اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کہانی: آئینہ
علیزے اور فہد کی شادی کو تین سال ہو چکے تھے۔ لوگ کہتے تھے:
"کامیاب جوڑی ہے۔"
فہد خوبرو، خوددار اور بہت مصروف انسان تھا۔ علیزے نرم دل، محبت کرنے والی بیوی۔
شروع کے دن خوبصورت تھے، مگر پھر فہد کے رویے بدلنے لگے۔ رات دیر تک فون پر باتیں، اچانک میٹنگز، اور بے دلی کا رویہ۔
علیزے سمجھ نہ پائی، بس خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔
ایک دن اُس نے فہد کا فون اتفاقاً اٹھایا—اور سچ کھل گیا۔
فہد کئی ماہ سے کسی اور عورت کے ساتھ تعلق میں تھا۔ محبت نہیں، محض جسمانی خواہش… دھوکہ۔
علیزے کا دل ٹوٹ گیا۔ مگر اُس نے شور نہیں مچایا، الزام نہیں دیا۔ صرف فہد کے سامنے ایک آئینہ رکھا—اُس کی اپنی تصویریں، وعدے، شادی کے دن کی ویڈیو، اور وہ پیغام جو اُس نے شادی سے پہلے کہا تھا:
"میں صرف تمہاری ہوں، ہمیشہ کے لیے… سچائی سے، وفاداری سے۔"
فہد نے وہ سب دیکھا، اور جیسے اندر سے ٹوٹ گیا۔
"میں نے تمہیں دھوکہ دیا… اور خود کو کھو دیا۔"
علیزے نے صرف اتنا کہا:
"دھوکہ سب سے پہلے ضمیر کو لگتا ہے… دل بعد میں ٹوٹتا ہے۔"
اُس نے طلاق نہیں لی، نہ رشتہ ختم کیا۔ مگر اب وہ خاموش تھی، سرد، بے نیاز۔
فہد نے معافی مانگی، رویا، واپس پلٹنا چاہا، مگر دیر ہو چکی تھی۔
محبت کا آئینہ ایک بار ٹوٹ جائے… تصویر پھر مکمل نہیں ہوتی۔
---
Comments
Post a Comment