اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
لاہور کے مصروف علاقے میں واقع ایک پرانا فلیٹ تھا، جسے لوگ “گلزار اپارٹمنٹس” کے نام سے جانتے تھے۔ اس عمارت کی سب منزلیں آباد تھیں… سوائے **چوتھی منزل کے**۔ وہ خالی، سنسان اور ہمیشہ بند رہتی تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ وہاں کچھ ایسا ہوا تھا، جو زبان پر لانا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔
عمیر ایک سافٹ ویئر انجینئر تھا، جو کراچی سے لاہور ایک نوکری کے سلسلے میں آیا تھا۔ وہ ایک سستا کرایہ ڈھونڈ رہا تھا اور ایجنٹ نے اسے "گلزار اپارٹمنٹس" کی چوتھی منزل کا ایک فلیٹ دکھایا۔ عمیر نے حیرت سے پوچھا:
"یہ فلیٹ اتنا سستا کیوں ہے؟"
ایجنٹ نے نظریں چرائیں، "بس... کچھ لوگ یہاں آ کر ٹھہر نہیں پاتے۔ مگر تم چاہو تو دیکھ لو۔"
عمیر کو ایسی باتوں پر یقین نہیں تھا۔ اس نے فوراً فلیٹ لے لیا اور اُسی رات شفٹ ہو گیا۔
سب کچھ نارمل لگ رہا تھا۔ عمیر نے کمرہ سیٹ کیا، لیپ ٹاپ آن کیا اور کام میں لگ گیا۔ رات کے بارہ بجے کے قریب، کمرے کی لائٹ خود بخود بند ہو گئی۔ وہ اٹھا، سوئچ چیک کیا—سب درست تھا۔
پھر اچانک، اسے کچن سے پانی گرنے کی آواز آئی۔
وہ گیا، نل بند تھا، مگر فرش پر پانی کے قطرے تھے۔ اس نے جھٹ سے صاف کیا، خود کو سمجھایا کہ یہ سب تھکن کا نتیجہ ہے، اور سو گیا۔
دوسری رات، جب عمیر بستر پر لیٹا ہی تھا، اچانک دروازے پر تین بار زور کی دستک ہوئی—"ٹھک ٹھک ٹھک"
اس نے دروازہ کھولا، باہر کوئی نہ تھا۔
پھر اسی لمحے اسے کسی کے چلنے کی آواز آئی—مگر چھت پر نہیں، دیوار پر۔ جیسے کوئی دیوار کے ساتھ ساتھ رینگ رہا ہو۔ عمیر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
اس رات وہ چراغ جلا کر سویا۔
تیسری رات، وہ کام کر رہا تھا جب اچانک لائٹ چلی گئی۔ باہر سب منزلوں پر روشنی تھی، مگر صرف چوتھی منزل اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔
عمیر نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور کمرے کا جائزہ لیا۔ اچانک اسے الماری کے کونے میں دو سرخ آنکھیں چمکتی نظر آئیں۔
جیسے ہی وہ اس طرف بڑھا، آنکھیں غائب ہو گئیں۔ مگر ایک سرد ہوا کا جھونکا پورے کمرے میں پھیل گیا۔
پھر ایک سرگوشی سنائی دی:
**"تمہیں یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا..."**
اگلے دن عمیر نے فلیٹ کے چوکیدار کو روک کر پوچھا: "یہ چوتھی منزل کا کیا ماجرا ہے؟ سچ سچ بتاؤ۔"
بوڑھا چوکیدار لرزتے ہوئے بولا: "چار سال پہلے یہاں ایک خاندان رہتا تھا۔ ماں، باپ اور ایک چھوٹی بیٹی۔ ایک رات اچانک پورے فلیٹ سے چیخیں سنائی دیں۔ جب پولیس پہنچی، تو تینوں کی لاشیں عجیب حالت میں ملیں—چہرے بگڑے ہوئے، آنکھیں باہر نکلی ہوئیں، اور دیوار پر خون سے لکھا تھا:
**"یہ میری جگہ ہے۔"**
تب سے یہ منزل خالی ہے۔ جو بھی آیا، یا پاگل ہو گیا، یا غائب ہو گیا۔
عمیر نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں نہیں رہ سکتا۔ اس نے سامان پیک کرنا شروع کیا۔
لیکن جیسے ہی وہ دروازے کی طرف بڑھا، دروازہ خودبخود بند ہو گیا۔ لائٹس چلی گئیں، پنکھا رک گیا، اور کمرہ ٹھنڈا ہونے لگا۔
اچانک فرش پر خون کے نشان ظاہر ہونے لگے، جو آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگے۔
پھر ایک عورت کی آواز گونجی:
**"یہ تمہاری جگہ نہیں ہے۔ اب تم میرے ساتھ رہو گے... ہمیشہ کے لیے!"**
عمیر نے چیخنا چاہا، مگر آواز نہ نکلی۔ وہ زمین پر گر پڑا، اور اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
اگلی صبح، چوکیدار نے دیکھا کہ چوتھی منزل کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ اوپر گیا، تو اندر عمیر کا کوئی نشان نہ تھا۔ صرف اس کا بیگ، موبائل، اور ایک خط:
*"میں نے غلطی کی۔ جو کچھ سنا تھا، وہ سچ تھا۔ یہاں کوئی ہے… اور وہ تنہا نہیں رہنا چاہتی۔"*
**– عمیر**
فلیٹ دوبارہ بند کر دیا گیا۔
اور “گلزار اپارٹمنٹس” کی چوتھی منزل آج بھی ویران ہے…
مگر بعض راتوں میں، عمارت سے ایک سرگوشی آتی ہے:
**"میں اکیلی ہوں..."**
Comments
Post a Comment