اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ریحان ایک پرائمری اسکول میں نیا استاد تعینات ہوا تھا۔ یہ اسکول شہر کے مضافات میں ایک پرانی عمارت میں واقع تھا۔
لوگ کہتے تھے کہ اسکول میں "رات کے بعد گھنٹی بجتی ہے" — حالانکہ شام 5 بجے کے بعد کوئی بھی وہاں نہیں ہوتا۔
ریحان نے ان افواہوں کو مذاق سمجھا… مگر ایک دن، وہ دیر سے اسکول میں رہ گیا۔
6:00 بجے… گھنٹی بجی۔
ریحان نے حیران ہو کر گھنٹی کی آواز سنی، لیکن مین گیٹ بند تھا۔ اس نے موبائل نکالا، کوئی سگنل نہیں۔
تب ہی کوریڈور میں کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا — ایک سیاہ سایہ، جو آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا، مگر زمین پر اس کا عکس نہیں تھا۔
ریحان بھاگا، مگر ہر دروازہ، ہر کھڑکی… بند تھی۔
اسکول کا کلاک 6:00 پر رک گیا تھا۔ نہ آگے جا رہا تھا، نہ پیچھے۔
ریحان کو لگا جیسے وہ کسی اور وقت میں قید ہو چکا ہے۔
تب ہی ایک پرانا رجسٹر ملا، جس میں 1993 میں گمشدہ ایک استاد کا نام لکھا تھا:
سایہ اب سامنے تھا۔ وہ بولا:
ریحان نے پوچھا:
"کیا کوئی بچا ہے؟"
سایہ ہنسا:
صبح اسکول کھلا تو سب کچھ معمول پر تھا — مگر ریحان غائب تھا۔
اس کی فائل پر لکھا گیا:
"لاپتہ – 12 جولائی – آخری بار اسکول میں دیکھا گیا۔"
نیا استاد اگلے سال تعینات ہوا…
اور گیٹ کے پاس ایک پرانا رجسٹر پڑا تھا، جس پر ہلکے سے لکھا تھا:
اور اب، اگر آپ 12 جولائی کو شام 6 بجے کے بعد اسکول کے پاس سے گزریں… تو آپ کو گھنٹی کی آواز سنائی دے گی — اور ایک سایہ آپ کو اندر بلا رہا ہوگا
Good 👍
ReplyDelete