اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ کہانی ایک چھوٹے سے قصبے کی ہے، جہاں ایک پرانی، سنسان حویلی واقع تھی۔ لوگ اسے "اندھی کوٹھری" کے نام سے جانتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ جو شخص اس حویلی میں رات گزارے، وہ یا تو پاگل ہو جاتا ہے یا پھر لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔
بیشتر لوگ ان باتوں کو خرافات سمجھتے تھے، لیکن کوئی بھی وہاں جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ حویلی کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، دروازہ زنگ آلود، اور دیواروں پر پرانی، مدھم ہو چکی سیاہی جیسے کچھ لکھا ہو — مگر سمجھ میں نہ آتا۔
ایک دن شہر سے ایک نوجوان صحافی، ارسلان، قصبے میں آیا۔ اس کا مقصد تھا کہ ان پراسرار کہانیوں کی حقیقت معلوم کرے۔ وہ ان باتوں کو بے بنیاد سمجھتا تھا اور اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیو بنانا چاہتا تھا۔
"یہ سب تمہیں مہنگا پڑے گا، بیٹا!" قصبے کے ایک بزرگ نے کہا۔
"جو کوٹھری ایک صدی سے بند ہے، اسے بند ہی رہنے دو۔"
لیکن ارسلان ہنسا، "بابا جی، میں ڈرنے والا نہیں۔ یہ سب لوگوں کی کہانیاں ہیں، حقیقت نہیں۔"
رات کے ساڑھے گیارہ بجے، کیمرہ اور ٹارچ کے ساتھ ارسلان حویلی کے اندر داخل ہوا۔ سیڑھیاں چرچرا رہی تھیں، فرش پر مٹی اور مکڑیاں تھیں۔ مگر اس کا اعتماد بلند تھا۔
کافی دیر تک کچھ نہ ہوا۔ وہ کمرے در کمرے جاتا رہا۔ پھر اچانک، اسے ایک دروازہ دکھائی دیا — آدھا کھلا ہوا، جس پر لکھا تھا:
"اس پار مت جانا"
ارسلان نے ٹارچ سے اندر جھانکا، وہاں ایک کوٹھری تھی — بالکل سیاہ، جیسے روشنی اندر جانے سے ڈرتی ہو۔
وہ ہنسا، "چلو، یہی تو اصل جگہ ہے۔"
جونہی وہ اندر داخل ہوا، دروازہ زور سے بند ہو گیا۔
اس نے گھبرا کر پلٹ کر دروازہ کھولنا چاہا، مگر وہ جام ہو چکا تھا۔ کیمرے کی لائٹ اچانک بند ہو گئی۔ ٹارچ جھپکنے لگی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔
پھر اسے کسی کے سانس لینے کی آواز سنائی دی۔ وہ آواز ارسلان کے بلکل قریب تھی — جیسے کوئی اس کے کان کے بالکل پاس کھڑا ہو۔
ایک کھردری، بھاری آواز گونجی:
"تمہیں خبردار کیا گیا تھ.."
ارسلان کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ وہ چلایا، "کون ہے؟ کیا چاہتے ہو؟"
کوئی جواب نہ آیا، مگر دیوار پر خودبخود خون سے ایک جملہ لکھا جانے لگا:
"تم بھی اب ہمارے ساتھ ہو"
پھر اچانک ایک پرانا منظر اس کے سامنے ابھرا — جیسے وہ وقت میں پیچھے چلا گیا ہو۔
کوٹھری میں ایک عورت قید تھی، اس کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے تھے۔ وہ چیخ رہی تھی، "مجھے چھوڑ دو! میں نے کچھ نہیں کیا!" اور ایک گروہ اسے جلا رہا تھا۔
یہ منظر اچانک غائب ہو گیا، اور پھر سناٹا۔ ارسلان کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
اسی لمحے، ایک آواز آئی:
"اسے بے گناہ مارا گیا… اب ہر نیا آنے والا اُس کی سزا بھگتے گا!"
ارسلان نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، دیواروں کو پیٹا، چیخا، مگر سب بے سود۔
پھر اچانک، کوٹھری کے ایک کونے سے آواز آئی، "اگر تم سچ کی قسم کھاؤ، اور سب کو یہ کہانی سناؤ، تو شاید وہ تمہیں معاف کر دے۔"
ارسلان نے روتے ہوئے کہا، "میں وعدہ کرتا ہوں، میں سب کو بتاؤں گا کہ یہاں کیا ہوا۔"
دروازہ ایک دھماکے سے کھل گیا۔ وہ حویلی سے باہر نکلا، لیکن اس کا چہرہ سفید، آنکھیں خوفزدہ، اور زبان گنگ تھی۔
قصبے والے کہتے ہیں کہ اگلی صبح ارسلان کا کیمرہ حویلی کے دروازے کے سامنے ملا۔ اس میں جو ویڈیو ریکارڈ تھی، وہ آج بھی یوٹیوب پر ہے — لیکن جو بھی اسے رات کے وقت دیکھتا ہے، وہ اگلی صبح تک بے ہوش ملتا ہے یا مکمل خاموش۔
ارسلان؟
وہ آج بھی زندہ ہے، مگر بولتا نہیں۔ صرف خالی نظروں سے خلا میں گھورتا ہے۔ اس کی ماں کہتی ہے، "وہ رات کو نیند میں چیختا ہے — کہتا ہے وہ مجھے لے جائیں گے، وہ پھر آئیں گے…"
کچھ دروازے بند ہی اچھے لگتے ہیں۔ ہر سچ جاننے کے قابل نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی، خاموش نہیں رہتی۔
Comments
Post a Comment