ کر کہا:
"یہ سب آپ کی دعاؤں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ نے چراغ جلایا نہ ہوتا، تو میں کبھی اُجالا نہ دیکھ پاتی۔"
زاہد نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بس اتنا کہا:
"بیٹیاں دعاؤں کا جواب ہوتی ہیں۔"
یہ کہانی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک عام انسان، اپنے خواب اور اولاد کے لیے غیر معمولی قربانیاں دیتا ہے۔ غربت، مسائل اور وقت کی تنگی کبھی بھی جذبے کو شکست نہیں دے سکتی۔ زاہد جیسے کردار ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہیں، جو چراغ تلے اُجالا پھیلاتے ہیں۔
۔
Comments
Post a Comment