اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
بختیار ایک فری لانس فوٹوگرافر تھا۔ قدرتی مناظر، اجنبی گاؤں، ویران مقامات—یہ سب اس کی تصویروں کے موضوعات تھے۔ اسے سننے میں آیا کہ شمالی پنجاب کے پہاڑوں میں ایک گاؤں ہے: "سیاہ نالہ"۔ نقشے میں موجود نہیں، موبائل سگنل ندارد، مگر مقامی چرواہے اسے ’کالے دریا‘ کے قریب بتاتے تھے۔
یہ جگہ کسی افسانے کی طرح لگتی تھی۔ کہتے ہیں وہاں رات کے وقت دریا سیاہ ہو جاتا ہے، جیسے سیاہی کسی نے انڈیلی ہو، اور پانی سے کبھی کبھار عورتوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔
بختیار کو چیلنج پسند تھے۔ وہ اپنے کیمرے اور تھوڑے سے سامان کے ساتھ روانہ ہوا۔
سیاہ نالہ تک پہنچنا آسان نہ تھا۔ ایک مقامی بزرگ، بابا نورا، نے خبردار کیا:
> "پتر، جتنا نظر آتا ہے اُس سے زیادہ چھپا ہے اُس گاؤں میں۔ جو بھی گیا، واپس نہ آیا۔ خاص کر جو رات کو دریا کے پاس گیا ہو۔"
مگر بختیار ہنسا، "بابا جی، ڈر کہانیوں سے نہیں، تصویریں بنانی ہیں۔"
دو دن پیدل سفر کے بعد، وہ ایک گھنے درختوں کے درمیان بنے گاؤں پہنچا۔ گاؤں چھوٹا مگر عجیب حد تک خاموش تھا۔ کوئی ہنسنا، کوئی بچوں کی آواز، کوئی مرغی کا کڑکنا—کچھ نہیں۔
لوگوں کی نظریں خالی، مکانات پرانی مٹی سے بنے، اور ہر دروازے پر کالے دھاگے بندھے ہوئے تھے۔ جیسے کسی چیز کو باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
پہلی رات، وہ ایک خالی جھونپڑی میں رکا۔ باہر مکمل سناٹا، صرف دور دریا کی لہریں سنائی دیتی تھیں۔ مگر رات کے درمیان ایک عجیب آواز آئی—عورت کی سسکی، پھر ہلکی چیخ، جیسے کوئی دب کے رو رہا ہو۔
بختیار نے سوچا کوئی پرانی عورت ہوگی۔ مگر پھر اچانک ایک ٹھنڈی لہر جھونپڑی کے اندر آ گئی، حالانکہ کھڑکیاں بند تھیں۔
اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی نظر نہ آنے والی چیز اسے دیکھ رہی ہو۔
اگلے دن وہ دریا کے کنارے گیا۔ کیمرہ نکالا، دھند اور پانی کے درمیان کچھ خوبصورت مناظر لیے۔ مگر جب وہ واپس جا کر تصویریں دیکھنے بیٹھا، تو ایک تصویر میں ایک دھندلی عورت دریا کے درمیان کھڑی تھی۔
اس نے تصویر زوم کی۔ چہرہ دھندلا، مگر آنکھیں سیاہ، خالی اور براہِ راست کیمرے کی طرف۔
"یہ تو وہاں کوئی نہ تھی!" بختیار کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔
اس نے ایک مقامی نوجوان، راشد، سے پوچھا۔ راشد پہلے تو ڈرا، پھر آہستہ آواز میں بولا:
> "یہ ’نیلہ‘ ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی انسان تھی۔ اُس کا شوہر کسی اور کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ نیلہ نے خود کو اس دریا میں ڈبو دیا۔ اُس دن سے ہر سال، جون کی پہلی رات وہ واپس آتی ہے۔ اور جسے وہ پسند کر لے… وہ پھر کبھی واپس نہیں آتا۔"
"کیا وہ مجھے—؟"
راشد نے نفی میں سر ہلایا، "ابھی وقت ہے۔ مگر رات دریا کے پاس مت جانا۔ کچھ بھی ہو جائے۔"
اسی رات، بختیار سو نہیں پایا۔ باہر سے کسی کے چلنے کی آہٹیں آ رہی تھیں۔ وہ باہر نکلا، جھونپڑیوں کے درمیان ہلکی دھند تھی۔ دور دریا کی طرف سے ایک سریلی، مگر غمگین آواز آئی:
> "بختیااااار…"
اس کا دل رک سا گیا۔ وہ دریا کی طرف کھنچتا چلا گیا۔ جیسے آواز نے اسے جکڑ لیا ہو۔ جوں ہی وہ پانی کے قریب پہنچا، زمین گیلی ہونے لگی، اور پانی سے ایک سفید لبادہ پہنے عورت ابھری۔ وہی آنکھیں، وہی دھندلا چہرہ، جو تصویر میں تھا۔
"میرے ساتھ آؤ، میں تمہیں دکھاؤں گی... اصل تصویر..." اس نے کہا۔
بختیار کو لگا جیسے وہ خواب میں ہو۔ وہ آگے بڑھا، مگر عین اسی وقت راشد نے پیچھے سے اسے پکڑ لیا اور زمین پر گرا دیا۔ "نہیں! مت جاؤ!"
پانی میں وہ عورت زور سے چیخی، جیسے کوئی جانور ہو، اور دھند لمحوں میں گہری سیاہی میں بدل گئی۔ راشد نے مقدس آیات پڑھنی شروع کیں، اور دھند آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگی۔
اگلی صبح، گاؤں کے بزرگ جمع ہوئے۔ انہوں نے بختیار کو بتایا کہ ہر دس سال بعد نیلہ ایک نیا چہرہ چنتی ہے۔ جو کیمرے میں اسے قید کر لے، وہی اس کا نشانہ بنتا ہے۔
"یہ تصویر نہیں تھی، پتر، یہ ایک دعوت تھی۔"
بختیار نے اپنا کیمرہ دریا میں پھینک دیا۔ وہ تصاویر لے کر واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔
حصہ نہم: واپسی، مگر...؟
وہ گاؤں سے نکل گیا۔ واپس شہر پہنچا۔ سب کچھ نارمل لگنے لگا۔ مگر ایک رات، جب وہ اپنے لیپ ٹاپ پر تصویریں دیکھ رہا تھا، تو ایک خالی فولڈر میں ایک نئی تصویر کھلی۔
نیلہ، اس کے پیچھے، اس کے کمرے میں کھڑی، اور وہ خود کرسی پر بیٹھا۔
وہ چیخا—اور سکرین بند ہو گئی۔
بختیار لاپتہ ہے۔ پولیس کو اس کا اپارٹمنٹ خالی ملا، صرف ایک کالی تصویر کمپیوٹر پر:
> پانی، دھند، اور ایک دھندلی عورت—اس بار کیمرے کی طرف نہیں، تمہاری طرف دیکھتی ہوئی۔
Comments
Post a Comment