اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
"
پہلی قسط کے اختتام پر فائزہ کی ٹیم غائب ہو چکی تھی، اور فائزہ خود یتیم خانے میں موجود کیمرے میں کسی بچے کی آواز میں بولتی دیکھی گئی تھی:
> "میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی… اگلا دروازہ تم پر کھلے گا…"
یہ ویڈیو وائرل ہو گئی، اور ریحان نامی ایک نوجوان ماہرِ نفسیات، جس نے "ذہنی سائے" پر تحقیق کر رکھی تھی، اس معاملے میں دلچسپی لینے لگا۔
ریحان کا ماننا تھا کہ فائزہ کی روح قید ہو چکی ہے، اور اُس کی ذہنی لہریں اب یتیم خانے سے باہر نکلنے لگی ہیں۔
ریحان نے اپنے آلات کے ساتھ یتیم خانے کا رخ کیا۔ رات کو وہ عمارت کے اندر گیا، اور سب سے پہلا دروازہ کھولا — جہاں دیوار پر اب نیا جملہ لکھا تھا:
> "تم نے سنا؟ اب ہم تمہیں سن رہے ہیں…"
ریحان نے نوٹ کیا کہ ہر دروازے کے اوپر ایک نمبر تھا، 1 سے لے کر 7 تک۔
پہلا دروازہ کھولا — ایک خالی کمرہ، مگر دیوار پر فائزہ کی آواز گونج رہی تھی:
> "مت کھولو… مت دیکھو… ساتویں دروازے کے بعد واپسی نہیں ہوتی!"
ریحان نے طے کیا کہ وہ سب دروازے کھولے گا — شاید فائزہ کو آزاد کرنے کا یہی طریقہ ہے۔
دروازہ نمبر 2:
کمرے میں کھلونوں کا ڈھیر، جو خود بخود ہل رہا تھا۔
ان میں ایک گڑیا فائزہ کی آواز میں بولی:
"ہم نے صرف دوست مانگے تھے… مگر ہمیں آگ دی گئی۔"
دروازہ 3 سے 5:
ہر کمرہ پہلے سے زیادہ سرد، زیادہ تاریک، اور زیادہ درد بھرا۔
ریحان کے آلات ناکارہ ہونے لگے۔
آوازیں اب اُس کے دماغ میں گونجنے لگیں — بچوں کی چیخیں، فائزہ کی ہنسی، اور کوئی گنتی کرتا ہوا: "پانچ… چھ… سات..."
دروازے کے پیچھے ایک پرانا دفتر تھا — شاید یتیم خانے کے وارڈن کا۔
میز کی دراز سے ایک خفیہ فائل ملی، جس میں لکھا تھا:
> "1972 کی آگ ایک حادثہ نہ تھی۔ دراصل بچوں پر مذہبی سائنسی تجربے کیے جا رہے تھے۔ جب تجربہ ناکام ہوا تو عمارت سمیت بچوں کو جلا دیا گیا — تاکہ راز چھپ جائے۔"
ریحان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ سمجھ گیا:
فائزہ صرف قید نہیں تھی — وہ ان بچوں کی ترجمان بن چکی تھی۔
دروازے پر ایک جملہ لکھا تھا:
> "اب تم میں سے ایک کو ہمارے ساتھ رہنا ہو گا… تب ہی باقی آزاد ہوں گے۔"
ریحان اندر گیا — کمرہ خالی تھا، سوائے ایک آئینے کے۔
آئینے میں فائزہ نظر آئی… مگر اُس کے پیچھے سینکڑوں بچے — آدھے جلے ہوئے، مگر مسکراتے۔
فائزہ بولی:
> "ہمیں کہانی مکمل کرنی ہے… بس ایک اور دوست… صرف ایک…"
ریحان نے آنکھیں بند کیں — اور کہا:
> "میں رک جاتا ہوں… فائزہ کو جانے دو!"
اگلے لمحے آئینہ ٹوٹ گیا۔
صبح پولیس کو یتیم خانے سے صرف فائزہ ملی — وہ بے ہوش تھی مگر زندہ۔
مگر ریحان… غائب۔
ایتھیکل رپورٹ میں درج ہوا:
> "ریحان احمد – لاپتہ، مگر فائزہ مکمل ہوش میں… اور کہتی ہے: میں ان بچوں کی کہانی مکمل کرنے آئی تھی… اب وہ خاموش ہو گئے ہیں…"
مگر کہانی ختم کہاں ہوئی؟
کیونکہ یتیم خانے کی دیوار پر اب ایک نیا جملہ لکھا ہے:
> "دروازہ نمبر آٹھ، صرف چنے گئے لوگوں کے لیے ہے…"
Comments
Post a Comment