اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
عائشہ، ایک آرٹ اسٹوڈنٹ، ریشم منزل نامی پرانی حویلی میں گئی جہاں ایک خالی فریم موجود تھا۔ کیمرے کے ذریعے اسے پتا چلا کہ اس میں ایک روتی ہوئی عورت کی تصویر ہے۔ بعد میں وہ جانتی ہے کہ وہ مہرالنساء ہے، جس کی روح اس فریم میں قید ہے۔ جب عائشہ اس کی اصل پینٹنگ واپس فریم میں لگاتی ہے، تو روح آزاد ہو جاتی ہے۔
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ عائشہ دوبارہ اپنی معمول کی زندگی میں واپس آ چکی تھی، لیکن اُس رات کے بعد سے ایک بات واضح تھی — فریم کی کہانی ختم نہیں ہوئی تھی۔
ایک دن، عائشہ کو یونیورسٹی کی لائبریری سے ایک پرانا پارسل ملا، جس پر کوئی نام نہیں تھا۔ اندر ایک چھوٹا سا آئینہ تھا — وہی جیسا اُس نے ریشم منزل کی دراز میں پایا تھا۔
> "تم نے ایک روح کو آزاد کیا، مگر دوسری قید میں چلی گئی۔ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا… مگر ہر سچ دکھانا بھی اس کا فرض نہیں۔"
عائشہ کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔
"کیا یہ ایک نیا جال ہے؟"
اس بار عائشہ نے مہرالنساء کے خاندان کی مزید تفصیل تلاش کی۔ اُس نے آرکائیو میں ایک اور دلچسپ بات پڑھی:
> "مہرالنساء کی ایک جڑواں بہن بھی تھی — ‘نائلہ’ — جو اُس کی گمشدگی کے کچھ دن بعد دماغی توازن کھو بیٹھی اور لاپتہ ہو گئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، نائلہ نے ہی مہرالنساء کی تصویر چرا کر فریم میں قید کر دیا تھا۔"
اب بات واضح ہو رہی تھی۔
نائلہ — شاید وہی ہے جو آئینے میں اب قید ہے… یا شاید وہ زندہ ہے… اور کوئی کھیل کھیل رہی ہے۔
عائشہ نے فیصلہ کیا کہ اُسے دوبارہ ریشم منزل جانا ہو گا۔
جب وہ پہنچی، تو حیرت کی بات یہ تھی — دروازہ کھلا ہوا تھا، اور اندر روشنی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئی۔ ہر دیوار پر اب پرانی تصویریں آویزاں تھیں، جیسے حویلی نے دوبارہ سانس لینا شروع کر دی ہو۔
لیکن وہ فریم… اب خالی نہیں تھا۔
اس میں ایک عورت کی تصویر تھی — وہی چہرہ، مگر اس بار… نرالی آنکھیں۔ نہ مہرالنساء کی معصومیت، نہ درد، بلکہ کوئی اور چیز… کینہ، حسد۔
اچانک فریم کی طرف سے آواز آئی:
"تم نے میری بہن کو آزاد کر کے اچھا نہیں کیا، اب میں تمہیں کبھی واپس نہیں جانے دوں گی…"
عائشہ پیچھے ہٹی، مگر زمین پر رکھا آئینہ خود بخود اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ اور اس میں وہ دیکھ پائی — نائلہ کا چہرہ، جو اُس کے پیچھے کھڑی تھی۔
آئینے میں عائشہ نے ایک عجیب منظر دیکھا:
نائلہ مہرالنساء کو قید کر رہی ہے، اور کہہ رہی ہے:
"تم ہمیشہ سب کی پسندیدہ تھیں! اب تم صرف ایک تصویر ہو گی… جو کبھی مکمل نہیں ہو گی!"
اب عائشہ کو سمجھ آ گیا — نائلہ نے حسد میں اپنی بہن کو فریم میں قید کیا تھا، اور خود کو آئینے میں چھپا دیا تھا۔
وہ فریم کو دیکھا، اور زور سے کہا:
"نائلہ! تمہارا وقت ختم ہوا… تم جس آئینے میں چھپی ہو، وہ اب تمہیں سچائی دکھائے گا!"
عائشہ نے آئینہ فریم کی طرف موڑا — جیسے ہی دونوں کا عکس ملا، فریم کی تصویر ٹوٹ کر بکھر گئی، اور ایک دل دہلا دینے والی چیخ سنائی دی۔
فریم اب واقعی خالی ہو چکا تھا…
اور آئینہ — اب سیاہ ہو چکا تھا۔
عائشہ نے آئینہ ایک چادر میں لپیٹا اور واپس لائبریری کے پارسل روم میں رکھ دیا، اس نوٹ کے ساتھ:
> "اگر کبھی کوئی فریم خالی نظر آئے، اسے مکمل نہ کرنا… کچھ چیزیں خالی رہنا ہی بہتر ہوتی ہیں۔"
لیکن ایک آخری منظر…
ایک چھوٹا لڑکا، لائبریری میں، پارسل اٹھاتا ہے۔
"امی! دیکھو! اس میں آئینہ ہے!"
اور آئینہ… آہستہ آہستہ چمکنے لگتا ہے۔
Comments
Post a Comment