اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ لاہور کی پرانی انارکلی کی ایک گلی میں واقع ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں علی احمد بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا رہی تھیں، اور فضا میں ایک عجب سی اُداسی تھی۔
علی ایک فری لانس جرنلسٹ تھا اور اس نے حال ہی میں ایک چھوٹے مگر مشہور بلاگ کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ اُس کے ای میل انباکس میں ایک نیا پیغام آیا۔ بھیجنے والے کا نام تھا:
"رحمت حسین، وارث حویلی"
> "جناب علی احمد صاحب، آپ کی تحریریں میں نے بہت شوق سے پڑھی ہیں۔ میری ایک ذاتی درخواست ہے کہ آپ کچھ دنوں کے لیے جنوبی پنجاب میں واقع میرے گاؤں 'چاہ بہاول' آ کر میری حویلی پر قیام کریں۔ یہاں ایک عجیب سلسلہ چل رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے اپنے الفاظ میں دنیا کے سامنے لائیں۔ خرچ میرے ذمہ، صرف سچائی آپ کی!"
نیچے پتہ اور رابطہ نمبر درج تھا۔ علی کے دل میں عجیب سا تجسس جاگا۔ اُس نے سوچا، "ایسی پراسرار دعوت کم ہی ملتی ہے۔"
تین دن بعد، علی احمد، ایک پرانی بس کے ذریعے 'چاہ بہاول' پہنچا۔ یہ گاؤں، شہر کی چمک دمک سے میلوں دور، وقت کی قید سے آزاد لگتا تھا۔ یہاں کے باسی کم گو اور عجیب نظروں سے اجنبیوں کو دیکھتے تھے۔
وارث حویلی ایک پہاڑی پر واقع تھی۔ پرانی اینٹوں سے بنی، لکڑی کے بڑے بڑے دروازے، اور خستہ حال کھڑکیاں۔ لگتا تھا جیسے یہ عمارت خود کوئی راز چھپائے بیٹھی ہے۔
رحمت حسین، ایک لمبے قد کا کمزور جسم والا بوڑھا شخص تھا۔ اُس کی آنکھوں میں نیند کم اور پریشانی زیادہ تھی۔
"خوش آمدید، علی صاحب!" اُس نے کمزور آواز میں کہا۔ "یہ حویلی... کچھ عجیب ہو چکی ہے۔ ہر رات کسی کے چلنے کی آواز آتی ہے، دیواروں سے سرگوشیاں، اور کچھ چیزیں اپنی جگہ خود بدل جاتی ہیں۔ کئی مہمان آئے، کچھ پاگل ہو کر گئے، کچھ... لوٹ کے نہ آئے۔"
علی نے ہلکا سا ہنستے ہوئے کہا، "یہ سب جان کر تو مجھے اور بھی دلچسپی ہو گئی ہے۔"
پہلی رات، علی کو اوپر کی منزل پر ایک کمرہ دیا گیا۔ رات کے دو بجے، اُس کی آنکھ اچانک کھلی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، لیکن ایسا اندھیرا جس میں روشنی کا تصور بھی نہ ہو۔
اچانک، دروازے کے پیچھے سے کسی کے ننگے پیر گھسٹنے کی آواز آئی۔ آہستہ آہستہ وہ آواز دروازے کے قریب آئی۔ علی نے ہمت کر کے دروازہ کھولا، لیکن باہر کچھ بھی نہ تھا۔ صرف سرد ہوا اور پرانے قالین کی مہک۔
لیکن جیسے ہی وہ پلٹا، اُسے دیوار پر کچھ تحریر نظر آئی:
> "واپس چلے جاؤ، علی..."
یہ خون سے لکھی تحریر تھی۔
اگلے دن، علی نے گاؤں کے ایک بزرگ، بابا نور محمد، سے ملاقات کی۔
"بیٹا، وہ حویلی تو لعنتی ہے۔ وہاں پچاس سال پہلے ایک عورت کو زندہ جلا دیا گیا تھا، نام تھا زُلیخا۔ لوگ کہتے ہیں اُس نے کالے علم کا سہارا لیا تھا، اور جب گاؤں کے لوگوں نے اسے جلا دیا، اُس کی روح حویلی سے کبھی نہ نکلی۔"
"تو کیا وہ اب بھی وہاں ہے؟" علی نے پوچھا۔
"کہتے ہیں، رات کو جب تین بجتے ہیں، وہ اپنے جلے ہوئے جسم کے ساتھ کمرے سے نکلتی ہے، اور جو اُس کی آواز سنتا ہے، وہ یا تو پاگل ہو جاتا ہے یا خود کو ختم کر لیتا ہے۔"
چوتھی رات، علی نے فیصلہ کیا کہ وہ زُلیخا کی موجودگی کو ثابت کرے گا۔ اُس نے اپنے کمرے میں کیمرہ لگایا، وائس ریکارڈر آن کیا اور خود جاگتا رہا۔
رات ٹھیک تین بجے، حویلی کی دیواریں ہلنے لگیں۔ چھت سے راکھ گرنے لگی، اور ہوا میں جلی ہوئی کھال کی بو پھیل گئی۔
تب ہی، دروازہ خود بخود کھلا۔ باہر ایک عورت کھڑی تھی، جس کے جسم کا گوشت جھلسا ہوا تھا، آنکھیں جل رہی تھیں، اور وہ صرف ایک بات کہہ رہی تھی:
> "علی... تم نے بھی مجھے نہیں سنا... تمہیں بھی جلنا ہو گا!"
علی کی چیخیں حویلی کی فضا میں گونجیں، لیکن کوئی سننے والا نہ تھا۔
صبح، رحمت حسین نے علی کو بیہوش حالت میں پایا۔ اُس کے جسم پر جلنے کے نشانات تھے، لیکن آگ کہیں نہیں لگی تھی۔
جب علی کو ہوش آیا، وہ صرف ایک بات کہہ رہا تھا:
"زُلیخا واپس آ چکی ہے... وہ سب کو لے جائے گی!"
اُس دن کے بعد، علی نے کبھی صحافت نہیں کی۔ وہ واپس لاہور تو آیا، مگر اب وہ ایک خاموش، خوف زدہ انسان تھا۔ اُس کی تحریریں بند ہو گئیں، اور اُس کی آنکھوں میں ہمیشہ خوف کے سائے رہنے لگے۔
چند ہفتے بعد، بلاگ پر ایک آخری تحریر شائع ہوئی۔ مصنف کا نام درج نہیں تھا، مگر لکھا تھا:
> "اگر تمہیں کبھی کسی سنسان حویلی سے دعوت ملے، تو جان لو، شاید وہ دعوت نہیں، بلاوا ہے۔ اور ہر بلاوا... موت کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔"
Comments
Post a Comment