اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ریحان کی موت کو اب تین ماہ گزر چکے تھے، لیکن گاؤں میں اب بھی اُس واقعے کی سرگوشیاں جاری تھیں۔ کچھ لوگ کہتے یہ خودکشی تھی، کچھ اسے جنات کا کام سمجھتے۔ مگر جو بھی سچ تھا، "وہ مکان" اب مکمل طور پر ویران ہو چکا تھا۔
ثانیہ، لاہور کی ایک نوجوان صحافی تھی۔ پراسرار کہانیاں اور پراسرار مقامات اُس کی دلچسپی کا محور تھے۔ ایک دن اُسے "چک کمال" کے بارے میں ایک چھوٹی سی خبر ملی:
"خون کی خوشبو سے بھرے مکان میں نوجوان کی پر اسرار موت، قاتل یا روح؟"
یہی کافی تھا۔ ثانیہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ خود گاؤں جائے گی اور حقیقت کا پتا لگائے گی۔
جب ثانیہ گاؤں پہنچی، تو لوگوں نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
"بی بی، اُس مکان کے قریب مت جانا۔ وہاں موت کا سایہ ہے۔"
"ریحان کے بعد کوئی بھی اس طرف نہیں گیا۔"
مگر ثانیہ کو روکنا آسان نہ تھا۔ اُس نے وہی پرانا مکان کرائے پر لے لیا، اور پہلے دن سے ہی تحقیق شروع کر دی۔
رات کو وہ نوٹس بنا رہی تھی کہ ایک بار پھر کمرے میں وہی بدنام خوشبو پھیلنے لگی — تازہ خون کی، بدبو دار، چبھتی ہوئی۔ ثانیہ چونکی، مگر ڈری نہیں۔ وہ ریکارڈر آن کر کے دروازے کی طرف بڑھی۔
اسی لمحے دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ لائٹ بند ہو گئی۔ کمرہ سیاہ ہو گیا۔
پھر، ایک مدھم آواز آئی — جیسے کسی عورت کی سسکیاں ہوں۔
"کیا تم میری آواز سن سکتی ہو؟"
ثانیہ نے کیمرہ آن کیا، لیکن اسکرین پر کچھ نہیں آ رہا تھا۔ اچانک دیوار پر ایک خون آلود ہاتھ کا نشان اُبھر آیا۔ نیچے لکھا تھا:
"سچ ابھی دفن ہے۔"
اگلے دن ثانیہ امام صاحب کے پاس گئی۔ اُن سے تمام پرانی فائلیں اور رپورٹس مانگیں۔
امام صاحب نے دھیرے سے کہا،
"ریحان ہی نہیں… اُس سے پہلے بھی تین لوگ اُس مکان میں مر چکے ہیں۔ اور سب کی لاشوں کے پاس وہی خوشبو، وہی وقت — تین بجے رات۔"
ثانیہ نے پرانے اخبارات کی فائلیں کھولیں۔ حیرت انگیز طور پر، ہر لاش کے پاس ایک ہی جملہ خون سے لکھا ملا تھا:
"انصاف… یا موت!"
مگر ریحان کا کیس باقی سب سے مختلف تھا۔ کیونکہ اُس کی موت سے پہلے اُس نے لاہور میں ایک مشکوک واقعہ چھپایا تھا — وہی لڑکی، جو کبھی پولیس کو رپورٹ نہ ہوئی۔
ثانیہ کو مکان کے کمرے میں ایک پرانا آئینہ ملا، دھندلا اور خراشوں سے بھرا ہوا۔ جیسے ہی اس نے اسے صاف کرنے کی کوشش کی، اُس میں کچھ عجیب نظر آیا — ایک عورت کا چہرہ، جس کے ہونٹ ہل رہے تھے… مگر آواز نہیں آ رہی تھی۔
ثانیہ نے لپ ریڈنگ ایپ سے دیکھا، اور الفاظ سامنے آئے:
"وہ اب بھی زندہ ہے…"
ثانیہ لاہور واپس گئی اور چھان بین کی۔ حیرت انگیز طور پر وہ لڑکی، جسے ریحان نے مارا سمجھا تھا… زندہ تھی۔ وہ کئی سالوں سے پاگل خانے میں تھی — نام بدل کر، یادداشت کھو چکی، لیکن ایک ہی بات بار بار دہراتی تھی:
"وہ مکان… وہ آئینہ… وہ چہرہ…"
ثانیہ اُس لڑکی کو گاؤں لے آئی، مکان کے سامنے کھڑا کیا۔
اس رات، سب کچھ بدلا۔ تین بجے مکان کا دروازہ خود بخود کھلا۔ اندر سے روشنی پھوٹی۔ خون کی خوشبو نہیں آئی — بلکہ خاموشی۔
عورت، جو برسوں سے سایہ بنی ہوئی تھی، دروازے پر آئی — اُس کا چہرہ نرم تھا، سسکیاں تھم چکی تھیں۔
اُس نے پاگل لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا، اور کہا:
"تم زندہ ہو… تو میں آزاد ہوں۔"
اُس لمحے، مکان کی دیواریں لرزنے لگیں۔ آئینہ ٹوٹ گیا۔ کمرے سے دھواں سا نکلا، اور آسمان پر بادل چھا گئے۔
ریحان، اُس کے جیسے دوسرے "مجرم"، سب کی روحیں آزاد ہو گئیں۔
ثانیہ نے اپنی رپورٹ کا عنوان رکھا:
"خاموش دیواریں بھی انصاف مانگتی ہیں"
مگر گاؤں والے اب بھی اُس مکان کے قریب نہیں جاتے۔
کیونکہ… بعض راتوں میں، آئینہ دوبارہ جُڑتا ہے — اور کوئی نیا چہرہ اُس میں جھانک رہا ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment