اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
پرانے کاغذ، مٹی کی مہک، اور خاموش کمرے میں ایک نوجوان لڑکی، زارا، اپنی نانی کے چھوڑے گئے صندوق کو کھول رہی تھی۔ نانی کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا، اور زارا کو ان کی کچھ چیزیں محفوظ کرنی تھیں۔
صندوق میں پرانی ساڑیاں، چوڑیاں، اور ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ تھا۔ جیسے ہی زارا نے وہ ڈبہ کھولا، اس میں ایک مڑا ہوا، پرانا خط رکھا تھا، جس پر صرف ایک نام لکھا تھا: "زریں"۔
زارا حیران ہوئی، کیونکہ نانی کا اصل نام زریں تھا۔ اس نے وہ خط کھولا، اور پڑھنا شروع کیا:
جب تم یہ خط پڑھو گی، شاید میں تم سے بہت دور جا چکا ہوں۔ لیکن تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمہاری خاموش مسکراہٹ میری دنیا کی سب سے خوبصورت روشنی تھی۔
تم ہر روز اس لائبریری میں آتی تھیں، اور اپنی کتاب کے ساتھ بیٹھ جاتی تھیں۔ تم نے شاید کبھی میری طرف دیکھا بھی نہ ہو، لیکن میں ہر لمحہ تمہیں دیکھتا رہا…
میں تم سے محبت کرتا ہوں، زریں۔"
خط ادھورا تھا۔ نہ بھیجنے والے کا نام، نہ تاریخ، نہ اختتام۔
زارا کا تجسس بڑھ گیا۔ اس نے اپنی ماں سے نانی کی جوانی کے بارے میں پوچھا، لیکن ان کے پاس بھی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ صرف اتنا کہ زریں کا ایک منگیتر ہوا کرتا تھا، جو جنگ میں چلا گیا تھا… اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔
زارا نے نانی کے شہر کی پرانی لائبریری جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں پرانے ریکارڈز میں ایک نام ملا: فرہاد حسین۔ وہ اس لائبریری میں 1965 میں بطور لائبریرین کام کرتا تھا، اور پھر اچانک کہیں چلا گیا۔
زارا کو اب اپنی نانی کی محبت کی کہانی کو مکمل کرنا تھا۔ اس نے مزید تفتیش کی، اور بالآخر ایک بزرگ شخص تک پہنچی جو فرہاد حسین کے دوست تھے۔
"فرہاد؟ وہ تو ایک پاگل عاشق تھا۔ زریں کی خاموشی کو وہ عبادت کی طرح چاہتا تھا۔ کبھی اظہار نہ کیا، بس خط لکھے… اور پھر چلا گیا۔"
زارا نے وہ خط ان بزرگ کو دکھایا۔ ان کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
"یہ فرہاد کا ہی لکھا ہوا ہے۔ میں اس کی تحریر پہچانتا ہوں۔ اس نے درجنوں خطوط لکھے، لیکن کبھی زریں کو دینے کی ہمت نہ ہوئی۔"
زارا واپس آئی۔ وہ رات بھر سوچتی رہی کہ نانی نے وہ خط کبھی کسی کو دکھایا کیوں نہیں؟ کیا وہ بھی فرہاد سے محبت کرتی تھیں؟ یا انہیں کبھی علم ہی نہ ہوا؟
چند دن بعد زارا کو نانی کی ڈائری ملی۔ اس میں ایک صفحے پر لکھا تھا:
"میں نے وہ خط پڑھا۔ میں جان گئی تھی۔
لیکن میں بھی خاموش تھی… شاید ہم دونوں اپنی محبت میں شرمیلے تھے۔
کاش وہ کہہ دیتا… یا میں سن لیتی…
محبت خط میں قید رہی، اور ہم زندگی میں خاموش رہے۔"
زارا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایک ایسی محبت جس کا آغاز ہوا، مگر اختتام نہ ہوا۔ صرف دلوں میں زندہ رہی۔
زارا نے فیصلہ کیا کہ وہ اس محبت کو دنیا کے سامنے لائے گی۔ اس نے وہ خط، نانی کی ڈائری، اور تمام کہانی کو ایک چھوٹی کتاب کی شکل دی، جس کا نام رکھا: "ایک خط کی محبت"۔
کتاب چھپی، لوگوں نے پڑھی، اور کئی دلوں میں پرانی محبتیں جاگ اٹھیں۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اظہارِ محبت اہم ہے۔ خاموشی کبھی کبھی وقت کو قید کر لیتی ہے، اور محبت ادھوری رہ جاتی ہے۔
محبت کو صرف محسوس نہیں، کہنا بھی سیکھو… ورنہ وہ خطوں میں، ڈائریوں میں اور یادوں میں رہ جائے گی۔
Comments
Post a Comment