اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کہانی: سانپ اور سایہ
ایک جنگل میں ایک سانپ زخمی ہو گیا۔ اُسے ایک درخت کے سائے تلے بے ہوش پایا گیا۔
ایک نیک دل مسافر، فہد، وہاں سے گزر رہا تھا۔ اُس نے سانپ کو مرتے دیکھا تو رحم آ گیا۔
abid
اُس نے چمڑے کی تھیلی سے پانی نکالا، سانپ کے زخم دھوئے، اور اُسے محفوظ جگہ پر لے آیا۔
لوگوں نے اُسے منع کیا:
"یہ سانپ ہے، اس کی فطرت ڈسنا ہے۔ بچا بھی لیا تو کاٹے گا!"
فہد نے کہا:
"نہیں، جب کسی پر احسان کرو تو وہ بدل جاتا ہے۔"
چند دن گزرے، سانپ ٹھیک ہو گیا۔ فہد نے اُسے واپس جنگل میں چھوڑ دیا۔ جانے سے پہلے سانپ نے بس ایک بات کہی:
"یاد رکھنا، فطرت کو سمجھنا عقل ہے، بدلنے کی اُمید رکھنا نادانی۔"
فہد ہنسا:
"اب تم بدل چکے ہو!"
کچھ ماہ بعد فہد پھر اسی جنگل سے گزر رہا تھا۔ اچانک اُسی سانپ نے جھاڑیوں سے نکل کر اُس کا پاؤں ڈس لیا۔
فہد حیران ہوا، درد سے کراہتے ہوئے بولا:
"میں نے تمہیں بچایا تھا!"
سانپ نے صرف اتنا کہا:
abid
تم نے احسان کیا، میں نے فطرت نبھائی… حساب برابر۔"
---
Comments
Post a Comment