اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

🕯️ "دروازہ نمبر آٹھ – آخری گواہ"

 🕯️ "دروازہ نمبر آٹھ – آخری گواہ"



(خاموش دروازے – مردہ بچوں کا یتیم خانہ: حصہ ۳)


پچھلی کہانی کا خلاصہ


فائزہ، ایک فلم میکر، مردہ بچوں کے پراسرار یتیم خانے میں پھنس گئی تھی۔

ریحان، جو ایک نفسیاتی ماہر تھا، اسے بچانے آیا اور یتیم بچوں کی رہائی کے لیے خود کو قربان کر گیا۔


اب فائزہ تو باہر آ گئی ہے…

لیکن ریحان کہاں گیا؟

اور دروازہ نمبر آٹھ… آخر ہے کیا؟



فائزہ کی واپسی – مگر خاموشی کے ساتھ


فائزہ کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔ وہ ہوش میں تھی، مگر کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ بس ایک جملہ بار بار لکھتی:


> "دروازہ نمبر آٹھ کھلا نہیں… وہ میرے اندر آ گیا ہے۔"



ڈاکٹرز حیران تھے۔ ایک دن اُس کے کمرے میں اچانک بجلی چلی گئی، اور اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ نرس نے چیخ کر بتایا:


> "اس کے جسم پر بچوں کے نام لکھے جا رہے ہیں! خودبخود!"




پھر… وہ سب غائب ہو گئے۔



دوسری طرف – ریحان کی آنکھ کھلتی ہے


ریحان نے آنکھ کھولی، تو خود کو ایک اجنبی جگہ پایا۔

یہ کوئی خواب نہ تھا — وہ یتیم خانے کے اندر ہی تھا، مگر اب ایک نیا دروازہ اُس کے سامنے تھا:


> "دروازہ نمبر آٹھ"



اس دروازے پر کوئی کنڈی، کوئی ہینڈل نہ تھا۔

بس خون سے لکھا ایک جملہ:


> "یہ دروازہ صرف یاد رکھنے والوں کے لیے ہے۔"



ریحان نے اپنی آنکھیں بند کیں — اور اُن سب بچوں کو یاد کیا جن کے ساتھ ظلم ہوا تھا۔

دروازہ خودبخود کھل گیا…




دروازے کے اُس پار… سچ


ریحان ایک طویل سرنگ میں داخل ہوا۔

دیواروں پر تصویریں تھیں — ہر بچے کی زندگی، اس کی موت، اس کی آخری چیخ۔


اس سرنگ کے آخر میں ایک بہت بڑا کمرہ تھا — جس کے درمیان میں ایک بچہ بیٹھا تھا۔

وہ دوسروں سے مختلف تھا: نہ جلا ہوا، نہ رو رہا… بس خاموش۔


ریحان نے پوچھا:

"تم کون ہو؟"


بچے نے مسکرا کر کہا:


> "میں وہ پہلا بچہ ہوں… جس پر تجربہ ہوا تھا۔ میں زندہ رہا، لیکن انسان نہ رہ سکا۔ میں نے سب کو اپنے اندر سمیٹ لیا… اور اب، میں تمہیں بھی… اپنے اندر رکھوں گا۔"



فیصلہ – فائزہ یا ریحان؟


ریحان کے سامنے ایک تختی روشن ہوئی:


> "ایک باہر جا سکتا ہے۔

ایک ہمیشہ کے لیے یہاں رہے گا۔

فیصلہ تمہارا ہے۔"




ریحان نے لمحہ بھر سوچا… اور کہا:


> "فائزہ کو جانے دو۔ میں کہانی ختم کرنے آیا تھا، شروع کرنے نہیں۔"



اندھیرے میں ایک روشنی پیدا ہوئی — اور وہ بچہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔




آخری سچ


اگلی صبح فائزہ اسپتال سے غائب تھی —

مگر اُسے ایک پہاڑی گاؤں میں ہوش آیا، جہاں اُس کے پاس ایک نیا کیمرہ تھا… اور ایک خط:


> "تم اب آزاد ہو۔ لیکن یاد رکھنا — سچ کو ہمیشہ سنبھال کر رکھنا، کیونکہ کچھ دروازے کبھی مکمل بند نہیں ہوتے…

ریحان"




کہانی کا اختتام؟


فائزہ اب بچوں کی زندگیاں بچانے کے مشن پر ہے۔

وہ ہر اس جگہ جاتی ہے جہاں بچوں پر ظلم ہوتا ہے — اور ہر بار اُس کا کیمرہ بند ہونے سے پہلے ایک جملہ کہتا ہے:



> "کہانی ابھی باقی ہے…"

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا