اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
پہلا حصہ یاد ہے؟
ارحم غائب ہو چکا تھا۔ اس کی آخری کال ایک پراسرار نمبر پر ہوئی تھی:
اور اس کے بعد صرف خاموشی، اندھیرا… اور خوف۔
اب بات کرتے ہیں نیہا کی…
نیہا، ارحم کی کولیگ تھی۔ ارحم کے لاپتہ ہونے کے بعد وہ مسلسل بے چین تھی۔ پولیس نے کیس بند کر دیا، کہہ دیا: "لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے"۔
لیکن نیہا کو چین نہیں آیا۔ وہ جانتی تھی کہ ارحم کوئی ایسا شخص نہیں جو بغیر اطلاع دیے غائب ہو جائے۔
ایک رات، جب وہ ارحم کی فائلز دیکھ رہی تھی، اسے ایک چھوٹا سا نوٹ ملا۔ ایک پوسٹ اٹ پیپر، جس پر لکھا تھا:
"اگر مجھے کچھ ہو جائے، تو بیسمنٹ مت جانا… اور اُس نمبر پر کبھی کال مت کرنا!"
نیچے وہی نمبر لکھا تھا:
نیہا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فیصلہ کیا… اسے حقیقت جاننی ہے۔
اگلی رات وہ جان بوجھ کر دفتر دیر تک رکی۔ سب چلے گئے تو وہ بیسمنٹ کے دروازے کی طرف بڑھی۔
دروازے پر زنگ آلود تالا تھا… لیکن حیرت کی بات یہ کہ تالا کھلا ہوا تھا۔
چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ کھلا… اور نیچے اندھیرا تھا۔ اس نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور نیچے اترنے لگی۔
ہر قدم کے ساتھ ہوا ٹھنڈی اور بھاری ہوتی گئی۔ جیسے وہاں کچھ موجود ہو… کچھ جو دیکھ نہیں رہا، لیکن محسوس ہو رہا ہو۔
بیسمنٹ میں پہنچ کر اسے ایک پرانا ٹیبل، کچھ خالی فائلیں، اور ایک زمین پر گرا ہوا فون ملا… وہی فون، جس سے آخری کال کی گئی تھی۔
فون کی اسکرین پر ایک ہی پیغام چمک رہا تھا:
اچانک فون خود بخود کانکٹ ہوا، اور آواز آئی:
"نیہا… تم بھی آ گئی؟ تمہیں بھی جاننا ہے نا سچ؟"
یہ آواز ارحم کی تھی… لیکن کچھ بدلا ہوا تھا۔ جیسے وہ بہت دور، کسی اور جہان سے بول رہا ہو۔
"ارحم؟ تم کہاں ہو؟ کیا ہوا تھا اس رات؟" نیہا نے چیخ کر پوچھا
"وہ… بیسمنٹ میں قید ہے۔ وہ آواز… وہ سایہ… وہ مجھ میں سما گیا ہے۔ نیہا، تم ابھی واپس جا سکتی ہو، مت رکو، ورنہ تم بھی…”
اچانک فون کی اسکرین پھٹ گئی۔ روشنی بجھ گئی۔ اور کسی نے پیچھے سے نیہا کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
نیہا پلٹی… اور اس کا سامنا ایک کالے، دھندلے وجود سے ہوا۔ وہی سایہ… جس کے جسم پر انسانی شکل تو تھی، مگر چہرہ ایک کالا خلا۔
“ایک کال سے سب کچھ بدل جاتا ہے… تم نے کال نہیں کی… مگر تم آئی ہو… اب تم بھی قید ہو گی۔”
نیہا کی چیخوں سے بیسمنٹ گونجنے لگا۔ لیکن باہر… خاموشی۔
دفتر کھلا، سب آ گئے۔ اب ارحم کی کرسی کے ساتھ نیہا کی کرسی بھی خالی تھی۔
اور ان کی کمپیوٹر اسکرینز پر ایک ہی پیغام:
کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔
لیکن اُس دن کے بعد، دفتر میں ایک نئی ہدایت جاری ہوئی:
"رات کو اکیلے کام مت کریں۔ اور بیسمنٹ کے دروازے کو مت چھیڑیں۔"
لیکن کبھی کبھی… جب رات کو کوئی بچ کر جاتا ہے… تو فون بجتا ہے…
اور اگر وہ اٹھا لے…
تو وہ کبھی واپس نہیں آتا۔
Comments
Post a Comment