اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

عنوان: “آخری فون کال”

 عنوان: “آخری فون کال”



میرا نام ارحم ہے، اور میں ایک عام کال سینٹر میں کام کرتا ہوں جہاں ہم پرانے گاہکوں کو کمپنی کی سروسز کے بارے میں کال کرتے ہیں۔ یہ ایک بورنگ سا کام ہے، لیکن تنخواہ وقت پر ملتی ہے، اس لیے میں خوش تھا۔


یہ واقعہ اُس رات پیش آیا جب میں لیٹ نائٹ شفٹ میں اکیلا دفتر میں موجود تھا۔ موسم خراب تھا، باہر تیز بارش ہو رہی تھی اور بجلی کی گرج چمک سے کھڑکیاں کانپ رہی تھیں۔


سب ساتھی جا چکے تھے، میں نے سوچا ایک آخری کال کرکے فائل بند کر دوں گا۔


سسٹم پر ایک پرانا نمبر آیا:

“+92 666 000 1313”


یہ نمبر عجیب لگا، لیکن کمپنی کی فہرست میں تھا، سو میں نے کال ملا دی۔


فون بجا… ایک بار… دو بار… اور پھر کسی نے اٹھا لیا۔


“ہیلو؟” میں نے کہا۔


دوسری طرف خاموشی تھی۔ صرف سانس لینے کی آواز۔ گہری، بوجھل سانس۔


میں نے دوبارہ کہا: “ہیلو، میں ارحم بول رہا ہوں سٹی سروسز کمپنی سے۔ کیا آپ بات کر سکتے ہیں؟”


پھر ایک سرد، گونجتی ہوئی آواز آئی:


“تمہیں نہیں کرنا چاہیے تھا…”


میرے ہاتھ کانپنے لگے۔ میں نے کہا، “معذرت، شاید نمبر غلط ہے۔”


آواز آئی: “تم نے اسے جگا دیا ہے۔”


پھر فون بند ہو گیا۔ اچانک دفتر کی تمام لائٹس بند ہو گئیں۔ سسٹم ری اسٹارٹ ہو گیا۔ اور میری اسکرین پر صرف ایک پیغام تھا:


"Call Received: 00:00 AM – FROM: The Basement"


میری سانس رکنے لگی۔ دفتر میں بیسمنٹ تو تھا… لیکن وہ سالوں سے بند ہے۔ کسی کو اجازت نہیں کہ وہاں جائے۔


میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ سسٹم کی خرابی ہوگی۔ میں نے بیگ اٹھایا اور جانے لگا۔


لیکن دروازہ لاک ہو چکا تھا۔


باہر بارش، اندر اندھیرا، اور فون پھر بجا۔


اسی نمبر سے۔


+92 666 000 1313

میں نے ہمت کر کے فون اٹھایا۔ آواز آئی:


“نیچے آؤ، وہ تمہارا انتظار کر رہا ہے۔”


پھر ایک چیخ… لمبی، کانوں کو چیرتی ہوئی۔


میرے ہاتھ سے فون گر گیا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔


پھر میں نے وہ سنا… سیڑھیوں سے بیسمنٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز۔


چرررررررر…


اور کسی کے قدموں کی چاپ۔


آہستہ آہستہ اوپر آتے قدم۔


میں نے روشنی جلانے کی کوشش کی، لیکن پورے دفتر میں اندھیرا چھا چکا تھا۔


پھر میں نے اسے دیکھا۔ بیسمنٹ کے دروازے کے پاس، ایک سایہ، لمبا، لاغر، اور اس کے ہاتھ میں ایک پرانا فون تھا۔ وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔


اور بولا:


“اب تمہاری باری ہے۔”


میرے اردگرد ہر چیز دھندلی ہو گئی۔ فون کی بیپ بیپ آواز آتی رہی۔


اگلی صبح…


دفتر کھلا، سب لوگ آ گئے، لیکن میں غائب تھا۔ میرا فون، میرا بیگ، میری چیزیں سب اپنی جگہ تھیں۔ سیکیورٹی کیمروں میں رات کی ریکارڈنگ موجود تھی… مگر آخری 5 منٹ کی فوٹیج غائب تھی۔


صرف ایک ریکارڈ بچا… کال لاگ میں درج:


"Last Call Dialed: +92 666 000 1313"
"Status: Answered... Duration: Unlimited"



اب کہا جاتا ہے، اگر کوئی اکیلا رات کو اس نمبر پر کال کرے، تو وہ فون ہمیشہ اٹھایا جاتا ہے…


اور اگلے دن وہ شخص غائب ہو جاتا ہے۔


یاد رکھنا: کبھی غلط نمبر پر کال مت کرنا... خاص طور پر اگر نمبر ہو: +92 666 000 1313۔

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا