اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
علی، ایک سافٹ ویئر انجینیئر، کراچی کے مصروف علاقے سے تھک چکا تھا۔ اس نے شہر کے مضافات میں واقع ایک پرانا بنگلہ کرائے پر لے لیا، جو کافی سستا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہاں "کچھ ٹھیک نہیں"، لیکن علی ایسے قصے کہانیوں کو بچپنا سمجھتا تھا۔
مکان کا ماحول بہت سنّاٹا لیے ہوئے تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی عجیب سی ٹھنڈک محسوس ہوئی، جیسے کوئی سانس روک کر چھپ کر دیکھ رہا ہو۔
پہلی رات سب کچھ معمول کے مطابق رہا—مگر جب صبح اٹھا، تو دیوار پر انگلیوں کے نشان تھے… جیسے کسی نے رات بھر دیوار کو کھرچا ہو۔
علی نے ایک بوڑھے مالی کو نوکری پر رکھا، جس کا نام "عبدالغفور" تھا۔ غفور نے مکان کو دیکھتے ہی کہا:
> "صاحب... یہ وہ گھر ہے جس کا سایہ صرف مکان پر نہیں، انسان پر بھی پڑتا ہے۔"
علی نے ہنسی میں ٹال دیا۔
مگر کچھ راتوں بعد، علی کو سوتے ہوئے کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی:
“تم میرے کمرے میں ہو۔ نکل جاؤ۔”
وہ ہڑبڑا کر اٹھا، مگر کمرے میں کوئی نہ تھا۔ کھڑکی بند تھی۔ دروازہ بھی۔
اگلے دن، اس نے پڑوس میں رہنے والی خاتون سے پوچھا۔ انہوں نے آہستہ آواز میں کہا:
> "یہ گھر ایک عورت کا تھا۔ وہ تنہا رہتی تھی اور کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ‘چیز’ تھی... جو اس کی حفاظت کرتی تھی۔ اُس کے مرنے کے بعد وہ چیز آزاد ہو گئی۔ اور اب، یہ کسی کو اپنا مکان نہیں مانتی۔”
علی نے گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے۔
اگلی صبح، کیمرے کی فوٹیج دیکھی تو حیران رہ گیا:
رات 2:17 پر، علی سوتا ہوا تھا.. لیکن کیمرے میں ایک دوسرا سایہ اس کے بستر کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ مگر کمرے میں صرف وہی تھا۔
اس نے وہ فوٹیج غفور کو دکھائی۔ بوڑھا لرز گیا۔
> "یہ وہی ہے صاح... جو سایہ اپنے مالک کے مرنے کے بعد بے قابو ہو گیا ہے۔ اب یہ نئی چیزیں چاہتا ہے—نئے جسم، نئے مکین۔"
علی نے فوٹیج کو لپیٹ کر ڈلیٹ کر دیا، مگر رات کو وہی سایہ، اب باتیں کرنے لگا:
> “مجھے جانے دو... یا مجھے قبول کر لو۔”
علی کو اب اکثر خواب آتے: وہ صحراؤں میں ہے، ہاتھ میں قرآن کا پرانا نسخہ ہے، اور ایک عورت صوفیانہ لباس میں اسے کہہ رہی ہے:
> "اگر تم نے اسے قبول کر لیا تو تمہارا جسم اس کا ظرف بن جائے گا۔ اگر انکار کیا... تو وہ خود لے گا۔"
علی نے خوابوں کو حقیقت سمجھ کر ایک عالم دین سے رابطہ کیا۔
مولوی صاحب مکان میں آئے اور اذان دی، درود پڑھا، کچھ آیات دم کیں۔ مگر جیسے ہی وہ باہر نکلے، ان کی گاڑی درخت سے ٹکرا گئی۔ موقع پر ہی فوت ہو گئے۔
اب علی کو سمجھ آ چکی تھی... یہ کوئی عام جن، بھوت یا آسیب نہیں۔ یہ ماورائی طاقت تھی، جو انسانی سمجھ سے باہر تھی—شاید جنات سے بھی پرے۔
ایک رات، علی نے گھر میں چراغ جلایا، کمرے کو صاف کیا، اور آیت الکرسی پڑھ کر آنکھیں بند کیں۔ پھر کہا:
> “تو جو بھی ہے، سامنے آ۔ مگر شرط یہ ہے کہ بات مکمل ہونے تک کسی کو نقصان نہ پہنچے۔”
سایہ ابھرا۔ دھواں سا، بے چہرہ، مگر آنکھیں جل رہی تھیں۔
> “میں کسی اور جہان سے ہوں... میری مالک نے مجھے قید کیا تھا، تاکہ میں اس کی خدمت کروں۔ اب وہ مر چکی ہے۔ میں آزاد ہوں، مگر بے گھر۔”
علی نے پوچھا:
“تم چاہتی کیا ہو؟”
جواب آیا:
> “صرف ایک میزبان۔ جو مجھے اپنا مان لے۔ میں بدی نہیں، مگر طاقت ہوں۔ اگر مجھے رد کرو گے، تو میں تمہیں مٹا دوں گی۔”
علی نے سوچا: اگر یہ طاقت قابو میں آ جائے، تو دنیا کی سب سے بڑی سچائی اس کے ہاتھ آ سکتی ہے۔ مگر اگر یہ قابو سے باہر ہوئی...؟
اس نے وہی کیا جو کم لوگ کرتے ہیں۔
اس نے کہا:
“نہیں۔ میں تمہیں قبول نہیں کرتا۔ چاہے جو ہو، میری روح آزاد رہے گی۔”
ایک زوردار چیخ، در و دیوار لرزنے لگے، اور اچانک سب کچھ رک گیا۔
اگلی صبح علی کو اسپتال میں ہوش آیا۔ غفور کے مطابق، اسے مردہ سمجھ کر نکالا گیا تھا، مگر وہ اچانک سانس لینے لگا۔
مکان؟ وہ جل چکا تھا۔
اور علی؟ وہ اب خود ماورائی چیزوں پر تحقیق کرتا ہے۔ مگر کبھی کبھار، جب وہ آئینے میں دیکھتا ہے، تو ایک دوسرا سایہ... بہت قریب نظر آتا ہے۔ شاید وہ مکمل طور پر گیا نہیں۔
Comments
Post a Comment