اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
چھ مہینے گزر چکے تھے۔ علی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اس کے گھر والے اور دوست ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے تھے، مگر نہ پولیس کچھ کر سکی، نہ صحافی برادری۔ علی کا بہترین دوست، زبیر، اب اس کی تلاش میں جنون کی حد تک آگے جا چکا تھا۔
زبیر جانتا تھا کہ علی جس حویلی میں گیا، وہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک جہنم ہے۔ اس نے علی کا کیمرہ دیکھا تھا — اس میں موجود آخری ویڈیو بار بار چلائی تھی۔ ہر بار وہی پراسرار عورت، وہی سفید آنکھیں، وہی سرد قہقہہ۔
ایک رات زبیر نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس حویلی میں جائے گا۔ اس نے قرآن پاک، کچھ دعائیں، کیمرہ، اور ایک پرانا تعویذ اپنے دادا سے لیا۔ دادا نے اسے خبردار کیا:
"یہ عورت انسان نہیں، ایک ایسی روح ہے جو اپنے انتقام میں جل رہی ہے۔ اسے جس کی روح پسند آ جائے، اسے کبھی واپس نہیں آنے دیتی۔"
زبیر نے اس بات پر بھی کان نہ دھرے۔
وہ رات کے اندھیرے میں، اسی راہ پر نکلا جس پر علی گیا تھا۔ حویلی کا دروازہ پہلے سے زیادہ بوسیدہ ہو چکا تھا، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جیسے ہی زبیر نے دروازہ دھکیلا، وہ خود بخود کھل گیا — جیسے وہ اس کا انتظار کر رہا ہو۔
اندر ہر چیز خاموش تھی، مگر زبیر کو محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
اچانک، اسے سیڑھیوں سے علی کی آواز سنائی دی:
"زبیر! بچا لو مجھے..!"
زبیر کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ علی کی آواز مدھم ہوتی گئی، جیسے کوئی اس کی روح کو گھسیٹ رہا ہو۔
زبیر اوپر بھاگا۔ اسی کمرے میں گیا جہاں علی کی آخری ویڈیو ریکارڈ ہوئی تھی۔
کمرے کے بیچ میں ایک آئینہ نصب تھا، جو پہلے وہاں نہیں تھا۔ آئینے میں زبیر نے دیکھا — علی، جو کہ ایک سایہ بن چکا تھا، آئینے کے اندر قید تھا۔
"زبیر، مجھے نکالو! وہ عورت.. میری روح کو لے گئی ہے!"
علی کی آواز لرزتی ہوئی، دھند میں لپٹی ہوئی سنائی دی۔
عین اسی لمحے، پیچھے سے وہی قہقہہ سنائی دیا۔ زبیر نے پلٹ کر دیکھا — وہی عورت، لیکن اس بار اس کا چہرہ مکمل طور پر سیاہ تھا، آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا، اور اس کے ناخن خنجر کی طرح تیز ہو چکے تھے۔
زبیر نے تعویذ نکالا اور اونچی آواز میں آیت الکرسی پڑھنا شروع کی۔ عورت کی چیخ سنائی دی، جیسے کسی نے اس کے جسم پر آگ لگا دی ہو۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی، مگر ساتھ ہی آئینہ لرزنے لگا۔
علی کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی:
"زبیر، بس آئینہ توڑ دو! مجھے آزاد کر دو!"
زبیر نے پوری قوت سے قریب رکھا لوہے کا پائپ اٹھایا، اور آئینے پر دے مارا۔ ایک زوردار چیخ کے ساتھ آئینہ ٹوٹ گیا۔ لمحے بھر کو ایک تیز روشنی ہوئی، اور پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔
علی زمین پر بے ہوش پڑا تھا — زندہ، لیکن کمزور۔ زبیر نے اسے گود میں اٹھایا، اور جلدی سے حویلی سے باہر نکلا۔ پیچھے سے عورت کی آخری چیخ سنائی دی، جو ہوا میں تحلیل ہو گئی۔
آج علی اور زبیر دونوں زندہ ہیں، مگر علی بول نہیں سکتا۔ وہ دن میں تو نارمل ہوتا ہے، مگر ہر رات چیخیں مار مار کر اٹھتا ہے — جیسے وہ اب بھی اس عورت کو دیکھتا ہو۔
اور وہ حویل.؟
اب وہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے، مگر ہر نئے چاند کی رات وہاں سے قہقہوں کی آوازیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔
کوئی کہتا ہے وہ عورت مر چکی ہے، کوئی کہتا ہے اب وہ روح حویلی سے نکل کر آزاد ہو چکی ہے
یکن زبیر جانتا ہے: یہ اختتام نہیں، ابھی اصل کہانی باقی ہے
Comments
Post a Comment