اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

📖 "صفحہ نمبر تیرہ

 📖 "صفحہ نمبر تیرہ"




ابتداء


یہ کہانی ہے اسد کی، جو ایک تنہا زندگی گزارنے والا کتب فروش تھا۔ اُس کی پرانی دکان اندرون لاہور میں واقع تھی، جہاں وہ نایاب، پرانی اور ناپسندیدہ کتابیں جمع کرتا تھا۔


ایک دن اُسے ایک پرانا باکس ملا، جس پر لکھا تھا:


> "کتابیں جو کبھی نہ پڑھی جائیں…"



کسی نے ناخنوں سے کھینچا ہو۔


کتاب کے پہلے صفحے پر صرف اتنا لکھا تھا:


> "صفحہ نمبر 13 کبھی مت کھولنا"



تجسس… جو جان لیوا تھا


اسد نے کتاب بند کر دی، مگر رات کو نیند نہیں آئی۔ دل کہہ رہا تھا کہ یہ محض کوئی پرانی خرافات ہے۔


دوسری رات، اُس نے کتاب کھولی اور ایک ایک صفحہ پڑھنا شروع کیا۔ کچھ غیر واضح علامتیں، عجیب زبان، اور سیاہی سے بنے خاکے۔


اور پھر… اُس کا ہاتھ صفحہ نمبر 13 پر رک گیا۔


پہلے تو وہ ہچکچایا، مگر پھر کنجوسی سے صفحہ پلٹا…


جیسے ہی صفحہ 13 کھلا، کتاب کی سیاہی چمکنے لگی — اور کمرے میں ٹھنڈک آ گئی۔ دیواروں پر سایے لہرانے لگے، اور ایک مدہم سرگوشی:


> "اب تم نے دروازہ کھول دیا ہے…"



اسد کو لگا جیسے اُس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ وہ مڑا — مگر کچھ نہ تھا۔



کئی راتیں… کئی چیخیں


اُس دن کے بعد، ہر رات اسد کو عجیب خواب آنے لگے — جلتے ہوئے لوگ، الٹے بولنے والے بچے، اور وہی صفحہ 13 جو خون سے تر نظر آتا۔


ایک رات اُس نے آئینے میں خود کو دیکھا — مگر اس کا عکس اُسے گھور رہا تھا۔ جیسے وہی سچ ہو، اور وہ… صرف عکس۔


ہر جگہ اُسے کتاب کی عبارتیں نظر آنے لگیں — دیواروں پر، اپنے ہاتھوں پر، یہاں تک کہ کھانے کی پلیٹ میں بھی۔



خطرناک راز


اسد نے تحقیق شروع کی۔ آخرکار ایک پرانے مولوی صاحب ملے، جنہوں نے کتاب کو دیکھ کر کانپتے ہوئے کہا:


> "یہ ’الظلال‘ ہے… شیطانی کتابوں کی سب سے پرانی کاپی۔ جو اسے کھولے، اُس کے دل کی سب سے کمزور خواہش شیطان کے ہاتھ بیچ دی جاتی ہے۔"


اسد نے پوچھا، "اب میں کیا کروں؟"


مولوی صاحب نے کہا:


> "تمہیں صفحہ 13 کو واپس بند کرنا ہو گا… اور خون سے اُس پر مہر لگانی ہو گی… تب ہی یہ بند ہو گا۔"




قربانی کا وقت


اسد نے خنجر نکالا، کتاب کھولی… اور جیسے ہی اُس نے صفحہ 13 پر خون ٹپکایا، کتاب نے ایک چیخ ماری — اور خود بخود بند ہو گئی۔


مگر… قیمت ادا ہو چکی تھی۔


اُس کی زبان بند ہو گئی۔ اب وہ کبھی بول نہیں سکا۔

لیکن ہر رات… اُس کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں… اور اُس کے ہاتھ خودبخود کاغذ پر کچھ لکھتے ہیں…


"میں نے صفحہ 13 کھولا تھا…"



اختتام… یا نیا آغاز؟


کئی سال بعد، ایک نیا لڑکا اسد کی دکان میں آیا۔

پرانے شیلف میں وہی سیاہ کتاب رکھی تھی۔


بچے نے پوچھا:

"انکل، یہ کتاب کتنے کی ہے؟"


اسد نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بس سر ہلا دیا۔

اور بچہ… کتاب لے کر چل دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا