اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے، شمالی پاکستان کے ایک دور افتادہ گاؤں "نورگل" میں ایک عجیب و غریب پھول اگا کرتا تھا۔ یہ پھول کسی عام پھول کی مانند نہیں تھا۔ اس کی پنکھڑیاں سیاہی مائل، مخملی اور رات کے اندھیرے کی طرح گہری تھیں۔ لوگ اسے "کالاگلاب" کہتے تھے۔ گاؤں کے بوڑھے بزرگوں کا ماننا تھا کہ یہ پھول خوش نصیبوں کو نصیب ہوتا ہے اور اس میں ایک خاص روحانی طاقت چھپی ہے۔
کسی زمانے میں، یہ پھول ہر سال بہار میں صرف ایک بار کھلتا تھا۔ مگر پھر اچانک کئی سالوں تک یہ پھول دکھائی دینا بند ہو گیا۔ گاؤں والے پریشان تھے، بزرگ چپ تھے اور نوجوانوں کے دلوں میں اس پھول کی حقیقت جاننے کی تمنا جاگ اٹھی تھی۔
ان نوجوانوں میں ایک لڑکا "ایلیاس" بھی تھا۔ ایلیاس ایک یتیم لڑکا تھا، جو اپنی نانی کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ جاننے اور کچھ پانے کی چمک تھی۔ جب اس نے کالا گلاب کی کہانی سنی، تو اس کے دل میں ایک خواہش جاگی کہ وہ اس پھول کو ڈھونڈے اور اس کی حقیقت جانے۔
ایک رات، جب چاندنی مدھم اور ہوائیں سرد تھیں، ایلیاس اپنی نانی کے پرانے صندوق سے ایک خستہ حال نقشہ نکال لایا۔ یہ نقشہ اس کے نانا نے بنایا تھا جب وہ پہاڑوں میں جڑی بوٹیوں کی تلاش میں نکلتے تھے۔ نقشے پر ایک جگہ کو "سایہ دار گھاٹی" کہا گیا تھا، اور اسی مقام کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں کالا گلاب کھلتا ہے۔
ایلیاس نے اگلی صبح اپنے سفر کا آغاز کیا۔ وہ پہاڑوں، ندیوں اور جھاڑیوں کو پار کرتا، دن میں سورج کی تپش جھیلتا اور رات کو درختوں کے سائے میں سوتا۔ تیسرے دن، وہ سایہ دار گھاٹی پہنچ گیا۔ گھاٹی واقعی عجیب و غریب جگہ تھی۔ درختوں کی شاخیں آسمان کو چھوتی تھیں، پرندوں کی آوازیں معدوم تھیں، اور ہر طرف ایک گہری خاموشی طاری تھی۔
اسی خاموشی میں، ایلیاس کو ایک چمک دار روشنی نظر آئی۔ اس نے جھاڑیوں کو ہٹا کر دیکھا تو زمین کے بیچوں بیچ ایک واحد کالا گلاب کھل رہا تھا۔ ایلیاس کے قدم خود بخود اس پھول کی جانب بڑھے۔ جیسے ہی اس نے پھول کو چھوا، اچانک فضا میں ایک روشنی کی لپٹ سی دوڑ گئی، اور ایلیاس کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ دھندلا ہونے لگا۔
اگلے لمحے، وہ کسی اور دنیا میں تھا۔ ایک جادوئی وادی، جہاں پرندے انسانی زبان بولتے تھے، درخت سرگوشیاں کرتے تھے اور ندیوں میں روشنی بہتی تھی۔ ایک نورانی شخصیت ایلیاس کے سامنے ظاہر ہوئی۔ اس نے کہا:
"اے سچے دل والے ایلیاس، تم نے کالا گلاب کی آزمائش میں کامیابی پائی ہے۔ یہ پھول ہر اس شخص کو اپنی دنیا میں بلاتا ہے جو نیک نیت، ثابت قدم اور سچے دل سے اس کی تلاش کرتا ہے۔ اب تمہیں ایک فیصلہ کرنا ہے — تم اسی جادوئی دنیا میں رہ سکتے ہو، جہاں علم، روشنی اور سکون ہے، یا واپس اپنے گاؤں جا سکتے ہو اور لوگوں کو سچائی بتا سکتے ہو۔ مگر یاد رکھو، جو یہاں سے واپس جاتا ہے، وہ پھول دوبارہ نہیں دیکھ سکتا۔"
ایلیاس چند لمحے خاموش رہا۔ اس نے وادی کی خوبصورتی دیکھی، پرندوں کی محبت بھری آوازیں سنیں، مگر پھر اس کی آنکھوں میں اپنی نانی کا چہرہ ابھرا، گاؤں کے معصوم بچے، وہ سب لوگ جو سچائی سے محروم تھے۔
اس نے کہا: "میں واپس جانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے لوگوں کو روشنی دکھانا چاہتا ہوں، تاکہ وہ صرف سنے ہوئے قصوں پر یقین نہ کریں، بلکہ حقیقت کو جان سکیں۔"
نورانی شخصیت مسکرائی اور بولی: "تم نے سچائی کا راستہ چنا ہے۔ لو، یہ کالا گلاب کی ایک پنکھڑی اپنے ساتھ لے جاؤ۔ جب کبھی تم اندھیرے میں گھر جاؤ، یہ تمہیں روشنی دکھائے گی۔"
اگلے لمحے، ایلیاس کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ دوبارہ سایہ دار گھاٹی میں تھا۔ کالاگلاب غائب ہو چکا تھا، مگر اس کی مٹھی میں ایک سیاہ، مخملی پنکھڑی موجود تھی جو چمک رہی تھی۔
ایلیاس گاؤں واپس آیا۔ اس نے اپنی کہانی سب کو سنائی، مگر زیادہ تر لوگ ہنس دیے۔ انہوں نے اسے خوابوں کا سوداگر قرار دیا۔ مگر کچھ نوجوان ایسے بھی تھے جنہوں نے اس کی بات کو سنا، اس پر یقین کیا اور اس کے ساتھ کالا گلاب کی تلاش پر نکلے۔ ایلیاس اب ایک راہنما بن چکا تھا۔
سالوں بعد، نورگل ایک مختلف گاؤں بن چکا تھا۔ وہاں کے لوگ قدرت سے محبت کرتے، علم کی قدر کرتے اور اندھی تقلید سے دور تھے۔ ایلیاس اب بوڑھا ہو چکا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی روشنی تھی، جو اس نے کالا گلاب کی دنیا میں دیکھی تھی۔
کہتے ہہیں کالا گلاب اب بھی کھلتا ہے، مگر صرف ان دلوں کے لیے جو سچائی کے متلاشی ہوں، جو خوف اور شک سے بلند ہو کر روشنی کی تلاش کریں۔
Comments
Post a Comment