اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ایک سنسان گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام زارا تھا۔ زارا کی عمر سولہ سال ہوئی تو اس کی خالہ نے اسے ایک قدیم لکڑی کا گفٹ باکس تحفے میں دیا۔ باکس پر عجیب و غریب نقوش تھے، اور خالہ نے کہا:
"اسے تنہائی میں کھولنا، اور جو بھی ہو، اسے کبھی رات کے وقت نہ کھولنا۔"
زارا نے مسکرا کر تحفہ لے لیا، مگر تجسس اس کے دل میں بیٹھ گیا۔ اسی رات، جب سب سو چکے تھے، زارا نے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر وہ باکس کھول لیا۔
جیسے ہی باکس کھلا، ایک ٹھنڈی لہر کمرے میں دوڑ گئی۔ باکس کے اندر ایک پرانا، خستہ حال گڑیا تھی، جس کی آنکھیں سرخ اور بال کالے لمبے تھے۔ زارا نے اسے ہاتھ میں لیا، اور اچانک روشنی جھپکنے لگی، کھڑکیاں خودبخود بند ہو گئیں، اور کمرے کا دروازہ تیز آواز سے بند ہو گیا۔
گڑیا نے آہستہ سے سر گھمایا اور بولی:
"تم نے مجھے آزاد کر دیا..."
زارا کی چیخ سنائی دی، مگر اگلے لمحے خاموشی چھا گئی۔
اگلے دن، زارا کے والدین نے جب دروازہ کھولا، تو کمرہ خالی تھا۔ صرف وہی گڑیا میز پر بیٹھی مسکرا رہی تھی، اور باکس پر ایک نیا نوٹ رکھا تھا:
"اب میرا اگلا جنم دن ہے..."
Comments
Post a Comment