اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

قید شدہ جن کا سودا

 قید شدہ جن کا سودا




حصہ دوم: "قیمت سے انکار"


کردار: حنان

عمر: 22 سال

شوق: یوٹیوبر – "خوف کی حقیقت" نامی چینل چلاتا ہے۔


حنان کو سیاہ کوٹھی کی کہانی بچپن سے معلوم تھی۔

جب مبشر کا واقعہ ہوا تھا، حنان چھوٹا تھا۔

اس کا باپ ہر بار کہتے:

"بیٹا، دولت کا لالچ تمہیں یا تو پاگل کر دے گا… یا مردہ!"


لیکن اب حنان بڑا ہو چکا تھا۔

اور شہرت کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار۔


"اگر میں وہاں کی ویڈیو بناؤں، اصلی جن کی، تو چینل راتوں رات ہٹ ہو جائے گا!"

یہ سوچ کر وہ دوستوں کے منع کرنے کے باوجود،

کیمرہ اور مائیک لے کر سیاہ کوٹھی پہنچا۔



رات 1:13AM — ریکارڈنگ شروع


حنان اندر داخل ہوا۔

کوٹھی میں سناٹا — جیسے کوئی سانس بھی نہیں لے رہا۔


کیمرا آن تھا، ہر کمرہ دکھاتا جا رہا تھا۔


اور پھر وہی کمرہ آیا۔

جس میں مبشر نے طلسم توڑا تھا۔


حنان کو وہاں ایک نیا دائرہ بنا ملا — بالکل ویسا ہی، مگر اس بار بیچ میں کچھ اور تھا:


ایک پتھر، جس پر کسی کا خون جما ہوا تھا۔


حنان جیسے ہی نزدیک گیا، ہوا رک گئی۔

کمرہ سرد ہو گیا۔


کیمرا بند۔

اسکرین کالی۔

اور پھر آواز آئی:


"تو بھی سودا کرنے آیا ہے؟"


حنان چونک گیا۔


"کون ہے؟"


"میں وہ ہوں جسے قید کیا گیا… جسے ہر انسان آزادی دیتا ہے… اور پھر بھول جاتا ہے… کہ قیمت بھی ہوتی ہے!"


حنان کا سودا


جن کی آواز گونجتی رہی:


"تو چاہتا ہے شہرت؟ دولت؟ لاکھوں فالورز؟"


حنان — خوفزدہ مگر لالچ میں:


"ہاں… ہاں چاہتا ہوں۔"


"تو سن… سودا ہو گیا۔"


"قیمت: تیری ماں کی آخری سانس!"


حنان پیچھے ہٹا، گھبرا گیا۔


"نہیں! میری ماں نہیں! میں کچھ اور دے دوں گا!"


خاموشی۔

پھر قہقہہ۔


"قیمت طے ہو چکی ہے… اب انکار دیر سے ہوتا ہے، انسان!"


صبح: حنان کی واپسی


حنان بے ہوش حالت میں کوٹھی کے دروازے پر ملا۔

چہرہ زرد، آنکھیں سرخ، زبان پر چھالے۔


کیمرا اس کے ساتھ تھا، ویڈیو مکمل ریکارڈ۔


یوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہی وہ ویڈیو وائرل ہو گئی۔


چینل پر لاکھوں سبسکرائبرز… شہرت… دولت… اسپانسرشپ…


لیکن اسی رات، اس کی ماں سوتے میں دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی۔


حنان چیخ اٹھا۔


"یہ اتفاق ہے! یہ جن کا کام نہیں!"


مگر پھر اگلی رات، ماں کی آواز اس کے کمرے میں گونجی:


"حنان… تُو نے مجھے بیچ دیا!"


خاتمہ… یا آغاز؟


حنان نے چینل بند کر دیا۔

ویڈیو ڈیلیٹ کر دی۔

گھر چھوڑ دیا۔


لیکن جو سودا ایک بار ہو جائے — اس کی قیمت کبھی مکمل نہیں جاتی۔


اب رات کے پچھلے پہر، جب حنان آئینے میں دیکھتا ہے،

تو اسے اپنی ماں کی جھلک نظر آتی ہے — خون آلود آنکھوں کے ساتھ۔


اور کبھی کبھار، فون کی اسکرین پر، بغیر نیٹ کے،

اسے صرف ایک نوٹیفکیشن آتا ہے:


> "جن: تیرا قرض ابھی باقی ہے…"


Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا