اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کراچی کے ایک پرانے کباڑی بازار میں، ایک نوجوان لڑکی نور ایک عجیب سا آئینہ خرید کر لائی۔ آئینے کی فریم پر پیتل کا پرانا نقش و نگار تھا، اور اس کے بیچ میں ایک باریک سا کٹ۔ کباڑیے نے کہا تھا:
"یہ صرف شکل نہیں… سچ بھی دکھاتا ہے۔ مگر احتیاط سے!"
نور ہنسی، اور یہ بات مزاق میں اڑا دی۔ وہ ایک آرٹسٹ تھی، پرانے چیزوں سے نیا فن بناتی تھی۔ اس آئینے کو وہ اپنی ورکشاپ میں سجانے کے لیے لائی تھی۔
لیکن اس رات، جب اس نے پہلی بار آئینے میں دیکھا، تو اسے اپنے پیچھے سایہ سا کچھ ہلتا دکھائی دیا۔ وہ پلٹی، پیچھے کوئی نہ تھا۔
“شاید وہم ہوگا…”
لیکن اگلے دن جب وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی، تو اس بار اس نے خود کو دیکھا — مگر آئینے کا عکس مختلف تھا۔ وہی چہرہ، مگر آنکھوں میں خوف، اور ہاتھ پر خون کے دھبے۔
نور پیچھے ہٹی۔
اگلے ہی لمحے آئینے کا عکس دوبارہ معمول پر آ گیا۔
وہ پریشان ہو گئی۔ کیا یہ نظر کا دھوکہ تھا؟ یا کچھ اور؟
دوسری رات
نور نے طے کیا کہ وہ آئینے کے سامنے اپنا موبائل کیمرہ آن کر کے ریکارڈ کرے گی۔ آدھی رات کو جب وہ آئینے کے سامنے بیٹھی، تو کیمرے نے کچھ ایسا قید کیا جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھا:
آئینے میں ایک نوجوان لڑکی دکھائی دی… خون آلود، روتی ہوئی، ہاتھ جوڑ کر رحم کی بھیک مانگتی۔
نور نے ویڈیو روکی، بار بار دیکھی۔ یہ لڑکی وہ نہیں تھی۔ کوئی اور تھی۔ کوئی اجنبی۔
اگلے دن وہ یہ ویڈیو لے کر پولیس اسٹیشن گئی۔ افسر پہلے تو ہنسا، مگر جب ویڈیو دیکھی، تو سنجیدہ ہو گیا۔
"یہ لڑکی… لگتا ہے ہمیں کہیں دیکھی ہے…"
کچھ گھنٹوں بعد، پولیس نے شناخت کر لی۔ یہ لڑکی دو سال پہلے لاپتہ ہوئی تھی۔ فائل بند ہو چکی تھی۔ نام تھا سارہ مجید۔ کیس بند ہوا، کیونکہ کوئی سراغ نہ ملا۔
اب نور اور پولیس ایک بار پھر اس آئینے پر متوجہ ہو گئے۔
پولیس نے آئینے کو ثبوت کے طور پر لیبارٹری بھجوایا — مگر وہاں کسی بھی خاص چیز کا سراغ نہ ملا۔ نہ خون، نہ کوئی کیمیکل، نہ کوئی پروجیکشن ڈیوائس۔
پھر ایک اور رات
نور خواب میں سارہ کو دیکھتی ہے، جو اسے ایک جگہ کا اشارہ دیتی ہے: ایک پرانا، بند گھر، جس پر بورڈ لگا ہے "کرائے پر دستیاب"۔
نور فوراً پولیس کو اطلاع دیتی ہے۔ جب پولیس وہاں پہنچتی ہے، تو تہہ خانے میں وہی لڑکی — سارہ مجید — کی باقیات ملتی ہیں۔ ہڈیاں، کپڑے، اور ایک خفیہ ڈائری۔
ڈائری میں قاتل کا ذکر ہے: ایک ڈاکٹر… ڈاکٹر تیمور۔
ڈاکٹر تیمور شہر کا مشہور ماہرِ نفسیات تھا۔ بظاہر نرم گو اور مشہور، مگر وہ سارہ کے علاج کے دوران اس سے بیمار محبت میں مبتلا ہو گیا۔ جب سارہ نے انکار کیا، اس نے اسے قید کر لیا، اور پھر مار دیا۔
یہ سب نور کے آئینے نے ظاہر کیا۔
اختتام کی طرف:
ڈاکٹر تیمور کو گرفتار کر لیا گیا۔ کیس دوبارہ کھلا، اور نور کو اہم گواہ مانا گیا۔ اس کے "معجزاتی آئینے" کی شہرت پورے میڈیا پر پھیل گئی۔
مگر نور نے وہ آئینہ دوبارہ کبھی نہ دیکھا۔
اس نے اسے ایک دریا میں پھینک دیا، اور بس ایک جملہ کہا:
"سچ اگر ہر بار آئینے میں دکھنے لگے… تو دنیا خوف سے پاگل ہو جائے۔"
Comments
Post a Comment