اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ریحان کی موت اور بھٹکتی روح کی رہائی کے بعد گاؤں "چک کمال" میں خاموشی چھا گئی تھی۔ مکان اب ویران ضرور تھا، لیکن "خاموش" نہیں۔
ثانیہ واپس لاہور آ گئی، رپورٹ مکمل ہوئی، یوٹیوب چینل پر ویڈیو وائرل ہوئی، اور لوگ اُسے "بھوتوں کی صحافی" کہنے لگے۔ لیکن اُس کے دل میں ایک خلش تھی۔
ہر رات سوتے وقت وہ آئینہ اُس کے خواب میں آتا تھا۔
ایک رات، ثانیہ کی سکرین پر ایک انجان نمبر سے ویڈیو کال آئی۔ اس نے اٹھایا تو اسکرین پر وہی پرانا آئینہ تھا — لیکن اس بار آئینے میں اُس کا اپنا چہرہ تھا… اور پیچھے ایک سایہ۔
پھر وہی آواز:
"سچ پورا نہیں ہوا…"
کال بند ہوئی، مگر اس کے فون میں وہ ویڈیو سیو ہو چکی تھی — خودبخود۔
ثانیہ نے فیصلہ کیا کہ ایک بار پھر چک کمال جانا ہو گا، مگر اس بار تنہا نہیں۔ اُس نے اپنے دوست "فائق" کو ساتھ لیا، جو ایک ماہر ویڈیو گرافر تھا۔
"ہم یہ سب ڈاکیومنٹری بنائیں گے۔" ثانیہ نے کہا۔
"یا بھوت بنائیں گے!" فائق نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
لیکن ہنسی زیادہ دیر نہ ٹک سکی۔
ثانیہ اور فائق نے کیمرے سیٹ کیے، درجہ حرارت ناپنے والے آلے لگائے، اور ہر کمرے کی تصویر لی۔
رات کے تین بجے، سب کچھ خاموش تھا — حد سے زیادہ۔ اچانک، ایک کیمرے نے خود بخود ریکارڈنگ شروع کر دی۔
اسکرین پر ایک سایہ چلتا نظر آیا… جو دیوار پر چڑھ گیا… اور خون سے لکھا:
"اب تمہاری باری ہے۔"
فائق نے ثانیہ کو دیکھا: "یہ کیا مذاق ہے؟"
ثانیہ نے آہستہ کہا: "یہ مذاق نہیں… یہ آئینہ ہے… یہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔"
دوسری صبح، ثانیہ نے مکان کے تہہ خانے کا جائزہ لینے کا سوچا — جو اب تک بند تھا۔
وہاں اُسے ایک اور آئینہ ملا، جو باقی سب سے بڑا، اور زمین میں کچھ گہرا تھا — جیسے نیچے کچھ دفن ہو۔
اُس نے فائق سے کہا: "یہ نیا آئینہ ہے… یا شاید پرانا… مگر یہ مرکز ہے سب کچھ کا۔"
فائق نے تصویریں لیں۔ مگر جب اس نے ثانیہ کی تصویر لی، تصویر میں صرف آئینہ آیا — ثانیہ نہیں!
"یہ آئینہ، شکلیں نہیں… سچ کھینچتا ہے!"
اگلی رات — بند دروازے، کھلی آنکھیں
اسی رات، ثانیہ خواب میں آئینے کے اندر چلی گئی — وہاں وہ سارے چہرے تھے جن کی موت ہوئی تھی: ریحان، پراسرار عورت، وہ پاگل لڑکی، اور ایک نیا چہرہ… فائق!
ثانیہ چیخی: "نہیں! وہ تو زندہ ہے!"
مگر آئینے کی عورت نے کہا:
"وہ زندہ ہے… مگر سچ چھپا رہا ہے…"
صبح، ثانیہ نے فائق کا سامنا کیا۔
"تم نے لاہور میں کیا دیکھا تھا؟"
فائق نے آنکھیں چُرا لیں۔
"میں نے کچھ نہیں چھپایا۔"
لیکن اس رات، آئینے نے فائق کی اصل یادداشت دکھا دی —
فائق کبھی اس مکان میں پہلے آ چکا تھا، ایک سیاح کی حیثیت سے۔ اُس وقت یہاں ایک گمشدہ لڑکی کے کیس کی تصویریں کھینچی تھیں — اور وہ جانتا تھا کہ وہاں کیا تھا۔
"تم نے سچ نہیں بتایا… تمہاری باری ہے۔"
اس رات کے بعد فائق غائب ہو گیا۔
ثانیہ کو وہی ویڈیو کلپ موصول ہوا — فائق آئینے میں، پیچھے خون، چہرہ زرد، اور آخر میں ایک جملہ:
"سچ کبھی ختم نہیں ہوتا… وہ صرف نئے چہروں میں چھپتا ہے۔"
---
اب ثانیہ کے یوٹیوب چینل پر کوئی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں ہوتیں۔
آخری ویڈیو ہے — ایک آئینہ، اور اس میں صرف آپ کی اسکرین کا عکس۔
کیونکہ شاید… اب وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔
Comments
Post a Comment