اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ماہ نور ایک ادب کی طالبہ تھی، کتابوں کی دیوانی۔ وہ ہمیشہ نایاب اور پرانی کتابوں کی تلاش میں رہتی۔
ایک دن اسے اپنے شہر کے ایک پرانے کتب خانے کا ذکر ملا — "ناظم لائبریری" — جو گزشتہ 40 سال سے بند تھی۔
کہا جاتا تھا کہ وہاں موجود آخری کتاب کو کبھی نہیں کھولا گیا کیونکہ جس نے بھی کھولا، وہ زندہ نہ بچ سکا۔
ماہ نور نے فیصلہ کیا:
"میں وہ کتاب تلاش کروں گی!"
لائبریری پر زنگ آلود قفل تھا۔ ماہ نور نے رات کے وقت چوری چھپے دروازہ کھولا۔
اندر ہر چیز دھول سے اٹی ہوئی تھی، مگر کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں — جیسے کوئی آج بھی ان کی دیکھ بھال کرتا ہو۔
ایک ٹیبل پر سرخ چمڑے کی جلد والی ایک کتاب رکھی تھی، جس پر نہ عنوان تھا نہ مصنف کا نام۔
بس سنہری الفاظ میں ایک جملہ لکھا تھا:
ماہ نور نے جیسے ہی کتاب کھولی، ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور تمام کھڑکیاں خود بخود بند ہو گئیں۔
کتاب کی پہلی سطر تھی:
اچانک اردگرد کی دیواریں دھندلی ہونے لگیں، اور ایک نئی دنیا نمودار ہوئی — سیاہ آسمان، خاموش عمارتیں، اور کتابوں کے صفحے جو فضا میں اڑ رہے تھے۔
یہ لائبریری کا اندرونی جہان تھا… کتابوں کی روحوں کا قیدخانہ۔
ایک لمبی قامت والا سایہ ماہ نور کے سامنے آیا۔ اس کے ہاتھوں میں زنجیریں تھیں، اور آنکھوں میں خالی پن۔
"تم نے آخری کتاب چھوئی… اب تم وہ علم رکھتی ہو جو ممنوع ہے!"
ماہ نور نے پوچھا:
"اگر یہ علم خطرناک ہے تو اسے یہاں کیوں رکھا گیا؟"
سایہ بولا:
"کیونکہ کچھ انسان خود تباہی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔"
ماہ نور کے پاس دو راستے تھے:
1. کتاب کو دوبارہ بند کرے اور خود اس دنیا میں قید ہو جائے تاکہ باقی دنیا بچ جائے۔
2. کتاب لے کر واپس جائے، مگر ایک نئی لعنت دنیا پر چھوڑ دے۔
ماہ نور نے قربانی دی…
کتاب بند کی…
اور لائبریری کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گئی۔
اختتام: آج کی دنیا میں
اب ناظم لائبریری کے دروازے پر نیا تالا ہے۔
"یہاں کچھ بھی مت کھولو — یہاں ماہ نور قید ہے، اور وہ تمہیں متوجہ کر سکتی ہے!"
اور اگر کوئی سرخ کتاب دکھائی دے…
تو آنکھیں بند کر کے وہاں سے چلے جاؤ… ورنہ تم اگلے قیدی ہو گے!"تم اب دیکھو گی… جو کبھی نہ دیکھا!"
اچانک اردگرد کی دیواریں دھندلی ہونے لگیں، اور ایک نئی دنیا نمودار ہوئی — سیاہ آسمان، خاموش عمارتیں، اور کتابوں کے صفحے جو فضا میں اڑ رہے تھے۔
یہ لائبریری کا اندرونی جہان تھا… کتابوں کی روحوں کا قیدخانہ۔
Comments
Post a Comment