اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

ایک نیا جنم

 ایک نیا جنم




ندا اپنے چھوٹے سے کمرے میں اکڑوں بیٹھی موبائل کی اسکرین پر آنکھیں گڑائے تھی۔ کمرے کی دیوار پر لگے شہزادی والے پیسٹل رنگ کے پردے سے صبح کی دھیمی روشنی آ رہی تھی۔ اس کے سرہانے رکھی میز پر ناولوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا - "عشق نامہ"، "محبت کے ہزار رنگ"، "اور زندگی بدل گئی" جیسے مشہور ناولوں کے سرورق پر خوبصورت جوڑے تصویروں میں مسکراتے نظر آ رہے تھے۔  


وہ ایک کے بعد ایک رییلز دیکھ رہی تھی، ہر ایک میں محبت کے دل دہلا دینے والے مناظر، ہیرو کا ہیروئن کو بچانے کے لیے آنا، پھر دونوں کا ایک دوسرے کی آنکھوں میں گہرائی تک اتر جانا... ندا کا دل چاہ رہا تھا کہ کاش اس کی زندگی میں بھی ایسا ہو۔ وہ اپنے خیالوں میں کھو گئی تھی کہ اچانک ماں کی آواز نے اسے جھنجھوڑ کر حقیقت میں لے آنا۔  


**"ندا! اٹھو بیٹی! جلدی کرو! تمہارے لیے رشتے والے آئے ہیں! آج تو بڑے اچھے گھرانے کے لوگ آئے ہیں!"**  


ندا کا دل اچھل پڑا۔ اس کے ہاتھ سے موبائل گرا اور وہ بے اختیار چیخ اٹھی، **"اوہ ہو! واقعی؟"** اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ فوراً کھڑی ہوئی اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنے بالوں کو سنوارا، ہونٹوں پر ہلکا سا گلابی لپ اسٹک لگایا اور جلدی سے اپنی پسندیدہ گلابی شلوار قمیض پہن لی۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں۔ **"کہیں یہ میرے خوابوں والا ہیرو تو نہیں؟"** وہ سوچنے لگی جبکہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔  



کمرے سے باہر آتے ہوئے اس نے ایک بار پھر ناولوں کے ڈھیر کو دیکھا۔ کیا آج اس کی زندگی بھی کسی ناول جیسی ہونے والی تھی


بے چینی سے بھرے ملاقات کے کچھ گھنٹوں بعد، دونوں گھرانوں نے رضامندی دے دی۔ ندا کا دل خوشی سے پھولے نہ سماتا تھا - اس کا خواب پورا ہونے والا تھا! پورے گھر میں شادی کی تیاریوں کا ہنگامہ شروع ہو گیا۔  


**"اماں! یہ لہنگا دیکھو، کتنا حسین ہے!"** ندا نے جوش سے کہا، شاپنگ مال میں اپنی بہنوں کے ساتھ سیلون کے اندر گھومتی ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں چمکدار گارا کا لہنگا تھا، جس پر کندن کاری کی گئی تھی۔ ماں مسکرا کر دیکھتی رہی - اس کی بیٹی کو خوش دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔  


ہر روز نئی تیاریاں، نئی خریداریاں۔ مہندی، دولہا کی آمد، جہیز کی سجاوٹ... گھر کے ہر کونے میں خوشی کی رونق تھی۔ ندا کی چھوٹی بہنیں اس کے ساتھ گانے گاتیں، جبکہ وہ خود اپنے میک اپ اور بالوں کے ٹرائلز میں مصروف رہتی۔  


**"تم سچ میں بہت خوش قسمت ہو نداجی!"** اس کی سہیلیاں بار بار دہراتیں، **"دولہا تو بالکل فلمی ہیرو لگتا ہے! امیر گھرانہ، اچھی نوکری، اور اتنا خوبصورت چہرہ!"**  


ندا ہر بار شرم سے سر جھکا لیتی، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ بھی تھی۔ کیا واقعی اس کا ہونے والا شوہر اتنا ہی بہترین تھا جتنا سب بتا رہے تھے؟ کیا وہ اس کے خوابوں کے ہیرو جیسا ہو گا؟  


دن تیزی سے گزرتے گئے۔ جلد ہی وہ خاص دن آ پہنچا... شادی کی رات۔ ندا دل ہی دل میں ایک نئے جذباتی سفر کے لیے تیار تھی

شادی کے چند ہفتوں بعد ہی ندا کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ خواب جو اس نے ناولوں سے سجائے تھے، وہ سب چکنا چور ہو چکے تھے۔ اس کا شوہر - جو باہر سے اتنا خوبصورت اور خوش اخلاق نظر آتا تھا - درحقیقت نشے کی تاریکیوں میں گھرا ہوا تھا۔  


پہلی بار جب اس نے شراب کی بدبو سے لتپت سانسوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے دیکھا، ندا کا دل دھک سے رہ گیا۔ **"یہ... یہ کیا ہے؟"** وہ گھبرا کر بولی۔  


**"خاموش رہو! میری بیوی بنی ہو یا نہ بنی ہو، تمہیں میری زندگی پر کوئی اعتراض نہیں کرنا!"** اس کے شوہر نے غصے سے دھاڑتے ہوئے اسے دھکا دے دیا۔  


رات کے پچھلے پہر، جب پورا محلہ خاموش ہوتا، ندا کے گھر میں چیخ و پکار کی آوازیں گونجتیں۔ دیواروں سے ٹکراتے برتن، زور زور سے مار کھانے کی آوازیں، اور ندا کے روکنے کی التجا... لیکن کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔  


**"میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی!"** ایک دن ندا نے ہمت کر کے کہا تو اس کے شوہر نے طنزیہ مسکرا کر جواب دیا، **"جاؤ! دیکھتے ہیں تمہارا باپ تمہیں واپس لے گا یا نہیں۔ تمہاری 'بے عزتی' ہو چکی ہے معاشرے کی نظر میں۔"**  


ندا نے اپنے آنسو پی لیے۔ اسے معاشرے کے ڈر نے خاموش کر دیا۔ کیا واقعی وہ اس ظلم کو برداشت کرنے پر مجبور تھی؟ کیا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا؟  


ایک رات جب اس کے شوہر نے اسے معمول سے بھی زیادہ مارا، ندا زخموں سے چور ہو کر بستر پر گر پڑی۔ اس کی نظر اپنے خون آلود ہاتھوں پر پڑی جو کبھی ناولوں کے خواب سجاتی تھیں۔ **"کیا یہی میری تقدیر ہے؟"** اس نے سوچا، **"کیا میں واقعی اس سے نہیں نکل سکتی

وقت گزرتا رہا۔ ندا ہر روز اپنے شوہر کے ظلم کو سہتی رہی، اپنے آنسو چھپاتی رہی، اور معاشرے کے خوف سے خاموش رہی۔ وہ جانتے تھی کہ اگر وہ کچھ بولے گی تو لوگ اسے ہی قصوروار ٹھہرائیں گے۔ "بیوی ہو، صبر کرنا سیکھو"، "مردوں کے مزاج ہوتے ہیں"، یہ جملے اس کے کانوں میں گونجتے رہتے۔  


پھر ایک رات، اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ ندا کی نیند ٹوٹ گئی۔ فون پر اس کے شوہر کا دوست تھا، آواز میں گھبراہٹ۔  


**"ندا بھابھی، بھائی صاحب کو پولیس نے پکڑ لیا ہے... بازار میں سرعام شراب پی رہے تھے، شور مچا رہے تھے... انہوں نے ایک دکاندار سے جھگڑا کر لیا... پولیس آ گئی... ابھی تھانے میں ہیں!"**  


ندا کا دل دھڑکا۔ اس کے ہاتھ سے فون گرتے گرتے بچا۔ وہ فوراً تیار ہوئی، گھبرائی ہوئی، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کرے کیا۔ گھر والے بھی جاگ چکے تھے۔ سسرال والوں نے جلدی سے ایک وکیل کو فون کیا، رشوت کا بندوبست کیا، اور کچھ ہی گھنٹوں میں اس کے شوہر کو ضمانت پر رہا کروا لیا گیا۔


گھر کا دروازہ کھلا اور ندا کے شوہر نے اندر قدم رکھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، کپڑے میلا، اور چہرے پر کوئی شرم نہیں تھی۔ ندا کا غصہ پھٹ پڑا۔ وہ آگے بڑھی، اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔  


**"تمہیں کوئی شرم نہیں؟ تم نے آج پورے خاندان کو رسوا کر دیا! تم نے میری زندگی تباہ کر دی ہے!"** ندا چیخ اٹھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن غصہ اس سے بھی زیادہ تھا۔  


اس کے شوہر نے الٹا اس پر غصہ نکالا۔ **"تو؟ تمہیں کیا لینا دینا ہے؟ تم میری بیوی ہو، تمہارا کام خاموش رہنا ہے!"** اور پھر اس نے ندا کے بال پکڑے، زور سے جھٹکا دیا۔ ندا دیوار سے ٹکرائی اور گر پڑی۔  


**"بس! بس کرو! میں اب اور نہیں سہہ سکتی!"** ندا نے رو کر کہا۔  


لیکن گھر والوں نے اس کی حمایت نہ کی۔ ساس نے منہ بنایا۔ **"تمہیں شرم نہیں آتی؟ تمہارا شوہر اتنی بڑی مصیبت سے بچ کر آیا ہے اور تم اس کے منہ پر چیخ رہی ہو؟ بیوی ہو، صبر کرو!"**  


ندا نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ کیا یہی اس کی زندگی تھی؟ کیا اس کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا؟ کیا معاشرہ اسے صرف اس لیے مار کھاتے رہنے کو کہے گا کہ وہ ایک "بیوی" تھی؟  


اس رات، ندا نے اپنے خون آلود گھٹنوں کو دیکھا، اور پھر آئینے میں اپنا چہرہ۔ وہ چہرہ جو کبھی ناولوں کے خواب دیکھتا تھا، اب صرف ایک خوفزدہ، بے بس عورت کی تصویر تھا۔ 

ندا نے جب یہ کہا کہ وہ اب نہیں رہ سکتی، تو گویا اس نے اپنے شوہر اور سسرال والوں کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا۔ اس کی آواز میں جو بغاوت تھی، وہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔  



**"تم جاؤگی؟ ہمارے گھر سے؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟"** اس کے شوہر نے غصے سے دھاڑتے ہوئے اس کے بال پکڑے اور زور سے ہلا دیا۔ ندا گر پڑی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ **"میں نہیں رہنا چاہتی! مجھے جانے دو!"** وہ چلائی۔  


یہ سنتے ہی اس کے شوہر کا غصہ اور بھڑک اٹھا۔ **"تو لے اپنی آزادی!"** اور پھر اس نے مکے برسانے شروع کر دیے۔ ساس نے بھی ہاتھ بٹایا، **"تم نے ہمارے گھر کی عزت خاک میں ملا دی ہے!"** ندا کے جسم پر لاتوں، گھونسوں اور دھکوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ چیختی رہی، لیکن کسی نے نہ سُنا۔ آخرکار، شدید درد سے اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور وہ بے ہوش ہو کر فرش پر گر پڑی۔

ندا نے آنکھیں کھولی تو سفید چھت اور ایک نرس اس کے پاس کھڑی تھی۔ اس کا سر بھاری تھا، جسم میں ہر طرف درد تھا۔ نرس نے دیکھتے ہی ڈاکٹر کو بلایا۔ **"آپ ہوش میں آ گئی ہیں؟ آپ کو کیا تکلیف ہے؟"**  


ندا نے اپنے ہونٹ سُکڑے، آنسوؤں نے اس کے گال تر کر دیے۔ **"میں... میں گھر جانا چاہتی ہوں۔ اپنے ماں باپ کے پاس..."**  


ڈاکٹر نے اس کے چہرے پر زخموں کے نشان دیکھے، ہاتھوں پر نیل پڑے تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ کیا ہوا ہوگا۔ **"ہم نے آپ کے گھر والوں کو اطلاع دے دی ہے۔ آپ کے شوہر ابھی باہر ہیں۔"**  


ندا کا دل دھک سے رہ گیا۔ **"نہیں... میں ان سے نہیں ملنا چاہتی۔"** اس نے کمزور آواز میں کہا۔ **"براہ کرم، میرے والدین کو فون کر دیں۔"**  


ڈاکٹر نے سر ہلایا اور باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد، ندا کا موبائل لا کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے اپنے والد کو فون کیا۔ **"ابا... مجھے لے لو۔ میں اب اور نہیں رہ سکتی۔"**  


فون کے دوسری طرف سے خاموشی تھی، پھر اس کے والد کی آواز میں درد گونجا۔ **"ہم آ رہے ہیں بیٹا۔ اب کوئی تمہیں تکلیف نہیں دے گا۔"**  


ندا نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے لیے لمبا سفر اب ختم ہونے والا تھا۔ وہ جانتے تھی کہ معاشرہ کیا کہے گا۔ "طلاق ہو گئی؟ کیا بات ہے؟"، "لڑکی کو صبر نہیں تھا؟"، "شوہر کے ساتھ نہیں نبھایا؟"۔ لیکن اب وہ ان باتوں سے ڈرنے والی نہیں تھی۔

ندا کے والد اور بھائی ہسپتال پہنچ گئے۔ جب اس کے شوہر نے انہیں دیکھا تو وہ غصے سے بولا، **"آپ اپنی بیٹی کو لینے آئے ہیں؟ یاد رکھیں، اگر وہ یہاں سے گئی تو واپس نہیں آ سکے گی!"**  



ندا کے والد نے سکون سے جواب دیا، **"میرا بیٹا، تم نے اسے واپس آنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اب ہم اسے لے کر جا رہے ہیں۔"**  


ندا کو وہیل چیئر پر بٹھا کر ہسپتال سے باہر لایا گیا۔ دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ ایک لمحے کے لیے رکی، آنکھیں بند کیں، اور پھر کہیں دور دیکھنے لگی۔ 

ندا کی خلع ہو گئی تھی، لیکن اس کی جنگ ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ اپنے والدین کے گھر واپس آ گئی تھی، یہ سوچ کر کہ اب اسے سکون ملے گا۔ مگر معاشرے کا رویہ اور گھر کے اندر کی تلخیاں اس کے لیے نئے دکھوں کا سبب بن گئیں۔  


**"تمہاری وجہ سے ہمارے گھر کی عزت خاک میں مل گئی ہے!"** ندا کے بھائی نے ایک دن غصے سے کہا، جبکہ اس کی بھابی نے سر ہلا کر حقارت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ **"اب تمہارا کیا بنے گا؟ تم نے اپنی زندگی برباد کر لی، ہمارے سر پر بوجھ بن کر رہ گئی ہو!"**  


ندا کے والدین خاموش رہتے۔ ماں آنکھیں نم کر لیتی، باپ افسردہ نظروں سے دور کہیں دیکھتا رہتا۔ گھر کا ماحول اس قدر زہریلا ہو چکا تھا کہ ندا خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ ہر روز نئی طعنے، نئی باتیں۔  


**"تمہیں کچھ کام کرنا چاہیے! یہاں مفت نہیں بیٹھ سکتیں!"** بھابی نے ایک دن کہا، جبکہ ندا برتن دھو رہی تھی۔ **"تمہاری وجہ سے میرے شوہر پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے!"**  


ندا نے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا۔ اس کے اندر کا غصہ اور مایوسی بڑھتی جا رہی تھی۔ کیا واقعی اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی؟ کیا صرف اس لیے کہ اس نے ایک ظالم شوہر کو چھوڑ دیا تھا، وہ معاشرے اور اپنے ہی گھر والوں کے لیے بوجھ بن گئی تھی؟  


**ایک شام، کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے، ندا نے فیصلہ کیا۔**  


**"اب بس۔ میں اور نہیں سہہ سکتی۔"**  


اس نے اپنا ایک چھوٹا سا بیگ پیک کیا، کچھ ضروری سامان، اپنی تعلیمی ڈگریاں، اور تھوڑی بہت رقم جو اس نے چھپا کر رکھی تھی۔ اس رات، جب سب سو گئے، وہ خاموشی سے گھر سے نکل گئی۔ اس کے پاس کوئی واضح منزل نہیں تھی، لیکن اسے معلوم تھا کہ اگر وہ یہاں رہی، تو اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔  


**بس اسٹاپ پر کھڑی ندا نے اپنے فون سے ایک پرانی سہیلی کو میسج کیا:**  

**"میں کسی دوسرے شہر جا رہی ہوں۔ نوکری تلاش کروں گی۔ اب میں اپنی زندگی خود سنواروں گی۔"**  


بس آ گئی۔ ندا نے ایک گہری سانس لی اور اس میں بیٹھ گئی۔ پیچھے اس کا گھر، اس کے رشتے، اور وہ معاشرہ تھا جو اسے جینے نہیں دے رہا تھا۔

ندا نے اپنے گھر والوں کی بے رحمی سے تنگ آ کر اپنی منزل کی طرف سفر شروع کیا تھا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ راستے میں ایک ویران موڑ پر چوروں نے اسے گھیر لیا۔  


**"جو کچھ بھی ہے، نکالو!"** ایک درندہ صفت آواز گرجی۔  



atOptions = { 'key' : 'e76d8f7238fea9e917391cf1ae0fea86', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} };

ندا کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے اپنا بیگ ان کے حوالے کیا۔ چند سیکنڈوں میں، اس کی جمع پونجی، شناختی دستاویزات، حتیٰ کہ موبائل تک سب چھین لیا گیا۔ چوروں کے جانے کے بعد، ندا سڑک کنارے کھڑی تھی - بالکل تنہا، نہتھی اور بے یارومددگار۔  

ندا جب پیدل چلنے لگی تو اچانک پیچھے سے تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔ وہ بے ہوش ہو کر سڑک پر گر گئی۔ گاڑی والا موقعے سے فرار ہو گیا۔

سکندر نامی ایک نوجوان، جو اسی راستے سے گزر رہا تھا، نے دیکھا تو فوراً گاڑی روکی۔ اس نے ندا کو اپنی گاڑی میں سوار کیا اور قریبی ہسپتال لے گیا۔  

"ہم نے اپنی پوری کوشش کی، لیکن اس کے دونوں پیروں کو بچانا ممکن نہیں رہا۔" ڈاکٹر کا یہ جملہ سن کر سکندر کی آنکھیں نم ہو گئی

ندا کو ہوش آنے پر پتہ چلا کہ وہ ایک اجنبی کے گھر میں ہے۔ سکندر نے نہ صرف اس کا علاج کروایا، بلکہ اپنے والدین سے بھی ملوایا۔  


**"یہ لڑکی بہت مصیبت میں ہے، ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے"** سکندر نے اپنے والدین سے کہا۔  


سکندر کا خاندان ندا کو اپنی بیٹی کی طرح چاہنے لگا۔ اس کے لیے خصوصی وہیل چئیر کا بندوبست کیا گیا۔ سکندر کی ماں روزانہ اس کی دیکھ بھال کرتی، جبکہ اس کے والد نے اسے حوصلہ دیا:  


**"بیٹی، معذوری زندگی کا اختتام نہیں۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔"**  

چند ہفتوں میں، ندا نے اپنی نئی زندگی کو قبول کرنا شروع کیا۔ سکندر نے اسے کمپیوٹر سکھانا شروع کیا۔ ایک دن اس نے ندا سے کہا:  


**"تمہاری آواز بہت پیاری ہے۔ کیا تم آن لائن ٹیچنگ کرنا چاہو گی؟"**  



ندا کی آنکھوں میں پہلی بار خوشی کی چمک لوٹ آئی۔ شاید یہی اس کی نئی منزل تھی - ایک ایسی جگہ جہاں اسے واقعی پیار ملا تھا۔  

ندا اب ایک نئی زندگی گزار رہی تھی۔ سکندر کے گھر میں اسے جو پیار اور تحفظ ملا تھا، وہ اس کے خوابوں سے بھی بڑھ کر تھا۔ مگر جب ایک دن سکندر نے اس کے سامنے نکاح کا پیغام رکھا، تو ندا کا دل دھڑکنا بند سا ہو گیا۔  


**"تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو؟"** ندا نے حیرت سے پوچھا، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے یقینی تھی۔ **"لیکن... میں تمہارے قابل نہیں ہوں، سکندر۔ میں ایک ناکام شادی سے گزر چکی ہوں۔ میری معذوری... میں تمہارے ساتھ زندگی کے ہر موڑ پر ساتھ نہیں دے سکوں گی۔ تمہیں تو کوئی بھی خوبصورت، صحت مند لڑکی مل سکتی ہے۔"**  


ندا کی آواز کانپ رہی تھی۔ وہ جانتے تھی کہ معاشرہ کیا کہے گا – "لنگڑی لڑکی سے شادی؟"، "کسی اور کی چھوڑی ہوئی عورت کو اپنایا؟"۔ لیکن سکندر کے چہرے پر کوئی شکوہ نہیں تھا، بس ایک گہرا عزم تھا۔  


**"ندا، تم نے جو کہا، وہ سب درست نہیں۔"** سکندر نے نرمی سے کہا، اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔ **"تم نہ تو ناکام ہو، نہ کسی کے 'قابل نہیں'۔ تم نے جو صبر اور ہمت دکھائی، وہ کسی ہیروئن سے کم نہیں۔ اور رہی بات معذوری کی... کیا محبت صرف چلنے پھرنے سے ہوتی ہے؟"**  


ندا آنسوؤں سے نہیں روک سکی۔ سکندر کی باتیں اس کے دل میں اتر رہی تھیں۔ وہ بھی تو اسے چاہنے لگی تھی – اس کی ہنسنی، اس کی مہربانی، اس کا وہ جذبہ جس نے اسے دوبارہ جینے کی راہ دکھائی تھی۔  


**"لیکن... تمہارے والدین؟ معاشرہ؟"** ندا نے گھبرا کر پوچھا۔  


سکندر مسکرایا۔ **"میرے والدین تو تمہیں پہلے ہی بیٹی مان چکے ہیں۔ اور معاشرہ... معاشرے کو وہی دکھائی دیتا ہے جو ہم دکھانا چاہیں

چاندنی رات تھی۔ ندا نے سفید رنگ کا سادہ سا لباس پہنا تھا، اس کے ہاتھوں میں مہندی کے پیچیدہ نقش تھے۔ سکندر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وعدہ کیا: **"میں تمہاری زندگی کو ناول سے بھی خوبصورت بناؤں گا۔"**  


اور پھر، سکندر نے صرف وعدہ ہی نہیں کیا، اس نے پورا کیا۔  

- سکندر نے ندا کو مزید پڑھنے کے لیے ایک اچھے کوچنگ سینٹر میں داخل کروایا۔  

- اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے، اس کے لیے ایک آن لائن بک اسٹور کھولوا دیا جہاں وہ ناول بیچتی اور کتابوں پر تبصرے لکھتی۔  

- ہفتے میں ایک بار، وہ اسے شہر کی لائبریری لے جاتا، جہاں ندا نئی کتابیں پڑھ کر اپنی دنیا کو وسعت دیتی۔  


**ایک دن، ندا نے سکندر سے پوچھا:** **"تم نے میری زندگی بدل دی۔ میں تمہارے لیے کیا کر سکتی ہوں؟"**  



سکندر نے اس کی وہیل چئیر کے سامنے گھٹنے ٹیکے، اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا: **"تم نے میری زندگی کو معنی دے دیے ہو۔ بس یہی کافی ہے

ندا کی زندگی اب واقعی ایک ناول کی طرح تھی – جہاں درد کے بعد خوشی تھی، تنہائی کے بعد محبت تھی۔ وہ جانتے تھی کہ معذوری اس کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی طاقت بن گئی تھی۔ اور سکندر؟ وہ نہ صرف اس کا شوہر تھا، بلکہ اس کا ہیرو، اس کا سہارا، اور اس کی نئی زندگی کا سب سے خوبصورت باب تھا۔  

ندا کی زندگی اب ایک سچے خواب کی مانند تھی۔ اللہ نے اسے سکندر جیسے شفیق شوہر کے بعد ایک اور انمول تحفہ دیا - ایک چمکتا ہوا بیٹا، جس کی آمد نے اس کے گھر کو مزید رونق بخش دی۔    

ندا اپنے چھوٹے سے گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھتی، جہاں سورج کی روشنی پودوں پر پڑ رہی ہوتی۔ اس کا بیٹا اس کی گود میں کھیل رہا ہوتا، اور سکندر کہیں قریب ہی بیٹھا ان دونوں کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہوتا۔ وہ لمحے جنہیں وہ کبھی ناولوں میں پڑھا کرتی تھی، اب اس کی اپنی زندگی کا حصہ تھے۔   

- صبح سویرے بچے کی مسکراتی شکل دیکھ کر آنکھ کھلنا  

- سکندر کے ہاتھ کا بنا کافی کا کپ اور ان کی روز کی پلاننگ  

- اپنے آن لائن بک اسٹور کو سنبھالنا، جہاں اب وہ نہ صرف کتابیں بیچتی بلکہ اپنی کہانی بھی لوگوں سے شیئر کرتی  

- شام کو خاندان کے ساتھ پارک میں چہل قدمی، جہاں سکندر ندا کی وہیل چئیر کو خود دھکیلتا  

جو لوگ کبھی ندا کو حقارت سے دیکھتے تھے، آج وہی اس کی کامیابی کی داستانیں سناتے:  

**"دیکھو ندا نے کیسے اپنی زندگی بدلی!"**  

**"معذوری کے باوجود اس نے ہار نہیں مانی!"**    

ایک دن جب اس کا بیٹا چلنا سیکھ رہا تھا، ندا نے سکندر سے کہا:  

**"تم نے نہ صرف میری زندگی بدلی، بلکہ مجھے وہ سب کچھ دیا جو میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔"**  


سکندر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:  

**"ہماری کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ آگے اور بھی خوبصورت لمحے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔"**  



**ختم شد**  


(ندا اور سکندر کی یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، ایمانداری، ہمت اور محبت سے ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا