اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
آئینہ ٹوٹ چکا تھا، منیب ہوش میں آ گیا تھا — مگر اس کی یادداشت ختم ہو گئی تھی۔ ثنا غائب تھی۔ لوگ سمجھے کہ اس نے خود کو مار دیا، مگر ایک چیز ابھی باقی تھی..
"آئینہ توڑا گیا تھا، مگر عکس.. آزاد نہ ہوا تھا۔"
کہانی آگے بڑھتی ہے:
ایک ماہ بعد، منیب کے کمرے کی دیوار پر ہر رات ایک دھندلا عکس ابھرنے لگا — جس میں ایک لڑکی چیخ رہی تھی۔
وہ ثنا تھی۔
لیکن وہ آئینے کے پیچھے تھی — جیسے کسی اور دنیا میں قید۔
منیب کی ماں نے کہا:
"بیٹا، وہ آئینہ تو ہم نے توڑ دیا تھا نا؟ پھر یہ عکس کیوں؟"
منیب کے دل میں ایک صدا گونجی:
"وہ تمہاری خاطر قید ہو گئی.. اب تمہیں اسے آزاد کرنا ہوگا۔۔۔"
دوسری طرف، ثنا اب آئینے کی دنیا میں تھی — جہاں ہر عکس اصل لگتا تھا، اور ہر اصل عکس بن جاتا تھا۔
وہاں اس نے ان لوگوں کی روحیں دیکھیں، جو سالوں پہلے آئینہ خانہ میں کھو گئے تھے۔ سب کی ایک ہی خواہش تھی: چھٹکارا۔
ایک بزرگ کی روح نے بتایا:
"آئینہ دراصل ایک لعنت ہے، جو ہر سو سال بعد کسی کو قید کرتا ہے تاکہ خود کو زندہ رکھ سکے۔۔۔ آئینہ توڑا جا سکتا ہے، مگر اندر قید عکس کو آئینے کی ضد سے آزاد کیا جا سکتا ہے — یعنی روشنی سے۔"
منیب نے تمام پرانے آئینے، لینز، اور لائٹس اکٹھی کیں۔ وہ آئینہ خانہ واپس گیا۔ وہاں اب صرف ایک جلتی ہوئی دیوار باقی تھی — جس پر کچھ لکھا تھا:
"ایک عکس کے بدلے، ایک جان۔۔۔"
منیب جان گیا — اسے ثنا کو بچانے کے لیے خود کو قربان کرنا ہوگا۔
منیب نے اپنا کیمرہ آئینے کے فریم پر رکھا، اور جیسے ہی ٹائمر پر فلیش ہوا، آئینے سے ایک چیخ ابھری۔ وہی عکس ابھر کر سامنے آیا — ثنا زمین پر گری، سانسیں لے رہی تھی۔
منیب؟
آئینہ میں قید ہو چکا تھا۔
اب وہ عکس بن چکا تھا۔
ثنا زندہ تو تھی، مگر روز رات کو جب شیشہ دیکھتی، وہاں منیب کا عکس ہوتا — مسکراتا، آنکھ مارتا، جیسے وہ کہہ رہا ہو:
"میں اب عکس ہوں.. تم اب اصل ہو۔۔۔ مگر کب تک؟"
آئینہ خانہ آج بھی خالی ہے،
لیکن اگر کبھی آپ کا عکس خود سے پہلے ہنسے…
تو سمجھ لیجیے، وہ آپ نہیں — کوئی اور ہے۔
Comments
Post a Comment