اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

عنوان: "اندھی کوٹھری"

 عنوان: "اندھی کوٹھری"





یہ کہانی ایک چھوٹے سے قصبے کی ہے، جہاں ایک پرانی، سنسان حویلی واقع تھی۔ لوگ اسے "اندھی کوٹھری" کے نام سے جانتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ جو شخص اس حویلی میں رات گزارے، وہ یا تو پاگل ہو جاتا ہے یا پھر لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔


بیشتر لوگ ان باتوں کو خرافات سمجھتے تھے، لیکن کوئی بھی وہاں جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ حویلی کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، دروازہ زنگ آلود، اور دیواروں پر پرانی، مدھم ہو چکی سیاہی جیسے کچھ لکھا ہو — مگر سمجھ میں نہ آتا۔


آغازِ خوف


ایک دن شہر سے ایک نوجوان صحافی، ارسلان، قصبے میں آیا۔ اس کا مقصد تھا کہ ان پراسرار کہانیوں کی حقیقت معلوم کرے۔ وہ ان باتوں کو بے بنیاد سمجھتا تھا اور اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیو بنانا چاہتا تھا۔


"یہ سب تمہیں مہنگا پڑے گا، بیٹا!" قصبے کے ایک بزرگ نے کہا۔

"جو کوٹھری ایک صدی سے بند ہے، اسے بند ہی رہنے دو۔"


لیکن ارسلان ہنسا، "بابا جی، میں ڈرنے والا نہیں۔ یہ سب لوگوں کی کہانیاں ہیں، حقیقت نہیں۔"



حویلی میں داخلہ


رات کے ساڑھے گیارہ بجے، کیمرہ اور ٹارچ کے ساتھ ارسلان حویلی کے اندر داخل ہوا۔ سیڑھیاں چرچرا رہی تھیں، فرش پر مٹی اور مکڑیاں تھیں۔ مگر اس کا اعتماد بلند تھا۔


کافی دیر تک کچھ نہ ہوا۔ وہ کمرے در کمرے جاتا رہا۔ پھر اچانک، اسے ایک دروازہ دکھائی دیا — آدھا کھلا ہوا، جس پر لکھا تھا:


"اس پار مت جانا"


ارسلان نے ٹارچ سے اندر جھانکا، وہاں ایک کوٹھری تھی — بالکل سیاہ، جیسے روشنی اندر جانے سے ڈرتی ہو۔


وہ ہنسا، "چلو، یہی تو اصل جگہ ہے۔"


کوٹھری کا راز


جونہی وہ اندر داخل ہوا، دروازہ زور سے بند ہو گیا۔


اس نے گھبرا کر پلٹ کر دروازہ کھولنا چاہا، مگر وہ جام ہو چکا تھا۔ کیمرے کی لائٹ اچانک بند ہو گئی۔ ٹارچ جھپکنے لگی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔


پھر اسے کسی کے سانس لینے کی آواز سنائی دی۔ وہ آواز ارسلان کے بلکل قریب تھی — جیسے کوئی اس کے کان کے بالکل پاس کھڑا ہو۔


ایک کھردری، بھاری آواز گونجی:

"تمہیں خبردار کیا گیا تھ.."


ارسلان کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ وہ چلایا، "کون ہے؟ کیا چاہتے ہو؟"


کوئی جواب نہ آیا، مگر دیوار پر خودبخود خون سے ایک جملہ لکھا جانے لگا:


"تم بھی اب ہمارے ساتھ ہو"



ماضی کا سایہ


پھر اچانک ایک پرانا منظر اس کے سامنے ابھرا — جیسے وہ وقت میں پیچھے چلا گیا ہو۔


کوٹھری میں ایک عورت قید تھی، اس کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے تھے۔ وہ چیخ رہی تھی، "مجھے چھوڑ دو! میں نے کچھ نہیں کیا!" اور ایک گروہ اسے جلا رہا تھا۔


یہ منظر اچانک غائب ہو گیا، اور پھر سناٹا۔ ارسلان کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔


اسی لمحے، ایک آواز آئی:

"اسے بے گناہ مارا گیا… اب ہر نیا آنے والا اُس کی سزا بھگتے گا!"


فرار کا راستہ؟


ارسلان نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، دیواروں کو پیٹا، چیخا، مگر سب بے سود۔


پھر اچانک، کوٹھری کے ایک کونے سے آواز آئی، "اگر تم سچ کی قسم کھاؤ، اور سب کو یہ کہانی سناؤ، تو شاید وہ تمہیں معاف کر دے۔"


ارسلان نے روتے ہوئے کہا، "میں وعدہ کرتا ہوں، میں سب کو بتاؤں گا کہ یہاں کیا ہوا۔"


دروازہ ایک دھماکے سے کھل گیا۔ وہ حویلی سے باہر نکلا، لیکن اس کا چہرہ سفید، آنکھیں خوفزدہ، اور زبان گنگ تھی۔


آخری ویڈیو


قصبے والے کہتے ہیں کہ اگلی صبح ارسلان کا کیمرہ حویلی کے دروازے کے سامنے ملا۔ اس میں جو ویڈیو ریکارڈ تھی، وہ آج بھی یوٹیوب پر ہے — لیکن جو بھی اسے رات کے وقت دیکھتا ہے، وہ اگلی صبح تک بے ہوش ملتا ہے یا مکمل خاموش۔


ارسلان؟

وہ آج بھی زندہ ہے، مگر بولتا نہیں۔ صرف خالی نظروں سے خلا میں گھورتا ہے۔ اس کی ماں کہتی ہے، "وہ رات کو نیند میں چیختا ہے — کہتا ہے وہ مجھے لے جائیں گے، وہ پھر آئیں گے…"




اخلاقی سبق:


کچھ دروازے بند ہی اچھے لگتے ہیں۔ ہر سچ جاننے کے قابل نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی، خاموش نہیں رہتی۔

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا