اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کراچی کی بارشوں میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ ہر قطرہ جیسے ماضی کی کسی یاد کو جگا دیتا تھا۔ سڑکوں پر پانی جمع تھا، لیکن لوگوں کے چہروں پر ایک الگ سی تازگی۔ ایسے ہی ایک دن، مہرین، اپنے کالج کے سامنے کھڑی بارش تھمنے کا انتظار کر رہی تھی، جب ایک کار اس کے قریب آ کر رکی۔
"اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں چھوڑ دیتا ہوں، راستہ تو ویسے بھی وہی ہے۔" آواز نرم، لہجہ باادب، اور چہرہ کچھ جانا پہچانا۔ وہ آزر تھا، اس کا پرانا کلاس فیلو، جو تین سال پہلے اچانک امریکہ چلا گیا تھا۔
مہرین کچھ لمحے خاموش رہی، پھر دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ کار میں ہلکی موسیقی چل رہی تھی، اور خاموشی ان دونوں کے درمیان ایک نئی گفتگو کی کوشش کر رہی تھی۔
"تم کب آئے؟" مہرین نے ہمت کر کے پوچھا۔
"دو دن پہلے۔ سوچا سب سے پہلے وہ چہرے دیکھوں جو دل کے قریب ہیں۔"
مہرین کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رُک گئی۔ وہ چہرہ جسے وہ تین سال سے خوابوں میں دیکھتی آ رہی تھی، آج سامنے تھا۔
آزر ہمیشہ سے مہرین کی خاموش محبت تھا۔ وہ اس کی شاعری کا موضوع، اس کی ڈائری کے ہر صفحے کا نام، اور اس کے ہر خواب کی تعبیر تھا۔ لیکن آزر کو کبھی معلوم نہ ہو سکا۔ یا شاید وہ جان کر بھی انجان بنا رہا۔
چند دن بعد وہ دونوں دوبارہ ملے۔ کافی کے کپ کے ساتھ، ان کی باتیں برسوں کی دوری کو مٹا رہی تھیں۔
"مہرین، میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں، جو شاید بہت دیر سے دل میں ہے۔" آزر نے کہا۔
مہرین نے نظریں نیچی کر لیں، جیسے اس لمحے کا برسوں سے انتظار تھا۔
"میں نے وہاں جا کر بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سیکھا… لیکن ایک چیز ہمیشہ کمی کی طرح دل میں رہی — تم۔"
مہرین نے بمشکل اپنی آنکھوں سے نکلتے آنسو چھپائے، اور بولی:
"تم گئے تو میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک تم واپس نہیں آتے، میں کسی اور کو دل نہیں دوں گی۔"
آزر نے اس کا ہاتھ تھام لیا، اور نرمی سے بولا:
"تو پھر ہم دونوں نے محبت کو خاموشی سے نبھایا، لیکن اب وقت ہے کہ اسے آواز دی جائے۔"
چند ہی دنوں میں ان کی محبت پورے خاندان میں مشہور ہو گئی۔ دونوں کے والدین راضی ہو گئے، اور شادی کی تیاری شروع ہو گئی۔
لیکن زندگی ہمیشہ آسان کہانی نہیں لکھتی۔
شادی سے ایک ہفتہ پہلے آزر کو اچانک ایک بیماری کی تشخیص ہوئی — ایک ایسی حالت جو زندگی بھر کی جدوجہد مانگتی تھی۔ آزر نے مہرین سے ملنے سے انکار کر دیا۔ وہ نہ چاہتا تھا کہ اس کی بیماری مہرین کی خوشیوں پر سایہ ڈالے۔
مہرین نے جب سنا، تو فوراً اسپتال پہنچی۔ آزر نے اسے دیکھ کر نظریں پھیر لیں۔
"چلی جاؤ مہرین، میں تمہیں اس دکھ کا حصہ نہیں بنانا چاہتا۔"
مہرین نے آزر کے ہاتھ تھامے اور کہا:
"محبت صرف خوشیوں میں شریک ہونے کا نام نہیں، دکھ میں ساتھ چلنے کا بھی نام ہے۔ اگر تم کمزور ہو، تو میرا ہاتھ تمہاری طاقت بنے گا۔"
آزر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ان دونوں نے شادی اسپتال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں کی۔ کوئی بڑی تقریب نہیں، صرف دو دلوں کا ساتھ، اور ایک وعدہ کہ چاہے وقت جیسا بھی ہو، ایک دوسرے کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں گے۔
یہ کہانی سکھاتی ہے کہ محبت صرف خوبصورت لمحوں کی محتاج نہیں، بلکہ اصل محبت دکھ، بیماری، کمزوری اور وقت کے ہر امتحان میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کا نام ہے۔
Comments
Post a Comment