اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
لاہور کے ایک پوش علاقے میں واقع ایک جدید فلیٹ میں ایک نوجوان سافٹ ویئر انجینئر، ہارون، اپنی تنہائی بھری زندگی گزار رہا تھا۔ وہ دن بھر دفتر میں کام کرتا، اور رات کو واپس آ کر سکرین کے سامنے بیٹھ جاتا۔ اُس کی دنیا کمپیوٹر کوڈز، فائلز، اور تنہائی تھی۔
مگر ایک رات… کچھ عجیب ہوا۔
ہارون نے حسبِ معمول رات کو لیپ ٹاپ کھولا۔ جیسے ہی اس نے ایک نئی فائل کھولی، ایک پاپ اپ میسج نمودار ہوا:
> "تم نے میرا وقت چُرا لیا… اب تمہارا وقت میرے پاس ہے۔"
ہارون چونک گیا۔ یہ فائل اُس نے خود نہیں بنائی تھی۔ فائل کا نام تھا:
حیران ہو کر اُس نے ویڈیو کھولی۔ اس میں ایک شخص بیٹھا تھا… کمرے میں ہلکی روشنی، اور چہرہ دھندلا، لیکن آواز صاف تھی:
> "اگر تم یہ دیکھ رہے ہو… تو تم پہلے ہی کھیل کا حصہ بن چکے ہو۔ تمہیں سات دن دیے جا رہے ہیں۔ ہر دن تمہیں ایک اشارہ ملے گا۔ ساتویں دن… یا تم مر جاؤ گے، یا معافی پا جاؤ گے۔"
ہارون نے فوراً ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنا چاہا… مگر سسٹم نے جواب دیا:
اگلے دن ہارون کے دفتر میں ایک پراسرار لفافہ ملا۔ اس پر کچھ بھی نہیں لکھا تھا۔ اندر ایک پرانے لاکر کی چابی تھی — لاکر نمبر 108۔
یہ لاکر دفتر کی بیسمنٹ میں تھا، جو کئی سالوں سے بند پڑا تھا۔
ہارون نے ہچکچاتے ہوئے لاکر کھولا۔ اندر صرف ایک نوٹ تھا:
> "تم نے جس پروجیکٹ میں وقت چُرایا، اب وہی وقت تمہارے خلاف گواہی دے گا۔"
ہارون کو یاد آیا… وہ پروجیکٹ، جس میں اُس نے ایک فری لانس ڈیویلپر سے کوڈ چرا کر وقت بچایا تھا — اور بعد میں وہ ڈیویلپر پراسرار حالات میں لاپتہ ہو گیا تھا۔
کیا یہ سب اسی سے جڑا ہے؟
</p>
ہر دن ہارون کو ایک نیا اشارہ ملتا —
پرانی ای میلز، کوڈ میں چھپے خفیہ میسجز، CCTV میں دکھنے والی غیر واضح پرچھائیاں۔
ایک دن وہ اپنی بلڈنگ کے لفٹ میں تھا، جب اُس نے لفٹ کے آئینے میں کسی کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھا — پلٹا، تو کوئی نہ تھا۔
مگر آئینے میں وہ شخص اب بھی کھڑا تھا۔
ہارون کا ذہن اب الجھنے لگا تھا۔ وہ ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔ کمپیوٹر، آئینہ، لوگوں کی آنکھیں — سب میں اُسے کوئی راز دکھائی دینے لگا تھا۔
ساتویں دن، ہارون کو ایک آخری ویڈیو فائل ملی۔
ویڈیو میں وہی پراسرار شخص تھا۔ اس بار چہرہ واضح تھا — وہی فری لانس ڈیویلپر، عادل، جو لاپتہ ہو گیا تھا۔
عادل کی آواز آئی:
> "تم نے میری محنت چرائی، میرے نام پر اپنی ترقی بنائی۔ تمہیں نہیں معلوم، میں نے اپنی زندگی کی آخری رات اس کوڈ میں اپنا ’آخری پیغام‘ چھپایا تھا۔"
> "اب تمہارے پاس دو راستے ہیں — خود سب کے سامنے اعتراف کرو… یا میری طرح ہمیشہ کے لیے ’ڈیجیٹل اندھیرے‘ میں کھو جاؤ۔"
اس کے بعد ہارون کا لیپ ٹاپ بند ہو گیا۔ موبائل سروس معطل، گھر کی لائٹس فلیکر کرنے لگیں۔
اگلی صبح، دفتر کی عمارت کے اندر ایک کمپیوٹر اسکرین پر ایک نئی فائل کھلی ہوئی تھی:
"میں نے عادل کا کوڈ چرایا، اور اُس کے بعد اُسے نظر انداز کیا۔ یہ میری سزا ہے۔"
مگر ہارون کہیں نظر نہیں آیا۔
پولیس نے بعد میں بتایا کہ اُس کے اپارٹمنٹ میں کوئی نہیں تھا… صرف ایک خالی کرسی… اور ایک بند لیپ ٹاپ۔
لیکن بعض راتوں کو، اُس فلیٹ کی کھڑکی سے روشنی آتی ہے… اور کچھ کہتے ہیں، اُس کی اسکرین پر بار بار وہی پیغام چمکتا ہے:
Comments
Post a Comment