اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
عنوان: "امیریبل نیول"
قدیم زمانے میں ایک گہرے سمندر کے نیچے ایک پُراسرار جزیرہ تھا جسے "امیریبل نیول" کہا جاتا تھا۔
یہ جزیرہ محض ایک افسانہ تھا، مگر ایک دن ایک جہاز کا عملہ اس کی تلاش میں نکل پڑا۔
کیپٹن ایلیا، جو ایک بہادر مگر متجسس انسان تھا، اپنی ٹیم کے ساتھ ایک طویل سفر پر روانہ ہوا۔
اس کے جہاز کا نام "ویلیلی" تھا، جو ایک مضبوط جہاز تھا، لیکن سمندر کی گہرائی میں کہیں ایسا راز تھا
abid
جسے کوئی بھی جاننے کی جرات نہ کرتا تھا۔
چند دنوں بعد، وہ اس پراسرار جزیرے کے قریب پہنچے، لیکن جیسے ہی وہ قریب آئے، سمندر کی سطح بدل گئی۔
گہرے پانی میں ان کا جہاز ایک عجیب گھماؤ میں پھنس گیا۔
ایک رات جب چاند چمک رہا تھا، کیپٹن ایلیا اور اس کے عملے نے جزیرے کے قریب ایک غیر معمولی روشنی دیکھی۔
یہ روشنی سمندر کے اندر سے آ رہی تھی، اور جیسے ہی وہ اس کے قریب پہنچے، سمندر میں ایک تہہ جھیل نظر آئی، جس کے اندر
abid
ایک سنہری قلعہ چھپ رہا تھا۔
کیپٹن ایلیا نے اپنے عملے کے ساتھ اس جھیل میں غوطہ لگایا۔ پانی میں غوطہ لگاتے ہوئے، انہوں نے ایک غمگین آواز سنی
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟"
یہ آواز جیسے پانی میں ہی گم ہو گئی تھی، لیکن سب کی نظریں ایک دوسرے پر مرکوز ہو گئیں۔
جھیل کے نیچے سنہری قلعہ ایک جادوئی رشتہ تھا، اور جیسے ہی وہ اس کے دروازے پر پہنچے، ایک وحشت ناک آواز نے انہیں
چونکا دیا
"یہ راز تمہاری طاقت سے باہر ہے۔ واپس چلے جاؤ، یا ہمیشہ کے لیے یہاں پھنس جاؤ گے"
abid
کیپٹن ایلیا اور اس کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں گے اور اس راز کو حل کریں گے۔
جوں ہی وہ قلعے کے دروازے کے قریب پہنچے، دروازہ خود بخود کھل گیا۔
اور جب وہ اندر داخل ہوئے، تو انہیں ایک پراسرار شبیہ دکھائی دی—ایک طلسمی پرندہ جس کے پروں میں جادو تھا۔
وہ پرندہ بولا
"تم نے یہاں تک پہنچ کر میری آزمائش مکمل کی ہے، اب تمہیں یہ راز ملے گا۔ لیکن یاد رکھو، اس کا اثر تمہاری تقدیر پر ہوگا۔"
کیپٹن ایلیا نے سوال کیا، "یہ راز کیا ہے؟"
:پرندہ مسکرا کر بولا
"وہ راز یہ ہے کہ، یہ جزیرہ، یہ سمندر، تمہیں اپنے اندر کی حقیقت سے آشنا کرے گا۔
جو بھی اسے دیکھتا ہے، وہ اپنے حقیقی خوف کو پہچانتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے تبدیل کر سکتے ہو۔"
abid
اسی لمحے، سنہری قلعے کی دیواروں نے ایک زوردار آواز پیدا کی، اور کیپٹن ایلیا اور اس کے عملے نے خود کو ایک غمگین حقیقت
میں پایا—یہ جزیرہ ان کی ذاتی خوف، آرزو اور گناہوں کا نمائندہ تھا۔
وہ جزیرہ ان کا امتحان لے رہا تھا۔
آخرکار، کیپٹن ایلیا نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جزیرے کو چھوڑ دے گا، مگر وہ جو کچھ سیکھ چکا تھا، اسے کبھی نہیں بھولے
سبق:
ہر شخص کو اپنے اندر چھپے خوفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان سے بچ سکتے ہیں
لیکن ہم انہیں قبول کر کے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
abid
Comments
Post a Comment