اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
نور محل کا چھت والا فلیٹ کئی ہفتے تک بند رہا۔ عالیہ کے غائب ہونے کے بعد لوگ اور بھی ڈر گئے تھے۔ مالکِ مکان نے فلیٹ کو تالہ لگا دیا، لیکن ایک رات عجیب واقعہ پیش آیا۔
ایک نوجوان لڑکا "شہریار" جو حال ہی میں لاہور سے کراچی آیا تھا، نوکری کے سلسلے میں رہائش ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے نور محل کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ کسی دوست نے اسے سستے کرایے والا فلیٹ بتایا اور وہ سیدھا نور محل پہنچا۔
مالکِ مکان نے پھر وہی وارننگ دی:
"بیٹا، نیچے والے فلیٹ لے لو، چھت والا بند ہے۔۔۔ وہاں کچھ ہے۔۔۔"
لیکن شہریار نے ہنستے ہوئے کہا:
"ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں، انکل۔۔۔ میں چھت پر ہی رہوں گا، سکون ملے گا۔"
اسی رات شہریار نے فلیٹ میں قدم رکھا۔ فلیٹ صاف تھا، لیکن خالی خالی۔ دیواروں پر جیسے کسی نے ناخنوں سے نشان بنائے ہوں، کونے سیاہ، اور ماحول میں عجیب خاموشی۔
پہلی رات، سب کچھ خاموش رہا۔ شہریار نے سوچا شاید سب باتیں افواہیں تھیں۔
مگر دوسری رات، ٹھیک 3 بجے، اس کا فون خودبخود آن ہو گیا۔ اسکرین پر صرف ایک تصویر تھی — ایک لڑکی، جس کا چہرہ جلا ہوا تھا، آنکھیں خالی، اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔
اس نے فوراً فون بند کیا، لیکن اگلے لمحے اس کے کمرے کی بتیاں جھپکنے لگیں۔ دیوار سے آواز آئی جیسے کوئی ناخنوں سے کچھ لکھ رہا ہو۔ شہریار نے نظر دوڑائی تو دیکھا:
"تم بھی وہی کرو گے جو عالیہ نے کیا؟"
شہریار کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اُس نے فلیٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، لیکن جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، باہر اندھیرا چھا گیا — گلیاں غائب، سیڑھیاں غائب، اور سامنے کھڑا تھا ایک سایہ — وہی عورت، جس کا چہرہ پگھلا ہوا تھا۔
"عالیہ نے میری مدد نہیں کی۔۔۔ اب تم کرو گے۔۔۔"
اگلے لمحے شہریار کی چیخیں پوری بلڈنگ میں گونجیں، اور پھر خاموشی چھا گئی۔
صبح مالکِ مکان آیا تو دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس بار بھی دروازہ توڑا گیا — اندر صرف خون، اور فرش پر ایک نئی تحریر:
"میں صرف ایک سایہ نہیں۔۔۔ میں قید ہوں۔۔۔ اور ہر کرایہ دار میری رہائی کی قیمت ہے۔۔۔"
اب نور محل کا وہ فلیٹ پولیس نے سیل کر دیا ہے، لیکن رات کے تین بجے آج بھی وہاں روشنی جلتی ہے، اور کچھ کہتے ہیں عالیہ اور شہریار کی آوازیں اب بھی سنی جا سکتی ہیں — وہ مدد مانگتے ہیں، لیکن باہر کوئی نہیں سنتا۔
Comments
Post a Comment