اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
وہ پہلی بار اسے لائبریری میں ملا تھا۔ شہر کے سب سے پرانے کتب خانے کی خاموش فضا میں، وہ ایک میز پر تنہا بیٹھی ہوئی، ایک موٹی کتاب میں محو تھی۔ اس کی آنکھیں خاکستری تھیں—نہ نیلی، نہ سبز، ایک ایسی دھندلک سی چمک جو سیدھے دل میں اترتی تھی۔
"یہ کتاب اچھی ہے؟" فراز نے ہمت کر کے پوچھا۔
اس نے سر اُٹھایا۔ اس کی خاکستری آنکھیں لمحہ بھر کو فراز کی آنکھوں سے ٹکرائیں، پھر اس نے سر ہلایا، "ہاں، اگر آپ کو وقت کے سفر کی کہانیاں پسند ہیں۔"
فراز نے مسکرا کر کرسی کھینچی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ کچھ لمحوں بعد گفتگو شروع ہوئی، اور جیسے جیسے وقت گزرا، دونوں کے درمیان ایک خاموش تعلق قائم ہونے لگا۔ اس کا نام عریشہ تھا۔ وہ کم گو تھی، مگر جب بولتی تو یوں لگتا جیسے الفاظ ساز بجا رہے ہوں۔
دن گزرتے گئے۔ لائبریری میں ان کی ملاقاتیں معمول بن گئیں۔ وہ کتابوں پر بحث کرتے، زندگی پر بات کرتے، اور کبھی کبھی خاموش بیٹھ کر صرف ایک دوسرے کی موجودگی محسوس کرتے۔ فراز کے لیے وہ خاکستری آنکھیں ایک معمہ بن گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ ان آنکھوں کے پیچھے کوئی راز چھپا ہے۔
ایک دن، بارش ہو رہی تھی۔ لائبریری بند تھی، مگر فراز وہاں پہنچا۔ حیرانی سے دیکھا، عریشہ باہر برآمدے میں کھڑی تھی، بارش میں بھیگی ہوئی۔ اس نے فراز کو دیکھا، اور کہا، "چلو، آج تمہیں اپنی دنیا دکھاتی ہوں۔"
وہ دونوں ایک پرانی گلی میں داخل ہوئے۔ تنگ راستے، پرانے مکان، اور خاموشی۔ عریشہ ایک دروازے کے سامنے رکی۔ "یہاں میں رہتی ہوں۔"
وہ اندر گئے۔ کمرہ چھوٹا تھا مگر دیواروں پر عجیب قسم کی تصویریں آویزاں تھیں۔ کچھ میں نیلے آسمان تھے، کچھ میں اندھیرے طوفان، اور سب میں ایک چیز مشترک تھی — خاکستری آنکھیں۔
"یہ سب... تم ہو؟" فراز نے پوچھا۔
عریشہ خاموش رہی۔ پھر ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا، "یہ میری ماں تھی۔ اس کی بھی آنکھیں ایسی تھیں۔ میری دادی کی بھی۔"
فراز الجھ گیا، "کیا مطلب؟"
"ہماری نسل میں، خاکستری آنکھیں ایک نشانی ہیں۔ ایک بوجھ۔ ہم خواب دیکھ سکتے ہیں... مگر صرف سچ کے۔ جو کچھ ہونے والا ہو، وہ ہمیں پہلے ہی دکھائی دیتا ہے۔"
فراز کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ "تم نے... میرے بارے میں کچھ دیکھا ہے؟"
عریشہ نے سر جھکا لیا۔ "ہاں۔ میں نے تمہیں دیکھا ہے۔ مگر تم خوش نہیں تھے۔ تم تنہا تھے۔ اور... بہت دیر ہو چکی تھی۔"
فراز نے اس کا ہاتھ تھام لیا، "کیا ہم تقدیر کو بدل سکتے ہیں؟"
عریشہ کی آنکھوں میں نمی آ گئی، "پتہ نہیں۔ مگر شاید ہم کوشش کر سکتے ہیں۔"
اگلے کچھ مہینے ان کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔ فراز اس کے خوابوں کو سمجھنے لگا۔ وہ دونوں ان مناظر کو کاغذ پر اتارتے، اور ان میں سے خوشی کے لمحے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے۔
پھر ایک دن، عریشہ غائب ہو گئی۔ نہ کوئی اطلاع، نہ کوئی پیغام۔ فراز نے ہر جگہ تلاش کیا۔ لائبریری، پرانی گلی، وہ مکان—سب سنسان تھے۔ صرف ایک تصویر ملی۔ اس میں وہ خود کھڑا تھا، لائبریری کی سیڑھیوں پر، تنہا، اور پیچھے دھند میں وہی خاکستری آنکھیں مدھم ہو رہی تھیں۔
سالوں گزر گئے۔
فراز نے لائبریری میں کام شروع کر دیا۔ ہر روز وہ اسی میز پر بیٹھتا جہاں وہ دونوں ملے تھے۔ لوگ کہتے تھے وہ پاگل ہو گیا ہے۔ مگر وہ جانتا تھا، کہیں نہ کہیں، عریشہ زندہ ہے، اور دیکھ رہی ہے۔
ایک دن، ایک چھوٹی سی لڑکی آئی۔ بمشکل چھ سال کی۔ اس کی آنکھیں خاکستری تھیں۔ وہ سیدھی فراز کے پاس آئی اور بولی:
"میری ماما نے کہا تھا آپ سے یہ کتاب دینی ہے۔"
فراز نے لرزتے ہاتھوں سے کتاب لی۔ اس کے اندر ایک خط تھا:
"میں نے تمہیں ہر ممکن انجام میں دیکھا، مگر یہ انجام سب سے خوبصورت تھا۔ میں نے تقدیر بدل دی، مگر قیمت مجھے دینی پڑی۔ اب تم اکیلے نہیں ہو۔ اس کی آنکھوں میں میری جھلک تلاش کرنا۔"
—عریشہ
فراز نے لڑکی کی طرف دیکھا، جو اب مسکرا رہی تھی۔
اور فراز کو یقین آ گیا، کہ کبھی کبھی، خاکستری آنکھیں صرف خواب نہیں دیکھتیں... وہ نئی دنیا دکھاتی ہیں۔
Comments
Post a Comment