اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
فیصل آباد کے مضافاتی علاقے میں ایک پرانا کوٹھا تھا جسے مقامی لوگ "سیاہ کوٹھی" کہتے تھے۔
برسوں سے خالی، بند، اور سنسان — لیکن ہر وقت ایسا محسوس ہوتا جیسے اندر کوئی سانس لے رہا ہو۔
مشہور تھا کہ اس کوٹھی میں ایک جن قید ہے۔
نہایت طاقتور، پرانا، اور انتقامی۔
اسے ایک بزرگ عامل نے تانبے کے طلسم سے بند کیا تھا۔
لیکن طمع اور لالچ انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔
یہی لالچ لے آئی مبشر کو۔
مبشر، ایک خودساختہ روحانی عامل تھا۔ تعویذ، چلہ کشی، بندش — سب کرتا تھا۔
لیکن حقیقت میں اسے جنات کی دنیا کی کوئی خبر نہ تھی۔
جب اسے ایک خفیہ کتاب ہاتھ لگی جس میں لکھا تھا:
"کوٹھی میں قید جن سے دولت حاصل کی جا سکتی ہے، بس طلسم توڑ دو"
وہ فوراً تیار ہو گیا۔
وہ رات کو تنہا کوٹھی میں داخل ہوا۔
ہاتھ میں چراغ، کندھے پر کتاب، جیب میں تعویذ، اور دل میں غرور۔
کمرے کی دیواروں پر سوراخ تھے، چھت سے جالے لٹک رہے تھے، اور فضا میں عجیب سی بدبو تھی — گوشت گلنے جیسی۔
وسطی کمرے میں ایک بڑا سا دائرہ بنا تھا — کالے رنگ کی چاک سے۔
بیچ میں تانبے کا ایک بڑا کٹورہ رکھا تھا، جس پر کلمے اور عربی نقش کندہ تھے۔
مبشر نے وہ طلسمی نقش مٹایا۔
جونہی وہ کٹورے کو ہاتھ لگاتا ہے، ایک زوردار چیخ گونجی —
ایسی جیسے آسمان چیرا گیا ہو۔
کوٹھی کی دیواریں لرزنے لگیں۔ چراغ بجھ گیا۔
مکمل اندھیرا۔
اور پھر… کسی نے ہنسی۔
ایک ایسی آواز، جو انسان کی نہ تھی۔
نہایت گہری، بھاری، اور کھوکھلی۔
"تو نے مجھے آزاد کر دیا، انسان…"
"اب سودا پورا ہو گا…"
اگلی صبح، لوگوں نے دیکھا کہ مبشر کے گھر کے باہر دو بوری لاشیں پڑی تھیں —
اس کی بیوی اور بیٹا، دونوں کی گردنیں مڑی ہوئی، چہرے سیاہ۔
اور مبشر؟
وہ پاگل ہو چکا تھا۔
منہ سے جھاگ، آنکھیں اُلٹی، زبان مسلسل کچھ پڑھتی رہتی تھی:
"میں نے سودا کیا تھا… میں نے قیمت نہیں پڑھی تھی… وہ قیمت مانگنے آیا ہے…"
پھر ایک دن وہ بھی غائب ہو گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ کوٹھی کے اندر سے اب دو آوازیں آتی ہیں:
ایک جن کی… اور ایک انسان کی۔
جو روتا ہے۔ ہر رات، عذاب میں۔
آج بھی بعض لالچی لوگ وہاں جاتے ہیں — دولت، طاقت یا انتقام کی نیت سے۔
جن انہیں ایک سودا پیش کرتا ہے:
"اپنا پیارا دے دو — اور بدلے میں سب کچھ لے لو"
اکثر لوگ ہنستے ہیں، مذاق سمجھتے ہیں۔
اور پھر… وہ سودا ہو جاتا ہے۔
اگلی صبح، کسی نہ کسی کے گھر سے ایک بچہ غائب ہوتا ہے۔
اور کوٹھی کی چھت پر، ایک نیا سایہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
جن اب قید نہیں۔
وہ "سودا" اب ایک زنجیر ہے، جو ایک سے دوسرے انسان تک منتقل ہو رہا ہے۔
اگر کبھی کوئی تم سے کہے:
"سیاہ کوٹھی میں جا کر کچھ پڑھ آؤ، دولت تمہاری ہو گی…"
تو صرف ایک بار… صرف ایک بار آئینے میں اپنی آنکھوں میں جھانک لینا۔
کیونکہ ہو سکتا ہے، تم نے سودا کر لیا ہو… اور تمہیں خبر ہی نہ ہو۔
Comments
Post a Comment