اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

🕯️ "خاموش دروازے – مردہ بچوں کا یتیم خانہ"

 🕯️ "خاموش دروازے – مردہ بچوں کا یتیم خانہ"




پیش لفظ


کہانی کا آغاز ہوتا ہے ایک تنہا، بوسیدہ عمارت سے… جو شہر کے کنارے سنسان علاقے میں کھڑی تھی۔


لوگ اسے "خاموش دروازے والا یتیم خانہ" کہتے تھے۔


یہ وہ جگہ تھی جہاں 1947 کے بعد یتیم بچے رکھے گئے تھے، مگر 1972 میں ایک پراسرار آگ سے عمارت جل گئی، اور تمام بچے ہلاک ہو گئے۔


مگر عجیب بات یہ تھی…

نہ بچوں کی لاشیں ملیں، نہ کوئی چیخ سنی گئی۔


بس دروازے… ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے۔




داخلہ – 50 سال بعد


کہانی کی ہیروئن فائزہ ہے، جو ایک نوجوان ڈاکیومنٹری فلم میکر ہے۔

وہ پرانی جگہوں پر جا کر ان کے بارے میں تحقیق کرتی ہے۔


جب اُسے "خاموش دروازے" کی کہانی سنائی گئی، تو اس نے فوراً وہاں فلم بنانے کا ارادہ کر لیا۔


مقامی لوگوں نے روکا:


> "بی بی، رات کو وہاں سے بچوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں… وہاں کچھ ہے جو اندر بند نہیں، بلکہ… باہر آنے کا انتظار کر رہا ہے۔"




فائزہ ہنسی۔ اسے لگا یہ سب کہانیاں ہیں۔

مگر حقیقت… کہانی سے کہیں زیادہ سیاہ تھی۔




پہلی رات


فائزہ اور اس کی ٹیم (دو کیمرہ مین، ایک ساؤنڈ ریکارڈر) یتیم خانے پہنچے۔ عمارت کھنڈر تھی، مگر دروازے ویسے ہی مضبوط… اور عجیب بات یہ کہ زنگ آلود ہونے کے باوجود، وہ خود بخود کھل گئے۔


اندر گھپ اندھیرا۔ دیواروں پر بچوں کے ہاتھوں کے نشان۔

پھٹے پرانے کھلونے، بوسیدہ پلنگ، اور دیوار پر لکھا ایک جملہ:


> "ہم کھیلنا چاہتے تھے… مگر آپ نے ہمیں جلا دیا۔"



اچانک فائزہ کو آواز آئی…

ہنسی کی آواز… ایک بچے کی۔



چمکتی آنکھیں


کیمرہ مین بلال، اوپر کی منزل پر گیا تو واپس نہ آیا۔

جب باقی ٹیم اوپر پہنچی تو دیکھا — ایک خالی کمرہ، جس کی دیوار پر خون سے لکھا تھا:


> "1 گیا… باقی کتنے؟"



پھر اچانک، روشندان سے دو چھوٹی سرخ آنکھیں جھانکنے لگیں۔

کیمرہ خود بخود آن ہو گیا، اور سکرین پر ایک دھندلی سی تصویر نظر آئی:


ایک بچے کا چہرہ… آدھا جلا ہوا… مگر مسکراتا ہوا۔


فائزہ نے فوراً وہاں سے نکلنے کا کہا، مگر دروازے بند ہو چکے تھے۔



رات کا کھیل


اب اندر صرف سرگوشیاں تھیں:


> "ہمیں کہانی سناو…"

"ہمیں ہنسنا ہے…"

"تمہاری باری ہے…"



ہر گھنٹے میں ایک ٹیم ممبر غائب ہوتا گیا۔

کبھی دروازے کے پیچھے سے چیخ، کبھی سیڑھیوں پر گرتی لاش کی آواز، کبھی ہنسی جو بند نہ ہو۔


آخر میں صرف فائزہ بچی۔


اُسے دیوار میں ایک پرانی دراز ملی، جس میں بچوں کے ہاتھ سے لکھی ایک ڈائری تھی:


> "ہمیں یہاں قید کر کے جلا دیا گیا… مگر ہماری کہانی پوری نہیں ہوئی۔ جو بھی ہماری بات سنے گا… وہ خود کہانی کا حصہ بنے گا۔"



اختتام… یا آغاز؟


اگلی صبح یتیم خانہ کھلا ملا… مگر اندر کوئی نہیں تھا۔

صرف ایک کیمرہ، جو ریکارڈنگ پر تھا۔


جب پولیس نے ریکارڈنگ دیکھی… تو آخر میں فائزہ کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا، اور وہ ایک بچے کی آواز میں کہہ رہی تھی:


> "میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی… اگلا دروازہ تم پر کھلے گا…"

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا