اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ کہانی ہے اسد کی، جو ایک تنہا زندگی گزارنے والا کتب فروش تھا۔ اُس کی پرانی دکان اندرون لاہور میں واقع تھی، جہاں وہ نایاب، پرانی اور ناپسندیدہ کتابیں جمع کرتا تھا۔
ایک دن اُسے ایک پرانا باکس ملا، جس پر لکھا تھا:
> "کتابیں جو کبھی نہ پڑھی جائیں…"
کسی نے ناخنوں سے کھینچا ہو۔
کتاب کے پہلے صفحے پر صرف اتنا لکھا تھا:
> "صفحہ نمبر 13 کبھی مت کھولنا"
تجسس… جو جان لیوا تھا
اسد نے کتاب بند کر دی، مگر رات کو نیند نہیں آئی۔ دل کہہ رہا تھا کہ یہ محض کوئی پرانی خرافات ہے۔
دوسری رات، اُس نے کتاب کھولی اور ایک ایک صفحہ پڑھنا شروع کیا۔ کچھ غیر واضح علامتیں، عجیب زبان، اور سیاہی سے بنے خاکے۔
اور پھر… اُس کا ہاتھ صفحہ نمبر 13 پر رک گیا۔
پہلے تو وہ ہچکچایا، مگر پھر کنجوسی سے صفحہ پلٹا…
جیسے ہی صفحہ 13 کھلا، کتاب کی سیاہی چمکنے لگی — اور کمرے میں ٹھنڈک آ گئی۔ دیواروں پر سایے لہرانے لگے، اور ایک مدہم سرگوشی:
> "اب تم نے دروازہ کھول دیا ہے…"
اسد کو لگا جیسے اُس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ وہ مڑا — مگر کچھ نہ تھا۔
اُس دن کے بعد، ہر رات اسد کو عجیب خواب آنے لگے — جلتے ہوئے لوگ، الٹے بولنے والے بچے، اور وہی صفحہ 13 جو خون سے تر نظر آتا۔
ایک رات اُس نے آئینے میں خود کو دیکھا — مگر اس کا عکس اُسے گھور رہا تھا۔ جیسے وہی سچ ہو، اور وہ… صرف عکس۔
ہر جگہ اُسے کتاب کی عبارتیں نظر آنے لگیں — دیواروں پر، اپنے ہاتھوں پر، یہاں تک کہ کھانے کی پلیٹ میں بھی۔
اسد نے تحقیق شروع کی۔ آخرکار ایک پرانے مولوی صاحب ملے، جنہوں نے کتاب کو دیکھ کر کانپتے ہوئے کہا:
> "یہ ’الظلال‘ ہے… شیطانی کتابوں کی سب سے پرانی کاپی۔ جو اسے کھولے، اُس کے دل کی سب سے کمزور خواہش شیطان کے ہاتھ بیچ دی جاتی ہے۔"
اسد نے پوچھا، "اب میں کیا کروں؟"
مولوی صاحب نے کہا:
> "تمہیں صفحہ 13 کو واپس بند کرنا ہو گا… اور خون سے اُس پر مہر لگانی ہو گی… تب ہی یہ بند ہو گا۔"
اسد نے خنجر نکالا، کتاب کھولی… اور جیسے ہی اُس نے صفحہ 13 پر خون ٹپکایا، کتاب نے ایک چیخ ماری — اور خود بخود بند ہو گئی۔
مگر… قیمت ادا ہو چکی تھی۔
اُس کی زبان بند ہو گئی۔ اب وہ کبھی بول نہیں سکا۔
لیکن ہر رات… اُس کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں… اور اُس کے ہاتھ خودبخود کاغذ پر کچھ لکھتے ہیں…
"میں نے صفحہ 13 کھولا تھا…"
کئی سال بعد، ایک نیا لڑکا اسد کی دکان میں آیا۔
پرانے شیلف میں وہی سیاہ کتاب رکھی تھی۔
بچے نے پوچھا:
"انکل، یہ کتاب کتنے کی ہے؟"
اسد نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بس سر ہلا دیا۔
اور بچہ… کتاب لے کر چل دیا۔
Comments
Post a Comment