اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ کہانی ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک نوجوان لڑکے کی ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک محنتی اور ایماندار لڑکا تھا، لیکن اس کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اس کی ساری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔
علی کا گاؤں پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت کرتے تھے، اور دن رات کھیتوں میں محنت کرتے تھے۔ علی کی زندگی سادہ تھی، مگر ایک خوفناک واقعہ نے اسے خوف کا سامنا کروایا۔
ایک دن علی کے والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ گاؤں کے قریب واقع ایک جنگل سے لکڑیاں جمع کرنے کے لیے جائیں گے تاکہ سردیوں کے لیے ایندھن ذخیرہ کر سکیں۔ علی نے بھی اپنے والدین کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ خود بھی کھیتوں میں کام کر کے تھک چکا تھا۔ لیکن اس دن کا سفر ان کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا۔
گاؤں سے باہر نکل کر جنگل کی طرف بڑھتے ہوئے علی نے محسوس کیا کہ فضا کچھ عجیب سی ہو گئی ہے۔ درختوں کے درمیان ایک سناٹہ چھا گیا تھا، جیسے پوری دنیا خاموش ہو چکی ہو۔ علی نے اپنے والد سے کہا، "ابا، یہ جنگل کچھ عجیب سا لگ رہا ہے، کہیں ہمیں کوئی مسئلہ نہ ہو جائے۔" لیکن علی کے والد نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، یہ تمہاری سوچ ہے، یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔"
جنگل کے اندر جتنا وہ گہرے ہوتے گئے، اتنا ہی خوف بڑھتا گیا۔ علی کو لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ان کی پیروی کر رہا ہو، مگر جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا، کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں پر یقین کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ صرف اپنے ذہن کا کھیل ہے، مگر پھر اس کے سامنے ایک خوفناک منظر آیا۔
جنگل کے ایک گہرے حصے میں ایک قدیم درخت کھڑا تھا۔ اس درخت کے نیچے کچھ عجیب سا سا بھیانک نشان بنا ہوا تھا۔ اس نشان کے قریب جانے پر علی کو ایک سرد ہوائیں محسوس ہوئیں۔ علی نے اپنے والد سے کہا، "ابا، یہ جگہ کچھ خوفناک لگ رہی ہے۔ ہمیں واپس چلنا چاہیے۔" لیکن اس کے والد نے درخت کے قریب جا کر اس نشان کو چھو لیا اور کہا، "بیٹا، یہ صرف ایک نشان ہے، کچھ نہیں ہے۔"
اتنے میں اچانک درخت کے نیچے سے ایک ہولناک آواز آئی۔ علی کے والد کی آنکھوں میں ایک خوف تھا، جیسے کچھ برا ہونے والا ہو۔ اچانک ایک سایہ درخت کے اوپر سے نیچے گر آیا اور علی کے والد کے سامنے آ کر رکا۔ علی کا دل دہل گیا، اس کا جسم سن ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
"ک—ک—ک—کیا یہ؟" علی کے والد بمشکل بولے، اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہہ پاتے، سایہ ایک جھرمٹ کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔ پھر ایک اجنبی آواز آئی، "یہ تمہاری آخری منزل ہے۔"
علی کے والد کو بے ہوش ہوتے ہوئے دیکھ کر، علی کو بے اختیار خوف نے گھیر لیا۔ وہ زمین پر گر کر کانپنے لگا، اور اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ وہ اپنے والد کی حالت میں کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ پھر ایک لمحے میں، وہ سایہ ان دونوں کے قریب آیا اور علی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
"تمہارے دل میں ایک چھپی ہوئی خوف ہے، اور اب تمہارا وقت آ گیا ہے۔" وہ سایہ بولا۔
علی کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس درخت کے جال میں پھنس چکا ہے۔ اسی لمحے، سایہ نے ایک عجیب سے ہنسی کے ساتھ علی کو کہا، "یہ خوف تمہارے ساتھ ہمیشہ رہے گا، جب تک تم اسے اپنے دل سے نکال نہ دو۔"
علی نے دل میں عزم کیا کہ وہ اس خوف سے لڑے گا۔ اس نے کہا، "میں تم سے نہیں ڈروں گا، میں اپنے والد کو بچا کر واپس جاؤں گا۔"
اس کے بعد علی نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا تلوار نکالا، جو اس کے والد نے اس کے لیے بنائی تھی۔ علی نے تلوار کے ذریعے اس سایے کو کاٹنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی تلوار سایے کے جسم سے ٹکرا رہی تھی، وہ سایہ غائب ہو گیا۔ علی کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا، لیکن اس کا عزم کم نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنے والد کو اٹھا کر تیزی سے واپس گاؤں کی طرف دوڑنے لگا۔
گاؤں واپس پہنچنے تک علی کا جسم تھکا ہوا تھا، مگر اس کے دماغ میں خوف کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس خوف کو اپنے دل سے نکال چکا تھا، اور اب وہ کسی بھی آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا۔
Comments
Post a Comment